مجھے کیوں نکالا؟ ایک تنقیدی جائزہ

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کوئی ایک جملہ برسوں تک قومی سیاست کا استعارہ بنا رہا تو وہ سابق وزیرِ اعظم محترم آلِ شریف میاں نواز شریف کا یہ سوال تھا: “مجھے کیوں نکالا؟” یہ سوال انہوں نے متعدد عوامی اجتماعات، جلسوں اور تقاریر میں دہرایا اور اسے اپنی سیاسی جدوجہد کا مرکزی بیانیہ بنایا۔ لیکن ایک تنقیدی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس سوال کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں نکالا گیا، بلکہ یہ ہے کہ ان کے ادوارِ حکومت کی معاشی، سیاسی اور انتظامی پالیسیوں نے پاکستان کو کہاں پہنچایا، اور ان کے نتائج کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کا بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھا، توانائی کے شعبے میں ایسے معاہدے کیے گئے جن کے مالی اثرات آج بھی قومی معیشت اور بجلی کے تمام صارفین پر محسوس کیے جاتے ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے، ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا۔ معیشت کی بنیاد پیداواری شعبوں، برآمدات، روزگار اور صنعتی ترقی کے بجائے ایسے مالیاتی اشاریوں پر رکھی گئی جن سے عام شہری کی زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔ حصص بازار میں تیزی کو ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا، مگر کیا حصص بازار کا بڑھنا لازماً عوامی خوشحالی کی علامت ہوتا ہے؟ جب تک صنعت، زراعت، تعلیم، صحت، روزگار اور سرمایہ کاری میں حقیقی بہتری نہ آئے، اس وقت تک معاشی ترقی کے دعوے ادھورے رہتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے ناقدین کے مطابق پاکستان کی معیشت میں مصنوعی استحکام پیدا کرنے کی کوششیں وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے سکتی ہیں، لیکن ان کے طویل المدتی نتائج عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں بھگتنا پڑتے ہیں۔ سیاسی میدان میں بھی ناقدین متعدد سوالات اٹھاتے ہیں۔ اگر آج جمہوریت، آئین اور ووٹ کے احترام کی بات کی جاتی ہے تو ماضی میں منتخب حکومتوں کے خلاف اختیار کیے گئے احتجاجی رویوں، سیاسی محاذ آرائی، ہڑتالوں اور سخت سیاسی زبان کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ احتجاجی سیاست، حکومتوں کے خلاف تحریکیں اور سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہا، تاہم ناقدین کے مطابق مسلم لیگ (ن) بھی اس روایت کا حصہ رہی ہے۔ میاں نواز شریف کے اس بیانیے کا کہ “مجھے کیوں نکالا؟” اور اس کے ساتھ پاکستان میں احتجاج اور انتشار کی سیاست کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں احتجاج کی سیاست، انتشار کی سیاست، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست اور ہڑتالوں کی سیاست کے محرک میاں نواز شریف تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو وزیرِ اعظم بنیں تو اس وقت میاں نواز شریف وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھے، اور اس وقت انہوں نے نہ صرف ان کا سیاسی بائیکاٹ کیا بلکہ جب وہ بطور وزیرِ اعظم لاہور آتیں تو نواز شریف، وزیرِ اعلیٰ ہونے کے باوجود، ان کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہیں جاتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف مواقع پر بینظیر بھٹو کی وفاقی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے مختلف احتجاجی تحریکوں کا آغاز کیا، جن میں لانگ مارچ، ٹرین مارچ، تاجروں کی ہڑتالیں، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست، انتشار کی سیاست اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف سخت ترین زبان کا استعمال شامل تھا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے لیے اسامہ بن لادن سے مالی امداد جس طریقے سے حاصل کی گئی، وہ بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ پیپلز پارٹی کے خلاف نواز شریف کا طرزِ عمل ان کے وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بھی جاری رہا، اور بعد میں بھی اسی روش کو برقرار رکھا گیا۔ جب میاں نواز شریف وزیرِ اعظم بنے تو اس وقت بھی انہوں نے پیپلز پارٹی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے بجائے ہر ممکن کوشش کی کہ اسے سیاست سے ناک آؤٹ کیا جائے اور اس کا ناطقہ بند کر دیا جائے۔ اسی طرح جنرل مشرف کے دور میں جب چارٹر آف ڈیموکریسی طے پایا تو اس کی خلاف ورزی بھی میاں نواز شریف نے اس وقت کی، جب یوسف رضا گیلانی کی حکومت قائم ہوئی۔ تو میمو گیٹ اسکینڈل کے دوران یہی میاں نواز شریف جنرل پاشا کے سہولت کار بن کر کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ چلے گئے، حالانکہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ کسی فوجی حکومت یا کسی فوجی افسر کے آلۂ کار نہیں بنیں گے، مگر میمو گیٹ اسکینڈل میں انہوں نے وہی کردار ادا کیا، اور یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ میں سرنڈر کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں وزارتِ عظمیٰ سے فارغ کر دیا گیا۔ اس تمام عمل کے محرک بھی میاں نواز شریف تھے۔ اگر ان کے سیاسی کردار کا بغور جائزہ لیا جائے، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا کردار سیاہ ترین نظر آتا ہے۔ صرف چہرہ ان کا سفید ہے، مگر ان کا سیاسی کردار انتہائی بھیانک رہا ہے۔ یہ وہی نواز شریف ہیں جو بھارتی صحافیوں کو مری اور رائیونڈ، جاتی امرا میں فوج مخالف انٹرویو دیتے تھے، اور بڑے فخر سے میاں نواز شریف اور ان کی جماعت فوج کو رگڑا لگانے میں پیش پیش رہے۔ نوجوانوں کو فوج کے خلاف ورغلانے میں سب سے زیادہ بھیانک کردار نواز شریف کا ہی رہا ہے۔ آج اگر پاکستان میں انتشار کی سیاست، احتجاج کی سیاست اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس کے محرک عمران خان نہیں بلکہ میاں نواز شریف ہیں، کیونکہ سیاست میں یہ وطیرہ انہوں نے متعارف کرایا۔ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ پاکستان کے تمام ریاستی ادارے، بشمول پاکستان کی فوج، آلِ شریف اور رائیونڈ کے تابع رہیں اور اپنے آئینی اور حلفی فرائض کے بجائے صرف آلِ شریف کی خدمت کریں۔ یہ کسی بھی قسم کی اپوزیشن کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، اور یہی طرزِ عمل ان کی بیٹی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، میں بھی نظر آتا ہے۔ وہ بھی اپوزیشن کو برداشت نہیں کرتیں اور ایک جمہوری حکمران کے بجائے ایک سخت گیر اور آمرانہ کردار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ پنجاب میں انہوں نے عام لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، شہروں اور بازاروں کو خوبصورتی کے نام پر ہزاروں لوگوں کا روزگار چھین لیا ہے، پیرا فورسز جیسے بےرحمانہ ادارے قائم کر کے نہ صرف لوگوں کا روزگار متاثر کیا بلکہ ان کی زندگیاں بھی اجیرن کر دی ہیں، مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس سب کے باوجود آج بھی وہ یہی سوال کرتے ہیں: “مجھے کیوں نکالا؟” اسی طرح ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ مختلف ادوار میں ریاستی اداروں، خصوصاً فوج کے بارے میں اختیار کیے گئے سخت مؤقف اور بعد ازاں انہی اداروں کے ساتھ مفاہمت کی سیاست سیاسی تضاد کا تاثر پیدا کرتی ہے۔ اصولی سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ بیانیے وقتی سیاسی مفاد کے بجائے مستقل اصولوں پر قائم ہوں، مگر میاں نواز شریف کی سیاست اور ان کے سیاسی بیانیے اس سے مکمل متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب میں موجودہ حکمرانی کے حوالے سے بھی مختلف اعتراضات سامنے آتے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں، سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں کے خلاف مہمات، بازاروں میں سخت انتظامی اقدامات اور چھوٹے کاروباروں پر پابندیوں کے باعث ہزاروں خاندانوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف قانون نافذ کرنا نہیں، بلکہ متبادل روزگار اور باعزت ذریعۂ معاش کی فراہمی بھی ہے تاکہ غریب آدمی کا رزق متاثر نہ ہو۔ اسی طرح تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی بتدریج بیرونی انتظام کے سپرد کیے جانے کی پالیسی، سرکاری جامعات میں کم ہوتا ہوا داخلہ، خالی رہ جانے والی ہزاروں نشستیں، مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں کی مسلسل کمی اور نوجوانوں کا تعلیم سے بڑھتا ہوا عدم اعتماد ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان، دیہی مراکزِ صحت کی کمزور حالت، ادویات کی کمی اور سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ریاست اپنے بنیادی سماجی فرائض پوری طرح ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ معاشی میدان میں بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ، مہنگائی، بے روزگاری، بلند توانائی نرخ، ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور عام آدمی کی گرتی ہوئی قوتِ خرید بھی ناقدین کے نزدیک انہی پالیسیوں کے نتائج ہیں جن پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر عوام کی اکثریت اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو، نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے کو ترجیح دیں، اور سرمایہ کاری و صنعت سست روی کا شکار ہو جائیں، تو یہ کسی بھی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ ہر حکمران اپنی کارکردگی، فیصلوں اور پالیسیوں کے بارے میں عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ایک سیاسی رہنما یہ سوال کرتا ہے کہ “مجھے کیوں نکالا؟” تو عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ سوال کریں: ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں، مہنگائی، معاشی مشکلات، کمزور ہوتے سرکاری اداروں، تعلیم و صحت کے بحران، روزگار کی کمی اور عوامی اعتماد میں کمی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب کسی بھی جمہوری معاشرے میں صرف سیاسی نعروں سے نہیں، بلکہ شفاف حکمرانی، مؤثر کارکردگی اور عوامی فلاح کے عملی اقدامات سے دیا جاتا ہے۔ تاریخ بھی آخرکار افراد کے بیانیوں سے زیادہ ان کی حکمرانی کے نتائج کو یاد رکھتی ہے، اور قومیں بھی اپنے حکمرانوں کا فیصلہ نعروں سے نہیں، بلکہ عوامی زندگی میں آنے والی حقیقی بہتری یا بگاڑ کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ لہٰذا ابھی بھی وقت ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت بلاشبہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اس وقت وہ اقتدار میں ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر عوام دوست پالیسیوں کا انعقاد کریں، اپنے ماضی پر فخر کرنے کے بجائے شرمندگی کا اظہار کریں، اپنی سیاسی غلطیوں کا کھلے دل سے اعترافِ جرم کریں، ملک و قوم کے لیے اپنی بیرونِ ملک تمام جائیدادیں اور کاروبار پاکستان منتقل کریں، اور اپنے بیٹوں کی برطانوی شہریت کو ختم کروا کے انہیں فی الفور دوبارہ ایک عام پاکستانی شہری بنانے پر رضامند کریں۔ یقین جانیں، جس دن محترم میاں نواز شریف نے یہ کارنامے سر انجام دے دیے، وہ اور ان کی آئندہ آنے والی کئی نسلیں ہمیشہ کے لیے اقتدار میں ہی رہیں گی۔ میاں نواز شریف کا یہ احسانِ عظیم پاکستانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، اور اس کا صلہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ کریمہ میاں نواز شریف اور ان کے تمام اہلِ خانہ پر ہمیشہ اپنی رحمت کرتے ہوئے تا قیامت جاری رکھے گی۔ یہاں خواب ٹوٹ گیا اور آنکھ کھل گئی، کہانی ختم۔



  تازہ ترین   
ثالثوں کی امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کیلئے کوششیں
ایرانی حملوں سے 2 ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے: پینٹاگون
امریکی صدر نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا
فیلڈ مارشل سے کینیڈین وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق
امریکا کے مسلسل دسویں رات حملے، ایران کی کویت اور بحرین میں جوابی کارروائی
امریکا کے ساتھ مکمل جنگ کی حالت میں ہیں، ہمیں حقیقت پسند ہونا ہوگا: ایرانی صدر
عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے حصص بازاروں کو ہلا کر رکھ دیا
پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر