بیجنگ (شِنہوا) چین کی قومی توانائی انتظامیہ (این ای اے) نے کہا ہے کہ چین نے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران قابل تجدید توانائی کی ترقی کا منصوبہ باضابطہ طور پر جاری کر دیا ہے۔
یہ دستاویز قومی ترقی واصلاحات کمیشن اور قومی توانائی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے۔ دستاویز کے مطابق اس عرصے میں چین کا قابل تجدید توانائی کا شعبہ وسعت، معیار میں بہتری اور توانائی کے قابل اعتماد متبادل کے نئے مرحلے میں داخل ہوگا۔
دستاویز کے مطابق 2030 تک قابل تجدید توانائی کی مجموعی کھپت تقریباً 1.8 ارب ٹن معیاری کوئلے کے مساوی تک پہنچنے کی توقع ہے۔
2030 تک قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت تقریباً 3.5 ارب کلوواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ بجلی کی سالانہ پیداوار تقریباً 60 کھرب کلوواٹ آور ہوگی۔ ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی مشترکہ نصب شدہ صلاحیت 2.8 ارب کلوواٹ سے تجاوز کر جائے گی جبکہ ان دونوں ذرائع سے بجلی کی سالانہ پیداوار 40 کھرب کلوواٹ آور سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔
دستاویز کے مطابق قابل تجدید توانائی سے مراد وہ توانائی ہے جو قدرتی عمل کے ذریعے نسبتاً کم مدت میں مسلسل دوبارہ پیدا اور بحال ہوتی رہتی ہے۔ اس میں پن بجلی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی، شمسی توانائی، حیاتیاتی توانائی، ارضی حرارت سے حاصل ہونے والی توانائی اور سمندری توانائی شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق نئی توانائی سے مراد پن بجلی کے علاوہ تمام قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہیں۔
چین نے قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لئے نیا پانچ سالہ منصوبہ جاری کر دیا



