تحریر: مظہر طفیل
کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ اقتدار عوام کی دہلیز سے جنم لیتا ہے جہاں عوامی نماٸندے ہمہ وقت عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں ان کے لہجے میں تکبر غرور سختی رعونت کی بجاٸے اپناعیت کی چاشنی چھوٹے بڑوں کا عزت واحترام سب سے بڑھ کرعاجزی وانکساری ان سیاستدانوں کی کل کاٸنات ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا طرزِ گفتگو اور اندازِ حکمرانی اس حقیقت کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ مخصوص نشست کے ذریعے ایوان تک پہنچنے والی ایک ایسی وزیر، جس کا نہ کوئی حلقۂ انتخاب ہے، نہ وہ براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئیں اور نہ ہی وہ اپنے ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہیں، جب پنجاب اسمبلی کے فلور پر اربوں روپے کے سرکاری طیارے کی خریداری کا اس تکبر، تفاخر اور تحکمانہ انداز میں دفاع کرتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقتدار عوام کی امانت نہیں بلکہ کوئی شاہی وراثت ہو۔ یہ لہجہ ایک ایسے حکمران طبقے کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو عوام کو شہری نہیں بلکہ رعایا سمجھتا ہے، اور ان کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والے وسائل کو اپنا پیدائشی حق تصور کرتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ قیادت کے طرزِ سیاست میں یہی احساسِ برتری بار بار جھلکتا ہے، جہاں اختلافِ رائے کو گستاخی، عوامی تنقید کو بغاوت اور ریاستی وسائل کے بے دریغ استعمال پر اٹھنے والے سوالات کو اپنی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران محلوں کی بلند فصیلوں کے پیچھے بیٹھ کر بھوک، مہنگائی، ٹیکسوں کے بوجھ اور عوام کی بے بسی پر خطابت کرنے لگیں تو اقتدار اور عوام کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہو جاتی ہے جسے پھر کوئی سرکاری بیان، کوئی نمائشی منصوبہ اور کوئی خطیبانہ تقریر دور نہیں سکتی۔ اقتدار کا غرور ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر عوام کی عدالت کا فیصلہ ہمیشہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران اپنی طاقت کو عوام کی خدمت کے بجائے اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں تو ریاست کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اقتدار کا غرور جب عقل پر غالب آ جائے تو حکمران عوام کی آہوں کو شور، تنقید کو سازش اور اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے لگتے ہیں۔ پنجاب آج اسی المیے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے ہوئے محصولات، ناقابلِ برداشت جرمانے، تباہ حال صحت، زبوں حال تعلیم اور بنیادی سہولتوں سے محروم عوام ہیں، جبکہ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جن سے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ جب ایک ایسے وقت میں، جبکہ لاکھوں خاندان دو وقت کی روٹی، علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے پریشان ہوں، حکومت ایک مہنگا طیارہ خریدنے کا فیصلہ کرتی ہے تو عوام کا سوال کرنا فطری ہے۔ مگر افسوس اس سے بھی بڑھ کر اس وقت ہوتا ہے جب عوام کے سوالوں کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ غرور سے دیا جائے۔ ایک جمہوری حکومت کا وزیر اگر اسمبلی کے اندر اس انداز میں بات کرے کہ گویا عوام کو للکار رہا ہو، تو یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت کا اظہار ہوتا ہے جو اقتدار کو جواب دہی سے بالاتر سمجھنے لگتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک ہی معاملے پر مختلف سرکاری شخصیات کی مختلف توجیہات سامنے آئیں، جن سے عوامی اعتماد مزید مجروح ہوا۔ اگر کوئی فیصلہ واقعی عوامی مفاد میں ہو تو اسے چھپانے یا بدل بدل کر بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، صرف جھوٹ کو سہارا دینے کے لیے نئی نئی کہانیاں تراشنا پڑتی ہیں۔ پنجاب کے عوام آج صرف مہنگائی کا شکار نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کے بھی مظلوم ہیں۔ ان پر نئے نئے محصولات کا بوجھ لادا جا رہا ہے، زندگی کے ہر شعبے کو مزید مہنگا بنایا جا رہا ہے، مگر اس کے باوجود سرکاری ہسپتالوں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ مریض دوائی کے لیے دربدر ہیں، طبی مراکز سہولتوں سے محروم ہیں، دیہی علاقوں میں علاج کا مناسب انتظام موجود نہیں، اور جن اداروں پر عوام کا آخری سہارا ہوتا ہے وہ خود بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ اگر صحت کے شعبے کو چھوڑ کر تعلیم کی طرف دیکھا جائے تو منظر اس سے بھی زیادہ افسوسناک دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے زوال کا شکار ہیں، اساتذہ عدم تحفظ میں مبتلا ہیں، اور ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ ایک فلاحی ریاست اپنی نسلوں کے مستقبل کو بازار کے حوالے نہیں کرتی بلکہ تعلیم اور صحت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ مگر یہاں ترجیحات کا پیمانہ کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ قانون کا احترام وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انصاف نظر آئے، مگر جہاں خوف، طاقت کا بے جا استعمال اور شہریوں کے ساتھ سخت رویہ معمول بن جائے وہاں قانون احترام نہیں بلکہ نفرت پیدا کرتا ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ریاستی طاقت ان کے تحفظ کے بجائے انہیں دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو یہ کسی بھی جمہوری حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہوتی ہے۔ ٹریفک کے نام پر بھاری جرمانے عائد کرنا آسان ہے، مگر کیا سڑکوں کا نظام مثالی بنا دیا گیا؟ کیا اشارے، راستے، سہولتیں اور شہری آگاہی اسی معیار کی فراہم کی گئی؟ اگر اصلاح کے بغیر سزا دی جائے تو عوام اسے انصاف نہیں بلکہ آمدنی بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا سانحہ سیاسی انتقام کی وہ روش ہے جس نے عوامی مفاد کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ جو منصوبے گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں شروع ہوئے، اگر وہ واقعی عوام کے فائدے کے لیے تھے تو انہیں مکمل کرنا ہر آنے والی حکومت کی آئینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری تھی۔ مگر اگر کسی منصوبے کو صرف اس لیے نظر انداز کیا جائے کہ اس کا افتتاح کسی سیاسی مخالف نے کیا تھا، تو نقصان کسی سیاست دان کا نہیں بلکہ اس غریب مریض کا ہوتا ہے جو علاج سے محروم رہ جاتا ہے، اس طالب علم کا ہوتا ہے جو بہتر تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے، اور اس خاندان کا ہوتا ہے جو بنیادی سہولتوں کے انتظار میں اپنی زندگیاں گزار دیتا ہے۔ کئی عمارتیں آج خاموش کھنڈرات کی صورت کھڑی ہیں۔ ان کی دیواریں چیخ چیخ کر پوچھتی ہیں کہ آخر ان پر خرچ ہونے والا قومی سرمایہ کس جرم کی سزا بھگت رہا ہے؟ کیا عوام کے ٹیکسوں سے بننے والی عمارتیں کسی سیاسی جماعت کی جاگیر ہوتی ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر انہیں ویران چھوڑ دینا کس اصول، کس قانون اور کس اخلاق کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟ ایک مہذب حکومت اپنے مخالفین کے اچھے کاموں کو بھی عوام کے مفاد میں جاری رکھتی ہے، جبکہ کم ظرف سیاست صرف نام بدلنے، تختیاں اکھاڑنے اور منصوبوں کو دفن کرنے میں اپنی کامیابی تلاش کرتی ہے۔ یہی طرزِ عمل ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو ترقی کے خواب تو دکھائے جا رہے ہیں مگر ان کی روزمرہ زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انصاف مہنگا، علاج مشکل، تعلیم غیر یقینی، روزگار محدود اور ریاستی رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی اصل طاقت مخالفین کو خاموش کرانے میں نہیں بلکہ عوام کے دل جیتنے میں ہوتی ہے، اور دل طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، خدمت، دیانت اور انکساری سے جیتے جاتے ہیں۔ اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر حکمرانوں کے فیصلے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاریخ نے کبھی بھی غرور، تکبر، سیاسی انتقام اور عوامی مسائل سے بے اعتنائی کو عزت نہیں بخشی۔ وہی حکومتیں سرخرو ہوتی ہیں جن کے فیصلوں سے عوام کے چہروں پر اطمینان آتا ہے، نہ کہ ان کی آنکھوں میں خوف اور مایوسی۔ پنجاب کے حکمران اگر واقعی عوام کی خدمت کا دعویٰ رکھتے ہیں تو انہیں نمائشی اقدامات کے بجائے ہسپتال آباد کرنے ہوں گے، سکول مضبوط کرنے ہوں گے، محصولات کا بوجھ کم کرنا ہوگا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دہ بنانا ہوگا، عوامی منصوبوں کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے قومی امانت سمجھنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر اقتدار کے ایوانوں سے تکبر کی زبان ختم کرنی ہوگی۔ کیونکہ جب حکمران عوام کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں تو پھر تاریخ ان کی آواز بھی سننا چھوڑ دیتی ہے، اور یہی ہر مغرور اقتدار کا سب سے تلخ انجام ہوتا ہے۔



