اسلام آباد، لاہور (نیشنل ٹائمز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ جیل میں قید تنہائی اور بنیادی سہولیات سے محرومی کے ذاتی تجربات نے انہیں جیل اصلاحات کی ضرورت کا احساس دلایا، قید تنہائی کے ذہنی اثرات کا خود تجربہ کیا، جس کے بعد پنجاب کی جیلوں میں جدید اصلاحات متعارف کرائیں۔دوسری طرف انہوں نے پنجاب کے مزید چھ اضلاع میں الیکٹرک بس سروس کا افتتاح کردیا اور اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں الیکٹرک بسوں کی تعداد مرحلہ وار بڑھا کر 5 ہزار تک پہنچائی جائے گی جبکہ ہر ضلع اور تحصیل تک جدید، ماحول دوست اور کم خرچ پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔
اسلام آباد میں جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی ،اڈیالہ جیل میں انہیں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے ذہنی دباؤ، طبی سہولیات کی کمی، پرائیویسی کے فقدان اور دیگر مشکلات کا سامنا کیا۔جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، مجھے جیل جاکر احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے ۔ مجھے جس سیل میں رکھا گیا اس کے ساتھ کم عمر بچوں کا سیل تھا، سیل سے روز بچوں کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر شوگر کم ہونے کے باوجود مدد کیلئے کوئی موجود نہ تھا جبکہ بیمار والدہ سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل کی تکلیف وہی سمجھ سکتا ہے جس پر یہ وقت گزرتا ہے ، اسی لئے پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کیلئے ویڈیو لنک، ایمرجنسی بٹن اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ انہیں باوقار اور بہتر ماحول میسر آ سکے ۔خطاب سے پہلے مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری چلوائی۔دوسری جانب پنجاب کے مزید چھ اضلاع میں الیکٹرک بس سروس کے افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اٹک، خوشاب، بھکر، خانیوال، منڈی بہاء الدین اور حافظ آباد میں جدید الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہو گئی ہیں، جہاں شہری صرف 20 روپے کرائے میں سفر کر سکیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال مزید 1500 بسیں شامل ہونے سے مجموعی تعداد 3 ہزار تک پہنچ جائے گی، جبکہ آئندہ مرحلے میں اسے 5 ہزار تک بڑھایا جائے گا۔ ان کے بقول پنجاب کے تمام 147 تحصیلوں تک یہ سہولت مرحلہ وار پہنچائی جائے گی تاکہ عوام کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولت میسر آ سکے ۔ادھر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ازبکستان کی خودمختار ریاست قراقلی پاقستان کے کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین فرخد ارمانوف کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علیشیر توختایوف بھی شریک تھے ۔
ملاقات میں پنجاب اور قراقلی پاقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، لائیوسٹاک، ٹیکسٹائل، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو قراقلی پاقستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں شمولیت اور دورے کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ دونوں فریقین نے لاہور اور نوکوس کو جڑواں شہر (سسٹر سٹیز) قرار دینے ، پاکستانی کاشتکاروں کے لیے آلو کی کاشت کی زمین فراہم کرنے اور ازبکستان کی سالانہ 30 ہزار مویشیوں کی طلب پنجاب سے پوری کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے اور پاکستان و ازبکستان کے درمیان تجارتی راہداری اور علاقائی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔



