مظفرآباد،لاہور (نیشنل ٹائمز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا۔کشمیر میں سب کچھ ہے ایک ہی کمی ہے کہ نوازشریف کی حکومت نہیں ، مخالفین کی دوڑیں لگ گئی ہیں اور کانپیں ٹانگ رہیں لیکن اب کشمیر کے اصل وارث کشمیر آگئے ہیں۔ میرپور کی گھن گرج بتا رہی ہے شیر آ نہیں رہا شیر آچکا ہے ، میں محاورتاً نہیں خون سے کشمیری ہوں ، ابھی الیکشن نہیں ہوا اور میں دس الیکٹرک بسوں کا تحفہ میرپور لے کر آئی ہوں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے کا وعدوں کرتی ہوں۔ میر پور آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ جتنی گرمی میں آج میرپور میں لوگ جلسے میں آئے ہیں پورے کشمیر میں شیر کامیاب ہوگا، میرپور والوں کا جذبہ بتا رہا ہے آزادکشمیر میں شیر آچکا ہے ،مظفر آباد میں بارش کے باوجود عوام ن لیگ کے جلسے میں موجود رہے ، آج میں میرپور نہیں باپ دادا کے گھر آئی ہوں۔ میرپور میں اچھے گھر بنے ہوئے ہیں لیکن افسوس سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ میرپور میں بھی ترقی کے چراغ جلیں، نوازشریف نے گاڑی میں متعدد بار کہا کہ کتنا خوبصورت خطہ ہے ، آپ کا جذبہ بتارہا ہے کہ کشمیر کے اصل وارث کشمیر آگئے ہیں، انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گے ۔
کشمیر میں وسائل اور جذبہ کی کمی نہیں ، بہترین انفرا سٹرکچر کی کمی ہے ، آزاد کشمیر میں سیاحت سے ترقی اورہر مشکل حل ہو سکتی ہے ۔ آزاد کشمیر کو بہترین ہسپتالوں اور سڑکوں کی ضرورت ہے ، آزادکشمیر میں ہماری کچھ عرصے کی حکومت تھی، تنقید کرنا آسان ہوتا ہے ،ن لیگ کے سوا کوئی جماعت بتادیں اگر کشمیر میں ایک اینٹ بھی لگائی ہو، جو سہولیات ہم پنجاب میں دے رہے ہیں الیکشن جیت کر آزاد کشمیر میں بھی د ینگے ،دیانتداری سے کام کیا جائے تو آزاد کشمیر 5 سال میں پنجاب سے آگے نکل سکتا ہے ، آزاد کشمیر میں سیف سٹی اور اپنی چھت اپنا گھر منصوبہ ہونا چاہیے ، سوچ سمجھ کر ووٹ دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر ترقی کو ترس جائیں، دیگر صوبے کے لوگ کہتے ہیں پنجاب کی وزیراعلیٰ ہمیں دے دیں، کیا پنجاب کے لوگوں نے کبھی کہا ہے کہ دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ ہمیں دیں؟ ،دریں اثنا مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول برخوردار ! کشمیر کو کشمور اور میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا،بلاول بھائی میری بات کا برا بھی نہیں ماننا یہ نوک جھوک پارٹیوں میں ہونی چاہیے ، مار کٹائی نہیں،آزاد کشمیر کیلئے میری حکومت کے بعد کسی بھی حکومت نے کچھ نہیں کیا اور موٹروے کا منصوبہ پورا نہیں کیا، بتائیں (ن )لیگ کے سوا کسی نے آزاد کشمیر کیلئے کچھ کیا ہو؟ ہم یہ عہد لے کر آئے ہیں کہ میرپور اور آزاد کشمیر کی تقدیر بدل دیں گے ، آپ کوہربڑے ترقیاتی منصوبوں پر ن لیگ کی مہرنظرآئے گی ۔
میرپور اتنا خوب صورت شہر ہے لیکن جتنا خوب صورت ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہے اور اپنے دور کے میرے کام ادھورے پڑے ہوئے پروان نہیں چڑھ سکے ۔ میرے وزارت عظمیٰ سے جانے کے بعد میں خاموش رہا لیکن کشمیر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، میں ان حکومتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو نواز شریف کی حکومت کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں آئیں انہوں نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا ہے اگر کچھ کیا ہے تو مجھے بتاؤ۔ کشمیر میں اپنا گھر سمجھتا ہوں، کشمیر میرا پہلا گھر ہے ، مجھے لاہور بھی پیارا اور کشمیر بھی اتنا ہی پیارا ہے ، ہماری اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیم دینا ہے ، یہاں سکول اور یونیورسٹیاں بنیں گی اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، مریم نواز پنجاب میں دل اور کینسر کے ہسپتال بنا رہی ہیں ، میں شہباز شریف اور مریم سے کہوں گا کہ یہاں کے ہر ہسپتال میں وہی کچھ ہونا چاہیے جو پنجاب میں ہے ، یہ لوگ علاج معالجے کے لیے اسلام آباد نہ جائیں۔ جو الیکٹرک بسیں لاہور میں چلتی ہیں مریم نواز یہاں بھی لے کر آئی ہیں، ہسپتال آن ویلز بھی آئیں گے ، اگر یہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کا وزیراعظم بنتا ہے تو میں اس کے ساتھ خود چل کر آزاد کشمیر کے چپہ چپہ جاؤں گا اور اپنی نگرانی میں کام کراؤں گا اور منشور کی تکمیل ہوگی۔



