اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) قومی اسمبلی میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب جے یوآئی (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ماضی میں کی گئی نوازشریف کی ایک تقریر کا حوالہ دیا تو وزیر اعظم شہبازشریف نے تنہائی میں کی گئی ان کی بات کا تذکرہ چھیڑ دیا ، مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے سپیکر کو مخاطب کر کے کہا کہ منگل کو آپ بھی ضرورت سے زیادہ جذباتی نظر آئے ، کالعدم ایکشن کمیٹی نے مجھے خط بھیجا ہے انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہاہے ، انہوں نے لانگ مارچ کرنا تھا مگر اب تک نہیں کیا،یہ ان کا اچھا اقدام ہے اگر حکومت کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو مسئلہ حل ہوجائے گا ، انہوں نے کہا کہ جب لڑائی والا کام ہو تو خواجہ آصف کے سپرد کرتے ہیں جب مفاہمت والا کام ہو تو اسحاق ڈار کو آگے کر دیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سپریم رہنے دیجیے ،ہم رویوں کو ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،ماضی کو بھی دیکھ لیا کریں اسکے بعد آپ ہمیں سخت ردعمل دیں۔
ان کے خطاب کے دوران وزیراعظم ایوان میں پہنچے اور محمود خان اچکزئی، فضل الرحمٰن، بیرسٹر گوہر، علی محمد خان دیگرارکان سے ہاتھ ملایا جبکہ بلاول نے وزیر اعظم سے ان کی نشست پر جاکر ہاتھ ملایا، مولانا نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جلسوں میں کیا نواز شریف کنٹینر پر آرمی چیف اور فوج کے خلاف تقاریر نہیں کیا کرتے تھے ، کیا نواز شریف فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے ،اسی دوران وزیر اعظم کھڑے ہوگئے اور کہا کہ مولانا ہم سب کے لیے انتہائی لائق احترام ہیں،میرے ان سے بہترین تعلقات بھی ہیں،وہ ہمیشہ شفقت فرماتے ہیں،مولانا نے اپنی تقریر کے آخر میں جو کہا اس سے متعلق کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے درمیان تنہائی میں جو باتیں ہوئیں وہ ہمیشہ راز رہیں گی، ان پر بات نہیں کروں گا ، وہ قبر تک میرے ساتھ جا ئیں گی، مولانا نے جواب میں کہاکہ اگر تنہائی میں کوئی بات کی ہے تو وزیراعظم کو یہاں بات کرنے کی اجازت ہے ، تنہائی میں ہونے والی باتوں کو پبلک کر دیں ناراض نہیں ہوں گا، وزیراعظم نے کہاکہ میں مولانا فضل الرحمٰن کی بات پبلک کرنے پیشکش قبول نہیں کروں گا، اگر میں بات کروں گا تو بات بہت دور تک جائے گی اور معاملات واپس نہیں آئیں گے ۔



