تاثرات: مظہر طفیل
آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے حساس سیاسی اور سماجی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر قدم غیر معمولی احتیاط، تدبر اور قومی ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ ایک طرف عوامی مطالبات کے حق میں جاری احتجاج، دھرنے اور ہڑتالوں کا سلسلہ ہے، جبکہ دوسری جانب ریاستی نظم و نسق، عوامی زندگی، معاشی سرگرمیوں اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہر وہ آواز جو مذاکرات، مفاہمت اور قومی یکجہتی کی بات کرے، یقیناً قابلِ توجہ ہے۔
اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے حکومت اور کشمیر ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش ایک اہم پیش رفت تھی۔ مولانا کا مؤقف یہ تھا کہ چونکہ نویں اور دسویں محرم قریب ہیں، اس لیے پہلے احتجاج اور دھرنا ختم کیا جائے تاکہ مذہبی اجتماعات اور عوامی امن و امان متاثر نہ ہوں، اس کے بعد وہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لا کر مسئلے کا باوقار اور پائیدار حل نکالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے نظریات پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو بالآخر مذاکرات کو ہی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ ماضی میں انہوں نے حکومتوں پر سیاسی دباؤ ضرور ڈالا، احتجاج بھی کیے، مگر آخرکار مذاکرات کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے کی روایت بھی قائم رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جانب سے آنے والی ثالثی کی پیشکش کو ایک سنجیدہ موقع سمجھا جا رہا تھا۔
اگر کشمیر ایکشن کمیٹی اس پیشکش کو قبول کر لیتی تو اس سے کئی مثبت نتائج سامنے آ سکتے تھے۔ ایک طرف احتجاج کرنے والوں کا وقار بھی برقرار رہتا، دوسری جانب حکومت کو بھی مذاکرات کے ذریعے عوامی خدشات دور کرنے کا موقع ملتا۔ سب سے بڑھ کر عام شہری، جو کئی روز سے غیر یقینی صورتِ حال، کاروباری مشکلات اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں، انہیں بھی ریلیف مل سکتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ موقع ضائع ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج بنیادی حق ہے، لیکن احتجاج اور دھرنے کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ معاملات کو اس نہج تک پہنچا دینا جہاں ریاست اور عوام آمنے سامنے کھڑے نظر آئیں۔ جب احتجاج مسلسل طوالت اختیار کرتا ہے، معمولاتِ زندگی مفلوج ہونے لگتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو اس سے فائدہ عوام کو کم اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو زیادہ پہنچتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ اس پورے معاملے کو صرف ایک مقامی احتجاج کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے قومی اور بین الاقوامی اثرات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ آزاد جموں و کشمیر پاکستان کے لیے صرف ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ قومی موقف کی علامت بھی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی ہر سیاسی ہلچل پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے اندر کسی بھی قسم کی کشیدگی کو مختلف حلقے اپنے اپنے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعض مبصرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ کشیدگی سے ایسے عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ خدشات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم ان کا غیر جانب دارانہ اور ذمہ دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر واقعی کوئی بیرونی قوت یا پاکستان مخالف حلقہ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا بہترین جواب طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، عوامی اعتماد، شفاف طرزِ حکمرانی اور بروقت مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ انتخابات بھی قریب ہیں۔ انتخابات کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی ماحول مکمل طور پر پرامن، شفاف اور آزاد ہو۔ اگر سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو انتخابی عمل پر غیر ضروری سوالات اٹھ سکتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ پاکستان کے مجموعی مؤقف کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کریں جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکے۔
اس پورے معاملے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ صحافت کا بنیادی فرض عوام کو درست، متوازن اور مصدقہ معلومات فراہم کرنا ہے۔ اگر کسی بھی جانب سے اشتعال انگیزی، غیر مصدقہ اطلاعات یا نفرت پر مبنی بیانیہ سامنے آتا ہے تو اس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ صحافیوں اور رائے ساز شخصیات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی مفاد، صحافتی اصولوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی رائے قائم کریں۔
اسی طرح بیرونِ ملک مقیم کشمیری برادری بھی اس معاملے میں اہم کردار رکھتی ہے۔ برطانیہ اور یورپ سمیت مختلف ممالک میں آباد کشمیری ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے رہے ہیں۔ ان کے جذبات اور خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے سفارتی مشنز کو چاہیے کہ وہ ان سے مسلسل رابطہ رکھیں، زمینی حقائق سے آگاہ کریں، ان کے سوالات کے جواب دیں اور انہیں یہ یقین دلائیں کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے آئینی اور جمہوری راستے ہی اختیار کیے جا رہے ہیں۔ مؤثر سفارت کاری بہت سی غلط فہمیوں کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر سکتی ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق انا کی سیاست سے بالاتر ہو کر ریاست، عوام اور قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ حکومت کو بھی سنجیدگی، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ مسلسل محاذ آرائی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔
پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کے پیشِ نظر قومی یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ ایسے وقت میں کسی بھی قسم کی سیاسی کشیدگی، انتشار یا بداعتمادی صرف مخالف قوتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے تمام سیاسی قوتوں، مذہبی قیادت، ریاستی اداروں اور سول معاشرے کو مل کر ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جو امن، استحکام اور جمہوری عمل کو مضبوط کرے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی، قربانیوں اور عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ یہی عوام اس بات کے بھی مستحق ہیں کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے، ان کے مطالبات پر آئینی دائرے میں غور کیا جائے اور اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔
آخرکار یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف، مکالمے اور عوامی شمولیت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر موجودہ بحران کو سیاسی بصیرت، تحمل اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر حل کیا گیا تو یہ نہ صرف آزاد جموں و کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ضد، اشتعال اور محاذ آرائی کو ترجیح دی گئی تو اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ آج بھی وقت ہے کہ تمام فریق مذاکرات کی راہ اختیار کریں، قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور اس خطے کو مزید کشیدگی کے بجائے امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جائیں۔ بدقسمتی سے موجودہ صورتِ حال یہ تاثر پیدا کر رہی ہے کہ احتجاج اور ہڑتال کو مسلسل طول دینے کا مقصد محض مطالبات کی منظوری حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور سیاسی نقصان پہنچ سکے۔ بعض مبصرین کے نزدیک اگر آئندہ جولائی میں ہونے والے آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کشیدہ ماحول میں منعقد ہوتے ہیں یا کسی وجہ سے متنازع بن جاتے ہیں تو اس سے وہ قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو عرصۂ دراز سے پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ بھارت بھی ہمیشہ یہی مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے جمہوری عمل پر سوالات اٹھائے جائیں، تاکہ عالمی برادری کے سامنے اپنے بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔ اگر احتجاج کرنے والے واقعی کشمیری عوام کے مفادات کے امین ہیں تو انہیں اس نازک مرحلے کی حساسیت کو سمجھنا ہوگا اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے انتخابی عمل متاثر ہو یا ریاست اور عوام آمنے سامنے آ جائیں۔ اگر ایک جانب احتجاج اپنی شدت برقرار رکھتا ہے اور دوسری جانب ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے آئینی اقدامات کرنا پڑتے ہیں تو دونوں صورتوں میں اس کشیدگی سے فائدہ پاکستان مخالف عناصر ہی اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ایسی صورتِ حال نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیری عوام کے دیرینہ مؤقف کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے اور یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، حالانکہ ایسے تاثر سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے مخالف بیانیے کو پہنچے گا۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیری قیادت، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور بااثر قومی شخصیات فوری طور پر اپنا مثبت کردار ادا کریں اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائیں۔ اگر اس کے باوجود احتجاج ختم نہ کیا گیا تو پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور ممکنہ نتائج کی سیاسی و اخلاقی ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوگی جو مفاہمت کے بجائے مسلسل محاذ آرائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ مذاکرات، تحمل اور سیاسی بصیرت ہے، کیونکہ تصادم کا راستہ نہ صرف عام کشمیریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر سے متعلق کشمیری عوام کے مؤقف کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔



