دہشت گردی کی نٸی لہر اور قومی سلامتی

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جغرافیہ، سیاست، معیشت اور سلامتی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کو اپنی آزادی کے بعد سے مسلسل اندرونی اور بیرونی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ آج بھی ملک ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی کی نئی لہر ریاستی اداروں، عوام اور قومی ترقی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن، علاقائی سیاست اور بین الاقوامی مفادات کی کشمکش نے پاکستان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان حالات میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاک۔افغان سرحدی علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور ریاستی خودمختاری کا بھی امتحان ہیں۔ حالیہ دنوں بلوچستان کے ضلع زیارت میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والا دہشت گرد حملہ، جس میں تیرہ سے زائد اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، پوری قوم کے لیے باعثِ رنج ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں، عام شہریوں اور قومی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں اس امر کی غماز ہیں کہ دہشت گرد عناصر بدامنی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سوات، بنوں، شمالی وزیرستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ایک تشویشناک صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ ان تمام حالات میں پاکستان کی پولیس، فوج، سرحدی محافظ، انٹیلی جنس ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ریاست کی حفاظت کر رہے ہیں۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف طویل عرصے سے یہ رہا ہے کہ بعض دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں، سہولت کاری یا معاونت میسر آتی ہے، جس کے باعث وہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ ان خدشات کا اظہار کر چکا ہے اور اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے، باڑ کی تنصیب، نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک صرف ہتھیاروں کی طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکتا، بلکہ قومی اتحاد، سیاسی استحکام، مضبوط معیشت اور عوام کے اعتماد سے ہی ریاستیں مضبوط ہوتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار، قبائلی عمائدین، صحافی، اساتذہ، علما اور عام شہری اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، اگرچہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ دوسری جانب جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کی سیاست بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات، سرحدی کشیدگی اور دفاعی مقابلہ آرائی خطے کے امن پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے مختلف مراحل سامنے آئے، جنہوں نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد جارحیت نہیں بلکہ قومی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ اور خطے میں امن کا قیام ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اسی تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج، فضائیہ اور بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو ملک کی دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ تینوں افواج باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں دفاعی تیاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستان کے لیے سفارت کاری بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی عسکری تیاری۔ چین کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی شراکت داری، اقتصادی تعاون اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک طویل المدت تعاون کو اہمیت دیتے ہیں۔ چین نے مختلف مواقع پر پاکستان کی معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں تعاون کیا ہے، جبکہ پاکستان بھی خطے میں اقتصادی روابط اور امن کو فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور معاشی تعلقات بھی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں، اگرچہ مستقبل میں کسی بھی علاقائی اتحاد یا بلاک کی نوعیت کا تعین وقت، سفارت کاری اور ریاستوں کے باہمی فیصلوں سے ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا اس وقت ایک نئے تزویراتی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے مفادات، علاقائی تعاون، اقتصادی راہداریوں، توانائی کے منصوبوں اور سلامتی کے تقاضوں نے اس پورے خطے کو عالمی سیاست کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی سلامتی کو مضبوط بناتے ہوئے علاقائی تعاون، متوازن سفارت کاری اور قومی اتحاد کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنائے، کیونکہ مضبوط ریاست ہی اپنے عوام کو امن، ترقی اور خوشحالی فراہم کر سکتی ہے۔



  تازہ ترین   
بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت، 4 روز میں 54 دہشتگرد مارے گئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی، وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا: ٹرمپ
آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتِحال عبوری معاہدے کو غیر مؤثر بنا رہی ہے: ایران
غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا، جھکیں گے نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش کیلئے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری
امریکا کے ایران پر حملہ کے بعد اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
پاسداران انقلاب کا امریکی حملوں کا تباہ کن جواب دینے کا اعلان
ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر