اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ملک میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش سنگین بحران کے پیشِ نظر جڑواں شہروں کے سینئر، پروفیشنل اور نظریاتی صحافیوں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس سلسلے کی پہلی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے مین ہال میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کے صدر طارق عثمانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا ورکرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں رضوان غلزئی، مدثر الیاس کیانی، عبد الوحید جنجوعہ، خالد مالک،قیصر مرزا، فرخ نواز بھٹی، اسحاق چوہدری، مالک جنید، ابرار احمد، محمود خان،رضوان قاضی، رانا طارق، زبیر، طیّب گلفام، صدیق انظر، عامر نیازی، فیصل، بابر،عادل شاہ، مجاہد بھٹی، عائشہ ناز، صائمہ صدیق اور دیگر رہنماؤں نے یونین کا حصہ بننے والے سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا پروفیشنلز، جن میں حسن خان، مظہر طفیل، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، سہیل انجم ملک، نعیم اللہ یوسفزئی، حسنہ خٹک، محمد لطیف، لیاقت علی، نوید جاوید، سدرہ پرویز، محمد عثمان، نازیہ آصف، فراز خٹک، نوید احمد، رضوان علی شاہ، ثاقب خٹک، سید رسول بٹانی، امجد گل، حذیفہ شہسوار اور دیگر شامل تھے، کو پھولوں کے ہار پہنا کر خوش آمدید کہا۔

سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میڈیا انڈسٹری اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمتوں کا عدم تحفظ اور آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں صحافی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں صحافیوں کا اتحاد ہی ان کی اصل طاقت ہے اور یہی اتحاد انہیں ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔ شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر کے کارکن صحافیوں کے آئینی، قانونی، پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا مالکان کی جانب سے لیبر قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی برطرفیوں اور واجبات کی عدم ادائیگی جیسے مسائل پر کسی قسم کی خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے خلاف منظم اور بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے تمام صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنی نمائندہ تنظیموں کو مضبوط کریں تاکہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جا سکے۔

صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس طارق عثمانی نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ہمیشہ کارکن صحافیوں کی حقیقی نمائندہ تنظیم رہی ہے اور آئندہ بھی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، جبری برطرفیاں اور معاشی عدم استحکام انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحافی آج متحد نہ ہوئے تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آر آئی یو جے ہر مظلوم صحافی کی آواز بنے گی اور کسی بھی کارکن صحافی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ قیصر مرزا نے کہا کہ صحافت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سینئر اور نوجوان صحافی ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوط کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر فورم پر صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔

سینیئر صحافی حسن خان نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنانا ہوگی اور اتحاد کے ذریعے آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے RIUJ کی اس مہم کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہمیشہ صحافیوں کے اتحاد، آزادیٔ صحافت اور کارکن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام صحافتی تنظیموں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط تنظیم، مستقل جدوجہد اور باہمی اعتماد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب ہر اس مثبت اقدام کا ساتھ دے گا جو صحافی برادری کے مفاد، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ وقار کے لیے ہو۔

اس موقع پر مظہر طفیل، فرخ نواز بھٹی، اشفاق بنگش، شاداب خٹک، حسنہ خٹک، عبد الوحید جنجوعہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کو متحد ہو کر اپنے حقوق، آزادیٔ صحافت اور روزگار کے تحفظ کی جنگ لڑنا ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میڈیا ورکرز کے استحصال، غیر قانونی اقدامات اور آزادیٔ اظہار پر قدغن کے خلاف ہر سطح پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
تقریب کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگست کے پہلے ہفتے سے صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کے خاتمے اور میڈیا ورکرز کے استحصال کے خلاف منظم تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری کے وقار، اتحاد اور پیشہ ورانہ آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔



