آہ امیرالعظیم بھی چلے گے

تاثرات: مظہر طفیل

امیرالعظیم بھی آخرکار اس ابدی سفر پر روانہ ہوگئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ یہ دنیا فانی ہے، یہاں ہر آنے والے نے ایک دن اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ یہی وہ اٹل حقیقت ہے جس پر ہر مسلمان کا ایمان قائم ہے کہ زندگی ایک امانت ہے، انسان کو ایک مقررہ وقت، مخصوص ذمہ داریوں اور متعین فرائض کے ساتھ دنیا میں بھیجا جاتا ہے، اور جب وہ اپنی ذمہ داری پوری کر لیتا ہے تو خالقِ کائنات اسے اپنے پاس واپس بلا لیتا ہے۔ امیرالعظیم کی رحلت بھی اسی اٹل حقیقت کا حصہ ہے، لیکن بعض لوگ اپنے جانے کے بعد بھی محض ایک نام نہیں رہتے بلکہ ایک کردار، ایک روایت، ایک خوشبو اور ایک مثال بن جاتے ہیں۔ امیرالعظیم انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں سیاست کو نفرت کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت، اخلاص، محبت، برداشت اور انسان دوستی کا وسیلہ بنایا۔ جماعت اسلامی سے ان کی وابستگی بے مثال تھی، وہ اپنے نظریے پر پوری استقامت کے ساتھ قائم رہے، مگر ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ انہوں نے کبھی نظریاتی اختلاف کو انسانی تعلقات کی دیوار نہیں بننے دیا۔ ان کے نزدیک انسان، اس کی عزت، اس کی تکریم اور اس کا دکھ ہر سیاسی وابستگی سے بڑھ کر تھا۔ وہ اپنے دوستوں سے بھی محبت کرتے تھے اور اپنے مخالفین کے لیے بھی دل میں احترام اور ہمدردی رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے مخالفین بھی ان کی شخصیت کا احترام کرتے تھے اور انہیں ایک باکردار، باوقار اور نفیس انسان کے طور پر یاد کرتے تھے۔ میرا ان کے ساتھ تعلق نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط تھا۔ انیس سو چھیاسی میں جب میں نے سینٹرل ماڈل اسکول لوئر مال لاہور سے میٹرک کیا تو اسی زمانے میں ان سے قربت پیدا ہوئی۔ میرے والد، ممتاز صحافی ایم طفیل، اس وقت روزنامہ جنگ لاہور کے اداریہ نگار تھے۔ وہ دور جنگ اخبار کے عروج کا زمانہ تھا، جب اس کے ادارتی صفحات پر ایڈیٹوریل اور مضامین پورے ملک میں رائے عامہ کی تشکیل کرتے تھے۔ انہی دنوں امیرالعظیم، سید سلیمی، لیاقت بلوچ اور حافظ سلمان بٹ جماعت اسلامی کی نوجوان قیادت کے نمایاں ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ وہ نسل تھی جو نظریاتی سیاست کے ساتھ ساتھ علمی، فکری اور اخلاقی میدان میں بھی اپنی شناخت بنا رہی تھی۔ مجھے نوّے کی دہائی کا وہ خوبصورت مگر ہنگامہ خیز دور آج بھی پوری شدت سے یاد ہے، جب ہمارے لاہور والے گھر میں ہر ہفتے ملک کے ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کی ایک باوقار نشست سجتی تھی۔ اس محفل میں ارشاد احمد حقانی، منو بھائی، امیرالعظیم، لیاقت بلوچ، قاضی حسین احمد، مجیب الرحمٰن شامی، عباس اطہر، عبدالقادر حسن اور دیگر کئی نامور اہلِ قلم اور اہلِ فکر شریک ہوتے تھے۔ میری مرحومہ والدہ نہایت محبت اور خلوص سے ان معزز مہمانوں کے لیے افغانی پلاؤ تیار کیا کرتی تھیں، جسے سب بے حد رغبت سے کھاتے تھے، جبکہ قاضی حسین احمد کو تو میری والدہ کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا غیر معمولی طور پر پسند تھا۔ ان ہفتہ وار نشستوں کی خدمت اور مہمان نوازی کی ذمہ داری زیادہ تر میرے سپرد ہوتی تھی، اسی باعث امیرالعظیم صاحب کے ساتھ میرا تعلق وقت کے ساتھ مزید گہرا اور بے تکلف ہوتا چلا گیا۔ اُس زمانے میں، جب میں ایک بائیں بازو کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف سے وابستہ تھا، وہ ہمیشہ ایک بڑے بھائی اور شفیق سرپرست کی حیثیت سے مجھے سمجھاتے کہ نظریات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر تعلیم، کردار اور اعتدال ہر سیاسی وابستگی سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ وہ بارہا نصیحت کرتے کہ کسی بھی طلبہ تنظیم کا حصہ بنو، مگر کبھی انتہاپسندی، تشدد اور نفرت کو اپنے قریب نہ آنے دینا اور اپنی اصل توجہ تعلیم پر رکھنا۔ ایک مرتبہ جامعہ میں مخالف طلبہ تنظیموں کے درمیان شدید تصادم برپا ہوگیا، جس میں میں بھی گھِر گیا۔ جیسے ہی امیرالعظیم صاحب کو اس واقعے کی اطلاع ملی، وہ فوراً اپنے دفتر سے نکل کر جامعہ پہنچے۔ اس وقت ہر طرف افراتفری، اشتعال اور خوف کی کیفیت تھی، مگر انہوں نے کسی خطرے کی پروا کیے بغیر ہجوم میں آکر میرا ہاتھ پکڑا، مجھے وہاں سے بحفاظت نکالا، اپنی گاڑی میں بٹھایا اور فوراً وہاں سے لے گئے۔ بعد میں انہوں نے نہایت شفقت، محبت اور خیرخواہی کے ساتھ مجھے ڈانٹا بھی اور سمجھایا کہ ایسے تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے، طالب علم کا اصل میدان علم، تحقیق اور کردار سازی ہے، نہ کہ تشدد اور خونریزی۔ چونکہ وہ خود بھی طلبہ سیاست کے ایک تجربہ کار رہنما رہ چکے تھے، اس لیے انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ حالات کس رخ پر جا رہے ہیں۔ وہ دور ایسا تھا جب لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد سمیت پورا خطہ طلبہ تنظیموں کی خونی کشمکش کی لپیٹ میں تھا۔ ایم ایس ایف طاقت اور دولت کے زور پر بے لگام گھوڑا بن چکی تھی، جس کی وجہ سے آئے روز نوجوان جانوں کا ضیاع ہو رہا تھا اور بے شمار معصوم طلبہ سیاسی تصادم کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ ایسے نازک حالات میں امیرالعظیم صاحب نے نہ صرف میری رہنمائی کی بلکہ میری فکری تربیت بھی کی، مجھے تشدد اور انتہاپسندی کے راستے سے دور رکھا اور مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ علم ہی وہ سرمایہ ہے جو انسان کو عزت، وقار اور حقیقی کامیابی عطا کرتا ہے۔ آج جب میں ماضی کے ان لمحوں کو یاد کرتا ہوں تو دل بے اختیار گواہی دیتا ہے کہ امیرالعظیم واقعی ایک عظیم انسان، وسیع القلب شخصیت، مخلص رہنما اور ایسی شفیق ہستی تھے جنہوں نے صرف نصیحت نہیں کی بلکہ عملی طور پر نوجوانوں کو سنبھالا، ان کی حفاظت کی اور انہیں زندگی کا صحیح راستہ دکھایا۔ امیرالعظیم اکثر میرے والد مرحوم ایم طفیل کے پاس آیا کرتے، بڑی عاجزی کے ساتھ بیٹھتے، سوال کرتے، سیکھتے، مشورہ لیتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ ایک مضبوط مضمون کیسے لکھا جاتا ہے، دلیل کو کس طرح مؤثر بنایا جاتا ہے اور حقائق کو کس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ قاری کے ذہن پر دیرپا اثر چھوڑیں۔ ان میں سیکھنے کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ وہ کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ ایک ابھرتے ہوئے سیاسی رہنما ہیں، بلکہ ہمیشہ ایک طالب علم کی طرح علم حاصل کرتے تھے۔ یہی انکساری ان کی شخصیت کا سب سے قیمتی سرمایہ تھی۔ انہوں نے صحافت اور سیاست دونوں کو قریب سے دیکھا، مگر دونوں میدانوں میں تہذیب، شائستگی اور دلیل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کا تعلق صحافی برادری سے انتہائی گہرا تھا۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے نظریات اس وقت کی کئی سیاسی اور فکری جماعتوں سے مختلف تھے، لیکن اس اختلاف نے کبھی ان کے تعلقات میں تلخی پیدا نہیں کی۔ منو بھائی، عباس اطہر، مجیب الرحمٰن شامی، ارشاد احمد حقانی، اور بے شمار ایسے صحافی جو مختلف فکری مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے، سب کے ساتھ ان کے احترام، محبت اور خلوص پر مبنی تعلقات تھے۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے قائل نہیں تھے بلکہ ان کا یقین تھا کہ نظریات اپنی جگہ اور انسان اپنی جگہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہر محفل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب کشش تھی۔ وہ جب کسی سے ملتے تو مسکراہٹ ان کے چہرے کا مستقل حصہ ہوتی۔ گفتگو میں شائستگی، لہجے میں نرمی اور رویے میں خلوص نمایاں ہوتا۔ وہ کبھی کسی کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی سیاسی مخالف بھی کسی مشکل میں ہوتا تو امیرالعظیم اس کی مدد کے لیے سب سے پہلے آگے بڑھتے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں انتقام کی سیاست نہیں کی بلکہ مفاہمت، برداشت اور خیرخواہی کو فروغ دیا۔ ان کی یہی خوبی انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی تھی۔ لاہور کی طلبہ سیاست کے وہ ایک اہم کردار تھے۔ خصوصاً اسی کی دہائی میں جب جامعہ پنجاب اور لاہور کے دیگر تعلیمی ادارے شدید کشیدگی کا شکار تھے، مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم معمول بن چکا تھا، نوجوان جانوں کا ضیاع ہو رہا تھا، ماحول نفرت اور انتقام سے بھر چکا تھا، ایسے نازک وقت میں امیرالعظیم نے اختلاف ختم کرنے، خونریزی روکنے اور مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کبھی اپنے نظریے سے دستبرداری اختیار نہیں کی، مگر انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بھی امن اور برداشت کی بات کی جاسکتی ہے۔ یہی اصل سیاسی بصیرت ہوتی ہے کہ انسان اپنے عقیدے اور نظریے پر ثابت قدم رہے مگر دوسروں کے جینے کے حق کا بھی احترام کرے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کی وابستگی صرف تنظیمی نہیں بلکہ قلبی اور فکری تھی۔ قاضی حسین احمد کے ساتھ ان کا تعلق محض امیر اور کارکن کا نہیں بلکہ استاد اور شاگرد، رفیق اور محرمِ راز جیسا تھا۔ قاضی حسین احمد ان کی صلاحیتوں، اخلاص اور دیانت کا بے حد احترام کرتے تھے اور جماعت کے اندر انہیں ہمیشہ اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بعد میں آنے والی جماعت کی قیادت کے ساتھ بھی ان کے تعلقات محبت، احترام اور وفاداری پر مبنی رہے۔ انہوں نے جماعت کو کبھی ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ جماعت کی خدمت کو عبادت سمجھا۔ وہ منصب کے طالب نہیں تھے بلکہ ذمہ داری کو امانت سمجھتے تھے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اصولی سیاست محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے زندہ رہتی ہے۔ امیرالعظیم کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی خاموش خدمت تھی۔ بے شمار ایسے صحافی، دوست، کارکن اور ضرورت مند لوگ تھے جن کی انہوں نے مالی مدد کی، مگر کبھی کسی کو اس کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ وہ دکھاوے کے سخت مخالف تھے۔ اگر کسی کے گھر میں فاقہ ہوتا، کسی کی ملازمت ختم ہو جاتی یا کوئی صحافی معاشی مشکلات کا شکار ہوتا تو وہ خاموشی سے اس کے دروازے تک پہنچ جاتے۔ نہ تصویر بنواتے، نہ اعلان کرتے اور نہ احسان جتاتے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ نیکی وہی ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بے شمار لوگ ان کی رحلت پر اشک بار ہیں، کیونکہ انہوں نے صرف تقریریں نہیں کیں بلکہ لوگوں کے دکھ بانٹے۔ زندگی کے آخری مرحلے میں جب انہیں سرطان جیسے جان لیوا مرض نے آ لیا تو انہوں نے اس آزمائش کو بھی اسی وقار کے ساتھ قبول کیا جس وقار کے ساتھ پوری زندگی گزاری تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی ترین دوستوں کو بھی اپنی بیماری کی شدت کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ ہمیشہ مسکراتے ہوئے کہتے، “دعا کیا کرو”، مگر کبھی اپنی تکلیف کا شکوہ نہیں کیا۔ تقریباً دو ماہ قبل جب ان کی شدید علالت کا علم ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ سرطان جیسے مہلک مرض سے نبرد آزما ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے چہرے کی مسکراہٹ ماند نہیں پڑی۔ ان کے لبوں پر کبھی شکوہ نہیں آیا، ان کی زبان پر کبھی مایوسی نہیں آئی اور ان کے لہجے میں کبھی بے صبری نہیں دیکھی گئی۔ گویا انہوں نے بیماری کو بھی صبر، رضا اور توکل کے ساتھ جینے کا نام دے دیا تھا۔ یہی دراصل ایک صاحبِ ایمان کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ خوشی میں شکر اور آزمائش میں صبر کا دامن نہیں چھوڑتا۔ امیرالعظیم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت دولت، منصب یا شہرت میں نہیں بلکہ کردار، اخلاص، محبت، برداشت، علم، خدمت اور انسان دوستی میں ہے۔ وہ ایسے سیاست دان تھے جنہوں نے سیاست کو عبادت سمجھا، ایسے کارکن تھے جنہوں نے جماعت کو اپنا گھر سمجھا، ایسے صحافی دوست تھے جنہوں نے قلم کی حرمت کا احترام کیا، ایسے انسان تھے جنہوں نے مخالف کو بھی گلے لگایا، ایسے بیمار تھے جنہوں نے بیماری کو بھی وقار کے ساتھ برداشت کیا اور ایسے مسلمان تھے جنہوں نے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر سرِ تسلیم خم رکھا۔ آج جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں تو ان کی یادیں، ان کی مسکراہٹ، ان کا خلوص، ان کی شائستگی، ان کی دردمندی، ان کی خاموش خدمت اور ان کی نظریاتی استقامت ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ضرور ہو جاتے ہیں مگر اپنے کردار کی روشنی سے آنے والی نسلوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ امیرالعظیم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اختلاف کے باوجود محبت، سیاست کے باوجود انسانیت اور نظریے کے ساتھ ساتھ اخلاق، برداشت اور خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور آخرت میں بھی اپنے رب کی رضا کا مستحق بنتا ہے۔



  تازہ ترین   
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب
صدر مملکت اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ
آزاد کشمیر الیکشن کا پہلا مرحلہ، پولنگ کے وقت میں توسیع، بھمبر میں ایک پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر