لاہور(نیشنل ٹائمز)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب انفورسمنٹ اینڈریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں پیرا کی کارکردگی، ڈیجیٹلائزیشن، قانونی فریم ورک اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گی۔ اجلاس میں پیرا فورس کی کارروائیوں کو مانیٹر کرنے کیلئے ڈیجیٹل ریکوزیشن لازمی قراردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے ‘‘آسک پیرا’’ پورٹل کو مزید فعال کرنے کا حکم اور ڈی جی پیرا کو براہِ راست پبلک انٹرا یکشن اور عوامی رابطہ بڑھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیرا کا عدالتی محاذ پر 99 فیصد کنوکشن ریٹ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
عوام پر رعب جھاڑنے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کی پیرا میں کوئی جگہ نہیں۔ بد سے بدنام بہت برا ہوتا ہے ،پیرا کی گڈ ول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پیرا کا ہر ایکشن عوام دوست ہونا چاہیے۔ کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پیرا ریکوزیشن رولز کے مطابق کارروائی یقینی بنائے ۔ قانونی کارروائی کے دوران مزاحمت کا کلچر ختم ہونا چاہیے ،قانون کی بالادستی قائم ہوگی۔ انویسٹی گیشن افسر کا تبادلہ کسی کی سفارش پر نہیں ہو گا۔بریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ دیگر محکموں کی 351 ملازمین کو محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر واپس محکموں میں بھیج دیا گیا۔
پیرا کا چالان کا پورا نظام مکمل طور پر الیکٹرانک کیا جا رہا ہے ۔ پیرا کی جانب سے صوبہ بھر میں 15 لاکھ 27 ہزار28 انسپکشن کی گئیں، قوانین کی خلاف ورزی پر3 ہزار509 دکانیں سیل کی گئیں۔ اینٹی انکروچمنٹ مہم کے تحت اب تک 21 ہزار کنال سے زائد اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے ۔ عدالت میں 136رٹ پٹیشنز میں سے 99 فیصد کیسز پیرا کے حق میں فیصلے کیے گئے ۔ پیرا ایکٹ کے تحت مینوئل چالان پر پہلی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ محکمانہ احتساب کے تحت پیرا میں 700 سزائیں دی گئیں اور غفلت پر 20 ملازمین کو نوکری سے برطرف کیا گیا۔اینٹی انکروچمنٹ کارروائی سے پہلے ہر طرح سے نوٹس دینا اور خبردار کرنا لازمی ہوگا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پیرا فورس کو مزید مہذب اور ڈسپلن بنانے کے لیے کلر کہار میں ٹریننگ اکیڈمی پر کام شروع کر دیا ہے ۔ جون 2027 تک پیرا کی اپنی مستقل بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔



