تیانجن (شِنہوا) چین کے شمالی شہر تیانجن کے رہائشی لیو کے نے حال ہی میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ایک آن لائن پلیٹ فارم کے مصدقہ سٹور سے بی وائی ڈی کی نئی توانائی والی استعمال شدہ گاڑی خریدی ہے۔
لیو نے کہا کہ ’’میرے گھر میں پہلے ہی ایک پٹرول سے چلنے والی گاڑی موجود ہے۔ یہ استعمال شدہ این ای وی بنیادی طور پر مختصر فاصلے کے عام سفر کے لئے ہے کیونکہ یہ چلانے میں سستی اور مناسب قیمت میں مل جاتی ہے۔ پلیٹ فارم نے گاڑی کے معائنے کی کافی تفصیلی رپورٹ بھی فراہم کی ہے۔
چین بھر میں صارفین کی کثیر تعداد استعمال شدہ گاڑیوں کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ 2026 کی ’چائنہ یوزڈ کار کانفرنس‘ میں سامنے آنے والے ایک اعداد و شمار نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے جس کے مطابق پہلی بار نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی فروخت کا تناسب تقریباً برابر ہو گیا ہے جو ایک واضح ثبوت ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی منڈی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2026 کے پہلے پانچ مہینوں میں نئی گاڑیوں کی پرچون فروخت 81 لاکھ 48 ہزار یونٹس تک پہنچ گئی تھی جبکہ اسی عرصے کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت 80 لاکھ 95 ہزاریونٹس تک جا پہنچی۔
اس نمو میں این ای وی کا شعبہ نمایاں رہا۔ گاڑیوں کی معلومات اور تجارتی پلیٹ فارم ’ڈونگ چھیدی‘ کے استعمال شدہ گاڑیوں کے شعبے کے سربراہ ژاؤ ژی فینگ نے کہا کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں استعمال شدہ این ای ویز کے لئے آن لائن براؤزنگ اور خرید و فروخت میں اضافہ ملکی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ رہا۔ اس دوران استعمال شدہ این ای ویز کا انتخاب کرتے وقت صارفین کی ترجیحات میں چند قابل ذکر تبدیلیاں آئی ہیں۔
ژاؤ نے کہا خریدار محض سستی گاڑی تلاش کرنے کے بجائے اب معیار، بیٹری کی حالت اور دوبارہ فروخت کی قدر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ماضی میں استعمال شدہ این ای وی کے خریدار زیادہ تر قیمت پر توجہ دیتے تھے لیکن اب بیٹری، موٹر اور الیکٹرانک کنٹرول سسٹم کی معائنہ رپورٹس اور وارنٹی کا بھی خیال رکھتے ہیں۔
چین میں 2026 کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی فروخت نئی گاڑیوں کے تقریباً برابر آگئی



