تحریر: منظر نقوی
تاریخ میں بعض شخصیات محض سیاسی رہنما نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک نظریہ، ایک تحریک اور ایک قومی عزم کی علامت بن جاتی ہیں۔ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ بھی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ملک کو بے شمار داخلی و خارجی چیلنجز سے نکالا بلکہ استقامت، خود انحصاری، قومی خودمختاری اور اسلامی اقدار پر مبنی ایک ایسے نظریے کو فروغ دیا جو آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے مشعلِ راہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی شہادت بلاشبہ ایران، عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے آزادی پسند انسانوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے، تاہم شہادت کا فلسفہ یہی ہے کہ اہلِ حق جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ضرور ہوتے ہیں مگر ان کا فکر، کردار اور مشن زندہ رہتا ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شہید رہبرِ انقلاب کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات سے قبل قوم کے نام اپنے پیغام میں قرآنِ کریم کی اس آیت سے آغاز کیا: “اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں۔” یہی آیت دراصل شہادت کے اسلامی تصور کو بیان کرتی ہے، جہاں موت اختتام نہیں بلکہ دائمی حیات اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ قرار پاتی ہے۔ صدر پزشکیان کا پیغام صرف تعزیت کا اظہار نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کے لیے اتحاد، استقامت اور امید کا ایک واضح پیغام ہے۔
شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی قیادت ایسے دور میں سامنے آئی جب ایران کو جنگ، عالمی پابندیوں، سفارتی دباؤ، اقتصادی مشکلات اور مسلسل سلامتی کے خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے نازک حالات میں انہوں نے ہمیشہ قومی خودمختاری، داخلی استحکام، سائنسی ترقی، دفاعی خود کفالت اور عوامی مزاحمت کو اپنی پالیسیوں کا محور بنایا۔ ان کی قیادت میں ایران نے جدید سائنس، طب، نینو ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، خلائی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی۔ ان کا یقین تھا کہ کسی بھی قوم کی حقیقی آزادی اس کی معیشت، علم، ٹیکنالوجی اور قومی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار میں۔
شہید رہبرِ انقلاب کا تصورِ مزاحمت صرف عسکری قوت تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اقتصادی استحکام، ثقافتی خود اعتمادی، علمی ترقی، اخلاقی اقدار اور سیاسی خودمختاری کو بھی مزاحمت کا لازمی حصہ قرار دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی شناخت، اپنے نظریے اور اپنے وسائل پر اعتماد رکھتی ہے، اسے کوئی عالمی طاقت مستقل طور پر زیر نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوان نسل کو ہمیشہ تعلیم، تحقیق، اختراع اور قومی خدمت کی طرف راغب کیا تاکہ ایران مستقبل میں بھی خود کفیل اور مضبوط ریاست کے طور پر آگے بڑھتا رہے۔
صدر پزشکیان نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا کہ “یہ خونیں عروج اختتام نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ایک نئے دور کا آغاز ہے۔” اسلامی تاریخ بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے کہ شہادت نے ہمیشہ تحریکوں کو نئی زندگی بخشی ہے۔ کربلا سے لے کر عصرِ حاضر تک حق و باطل کی جدوجہد میں شہداء کا خون نظریات کو زندہ رکھتا آیا ہے۔ یہی فلسفہ آج ایرانی قوم کو بھی یہ پیغام دے رہا ہے کہ رہنما رخصت ہو سکتے ہیں مگر ان کے اصول، نظریات اور قومی عزم ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
صدر پزشکیان کی جانب سے تمام ایرانیوں کو، خواہ ان کا تعلق کسی بھی نسل، مذہب، سیاسی سوچ یا سماجی پس منظر سے ہو، جنازے میں بھرپور شرکت کی دعوت دینا دراصل قومی اتحاد کی ایک عملی تعبیر ہے۔ ایسے نازک مواقع پر قومی یکجہتی صرف داخلی استحکام ہی نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہوتی ہے کہ قومیں اپنے عظیم رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ ان کے مشن کو مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھاتی ہیں۔
شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ نے ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام، امتِ مسلمہ کے اتحاد، استعماری قوتوں کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کی خودمختاری کی حمایت کی۔ ان کے نزدیک عالمی انصاف، قومی وقار اور اسلامی اخوت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ انہوں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں پائیدار امن صرف انصاف، احترامِ خودمختاری اور باہمی برابری کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ تاریخ ہر رہنما کا فیصلہ وقت کے ساتھ کرتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ شخصیات اپنے دور سے آگے نکل کر تاریخ کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے نظریے، اپنے وطن اور اپنی قوم کے لیے وقف کیا۔ ان کے حامی انہیں اسلامی انقلاب کے محافظ، قومی آزادی کے علمبردار، مظلوم اقوام کے حامی اور استقامت کی علامت کے طور پر یاد کرتے رہیں گے۔
آج جب ایرانی قوم اپنے عظیم قائد کو سپردِ خاک کرنے جا رہی ہے تو بظاہر ایک عہد ضرور اختتام پذیر ہو رہا ہے، مگر حقیقت میں ایک نئی ذمہ داری کا آغاز بھی ہو رہا ہے۔ یہ ذمہ داری اس نظریاتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی ہے جس کی بنیاد ایمان، استقلال، قومی خودمختاری، سائنسی ترقی اور عوامی اتحاد پر رکھی گئی تھی۔ یہی وہ پیغام ہے جو صدر پزشکیان نے اپنے خطاب میں پوری دنیا کو دیا کہ دہشت گردی، دھونس، دباؤ اور طاقت کا استعمال کسی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ عظیم رہنما جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن ان کے افکار، ان کی جدوجہد اور ان کے اصول نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔ قومیں اپنے ایسے رہنماؤں کو صرف تاریخ کی کتابوں میں نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعور، قومی کردار اور مستقبل کی سمت میں ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں۔ یہی ایک حقیقی شہید کی پہچان اور یہی ایک عظیم رہنما کا دائمی ورثہ ہوتا ہے۔



