لان ژو (شِنہوا) حالیہ لان ژو سرمایہ کاری و تجارتی میلے میں پہلی بار شرکت کرنے والے پاکستانی تاجر محمد عامر بین الاقوامی خریداروں کے ہجوم کو اپنے ہاتھ سے تراشیدہ قیمتی پتھر کے فن پارے متعارف کراتے ہوئے مسلسل پسینہ پونچھ رہے تھے۔32 واں لان ژو سرمایہ کاری و تجارتی میلہ 9 جولائی کو چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے دارالحکومت لان ژو میں شروع ہوا۔ اس تقریب کے دوران متعدد پاکستانی کاروباری نمائندوں نے دوطرفہ تجارت مضبوط بنانے اور باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کے حصول کے لئے بہت زیادہ توقعات کا اظہار کیا۔عامر نے کہا کہ یہ میلہ پاکستانی دستکاری کو فروغ دینے کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں نے چین بھر میں کئی نمائشوں میں شرکت کی، یہاں میرا پہلا موقع ہے اور اتنی زیادہ دلچسپی رکھنے والے بہت سے خریداروں کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا ہے کہ لان ژو اور مغربی چین میں کاروبار کرنے کی صلاحیت لا محدود ہے۔ایک اور پاکستانی نمائش کنندہ عبدالباسط نے بھی اسی امید کا اظہار کیا۔ کئی برسوں سے مسلسل اس میلے میں شرکت کرنے والے عبدالباسط گانسو اور مغربی چین میں ترقی کے امکانات پر بہت زیادہ پر اعتماد ہیں۔باسط نے کہا کہ چینی صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمارے بہت سے جیڈ کے فن پاروں میں روایتی چینی علامات جیسے پیونی یعنی ایک پھول اور کدو شامل کئے گئے جو خوش قسمتی اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران اس میلے کے ہر ایڈیشن میں لاکھوں یوآن کی مصنوعات فروخت کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔اس سال میلے میں پاکستان کو بطور مہمان ملک کا اعزاز حاصل ہے اور پویلینز کے اندر اور باہر پاکستانی تاجروں کی متحرک موجودگی گانسو اور پاکستان کے درمیان گہرے ہوتے اقتصادی تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔ حالیہ برسوں میں گانسو اور پاکستان نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور مویشی پالنے کے شعبوں میں تعاون کو مستقل طور پر بڑھایا ہے۔لان ژو کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ممالک بشمول پاکستان کے ساتھ گانسو کا درآمدی اور برآمدی حجم 50.21 ارب یوآن (تقریباً 6.94 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا جو صوبے کی کل غیر ملکی تجارت کے 70 فیصد سے زائد ہے۔ پاکستان جیسے بی آر آئی شراکت دار ممالک کی منڈیاں موثر طریقے سے گانسو کی کھلی معیشت کو چلانے کا مرکزی انجن بن چکی ہیں۔2026 چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کا سال بھی ہے، چین میں تعینات پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے بھی میلے میں شرکت کی اور پاکستانی اداروں اور گانسو کی کمپنیوں کے درمیان قریبی ہم آہنگی سے عملی سرمایہ کاری کے لئے بہت زیادہ توقعات کا اظہار کیا۔ہاشمی نے کہا کہ اس ایڈیشن میں 20 سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور 50 برانڈز شرکت کر رہے ہیں جو خوراک اور مشروبات، ٹیکسٹائل، معدنی وسائل، دستکاری، چمڑے کی مصنوعات اور کھیلوں کے سامان جیسے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔لان ژو میلہ 1993 میں اپنے آغاز کے بعد سے گانسو کی سب سے بڑی، اعلیٰ سطح اور سب سے زیادہ بااثر بین الاقوامی تجارتی نمائش کے طور پر مغربی چین کے دروازے کھولنے، علاقائی صنعتی انضمام اور چین اور غیر ملکیوں کے مابین عملی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
پاک۔چین کہانیاں|پاکستانی کاروباری ادارے چین کے مغربی علاقے میں نئے مواقع تلاش کرنے میں سرگرم



