چین کی ترقی مغربی بیانیے کی نفی اور طرز حکمرانی کے حوالے سے اہم بصیرت فراہم کرتی ہے، برطانوی سیاست دان

شنگھائی (شِنہوا) برطانیہ کے سابق رکن پارلیمان جارج گیلووے نے کہا ہے کہ چین کی ترقی نے مغربی سیاسی اور اقتصاادی نظاموں کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے جبکہ طرز حکمرانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے حوالے سے اہم بصیرت بھی فراہم کی ہے۔
ورکرز پارٹی آف برطانیہ کے بانی اور رہنما گیلووے نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ مغرب میں اس بات کے بارے میں “شدید لاعلمی” پائی جاتی ہے کہ چین کا سیاسی نظام کیسے کام کرتا ہے اور اس کے عوام پورے عمل پر مبنی عوامی جمہوریت پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں جمہوریت کی تعریف زیادہ تر اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ ووٹر ہر چند سال بعد مختلف سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں، لیکن حکومت کی تبدیلی کے باوجود اکثر بنیادی پالیسیوں یا ریاست کی مجموعی سمت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آتی۔
گیلووے نے کہا کہ “مغرب میں آپ سیاسی جماعت تو بدل سکتے ہیں، لیکن پالیسی نہیں بدل سکتے۔”
انہوں نے کہا کہ چین کا عوام دوست سیاسی نظام عوام کی ضروریات اور امنگوں کے مطابق ہے اور انہیں موثر پالیسیوں میں ڈھالتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور اقتصادی نظاموں کا جائزہ ان کے نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ “اپنی آنکھوں سے نظر آنے والا ثبوت یہی ہے کہ چین کا نظام موثر انداز میں کام کر رہا ہے۔”
گیلووے نے کہا کہ چین پر مغرب کی زیادہ تر تنقید دراصل اس بے چینی کی عکاس ہے جو چین کی ترقی اور بہت سے مغربی ممالک کو درپیش اقتصادی، سماجی اور سیاسی مسائل کے درمیان واضح فرق کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “چین پر ان کا اعتراض یہ ہے کہ چین کا نظام کام کر رہا ہے، جبکہ ان کا اپنا نظام کام نہیں کر رہا۔ ان کا نظام ناکامی پیدا کر رہا ہے، جبکہ چینی نظام کامیابی دے رہا ہے اور یہی حقیقت وہ قبول نہیں کر سکتے۔”
گیلووے نے کہا کہ “چین کی کامیابی کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔”
انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابیوں کے پیچھے ایک اور اہم عنصر اس کی بیرونی مداخلت سے آزاد خودمختاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ “میرے نزدیک سب سے بڑا سبق خودمختاری ہے۔ اگر آپ کے پاس خودمختاری نہیں تو پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا سیاسی نظریہ کیا ہے۔ چین خودمختار ہے اور اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔”
اس کے برعکس گیلووے نے کہا کہ بہت سے یورپی ممالک اپنی پالیسی سازی کی آزادی کا بڑا حصہ کھو چکے ہیں اور ایسے موقف اختیار کر رہے ہیں جو ضروری نہیں کہ ان کے قومی مفادات کے مطابق ہوں۔
انہوں نے کہا کہ “ہر یورپی ملک کو چین کی ضرورت ہے۔” بہت سی یورپی معیشتیں چین کے ساتھ تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اس کے باوجود ان کی حکومتیں چین کو “خطرہ” قرار دینے کی کوششوں میں شامل رہتی ہیں۔ ان کے خیال میں ایسے موقف آزادانہ فیصلے کی عکاسی نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک چین کے ساتھ مستحکم تعلقات برقرار رکھنے میں مضبوط اقتصادی مفاد رکھنے کے باوجود بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت کا حصہ بن گئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے گیلووے نے کہا کہ چین کی صنعتی تبدیلی غیر معمولی ہے، کیونکہ یہ ملک ٹیلی کمیونیکیشنز، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں دنیا کے نمایاں رہنماؤں میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت پرانے عالمی نظام سے ایک نئے عالمی نظام کی جانب ایک مشکل عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی پرامن ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آیا مغربی طاقتیں زیادہ کثیر القطبی دنیا کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔



  تازہ ترین   
دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے جہاں بھی موجود ہوں انہیں ختم کیا جائے گا: فیلڈ مارشل
مضبوط دفاع کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر ینگے : شہباز شریف
وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کی مذمت
پاکستان سمندری اثاثوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے: دفتر خارجہ
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشیں، 43 افراد جاں بحق، 177 زخمی، کئی گھر منہدم
مستونگ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
صدر آصف زرداری کی مون سون میں تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت
امریکا کی ایک بار پھر ایران پر بمباری، اسفالٹ پلانٹ اور بجلی کے سب سٹیشن نشانہ بنے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر