سیدپور روڈ: راولپنڈی سے مارگلہ کے دامن تک ایک گم شدہ شاہراہ کی داستان

کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام آباد بننے سے پہلے راولپنڈی سے سیدپور جانے کے لیے ایک تاریخی سڑک موجود تھی؟

یہ سڑک آج راولپنڈی میں تو کسی حد تک باقی ہے، لیکن اسلام آباد کے سیکٹروں، شاہراہوں اور عمارتوں کے نیچے تقریباً گم ہو چکی ہے۔

آئیے سیدپور روڈ کی کھوئی ہوئی داستان پڑھتے ہیں۔

ہم اکثر راولپنڈی کے حوالے سے تحریریں پڑھتے رہتے ہیں جن میں اس شہر کی سماجی اور تاریخی جہات پر گفتگو کی جاتی ہے، لیکن آج تک راولپنڈی کی تاریخی سڑک ’’سیدپور روڈ‘‘ کے بارے میں کوئی جامع تحریر میری نظر سے نہیں گزری۔ حالانکہ یہ سڑک قدیم راولپنڈی کی اہم ترین شاہراہوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ پرانے سرکلر روڈ اور موجودہ بنی چوک سے شروع ہوتی، شہر سے گزرتی، دیہاتوں، ڈھوکوں اور موہڑوں کو آپس میں ملاتی ہوئی مارگلہ کے دامن میں واقع سیدپور گاؤں تک پہنچتی تھی اور وہی اس کا آخری پڑاؤ تھا۔

اس سڑک کا نام بھی سیدپور روڈ اسی لیے پڑا کہ یہ راولپنڈی کو سیدپور گاؤں سے ملاتی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ اسلام آباد کے قیام کے بعد یہ سڑک پنڈورہ چونگی پر آ کر ختم ہو جاتی ہے جبکہ اس سے آگے کا حصہ جدید شاہراہوں اور سیکٹروں میں کہیں گم ہو چکا ہے۔

پنڈورہ چونگی سے آگے جب آپ آئی جے پی روڈ عبور کرتے ہیں تو قدرے دائیں جانب، جہاں آج شیل پمپ موجود ہے، اس کے عقب میں قدیم سیدپور روڈ کا تاریخی پل واقع ہے۔ یہ پل لئی نالے پر انگریز دور میں انیسویں صدی کے اختتام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ اسی دور میں سیدپور روڈ کو بھی نسبتاً جدید شکل دی گئی ہوگی، کیونکہ اس سے قبل یہ راستہ صدیوں پرانی کچی پگڈنڈیوں پر مشتمل تھا۔ میں نے خود اس پل کے بعد تقریباً پانچ سو میٹر تک قدیم سیدپور روڈ کے آثار دیکھے تھے، اگرچہ اب معلوم نہیں کہ وہ باقی ہیں یا نہیں۔

یہ تحریر زیادہ تر میرے والد صاحب مرحوم سے ہونے والی گفتگو، اپنے مشاہدات اور علاقے کے بزرگوں سے سنی گئی روایات پر مبنی ہے۔ اگر قارئین کے پاس اس تاریخی شاہراہ کے حوالے سے مزید معلومات ہوں تو ضرور شیئر کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس گم شدہ مگر اہم شاہراہ کی تاریخ سے آگاہ کیا جا سکے۔

اگر ہم اس سڑک کے قدیم راستے پر نظر ڈالیں تو یہ اندرونِ راولپنڈی کے تجارتی مرکز بنی چوک سے شروع ہوتی تھی، جہاں ہمارے بچپن تک تانگوں کا اڈا موجود تھا۔ روایت ہے کہ یہ اڈا اسی مقام پر تھا جہاں کبھی بنی مائی ویرو کا گھر واقع تھا، جبکہ موجودہ بنی مارکیٹ کا علاقہ مائی ویرو کی بن کہلاتا تھا۔ یہاں سے سیدپور اور گرد و نواح کے دیگر مواضعات کی طرف جانے والے مسافر تانگے پکڑ کر اپنے سفر پر روانہ ہوتے تھے۔

بنی کے ساتھ واقع کوہاٹی بازار میں مشہور کلیان داس مندر بھی تھا، جس کا رقبہ سینکڑوں کنال پر محیط تھا۔ اس میں دو سو سے زائد کمروں پر مشتمل ایک وسیع مہمان سرائے بھی موجود تھی۔ برصغیر کے مختلف علاقوں سے آنے والے ہندو یاتری سیدپور کے رام مندر اور کشمیر کے پہاڑوں میں واقع مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یہیں قیام کرتے تھے۔ ان یاتریوں کی بڑی تعداد سیدپور روڈ پر پا پیادہ سفر کرتی، راستے میں مختلف دیہاتوں میں آرام کرتی اور پھر آگے بڑھ جاتی تھی۔

بنی اور قدیم شہر کو پیچھے چھوڑتی ہوئی یہ سڑک اصغر مال چوک، یا پرانے سیدپور چوک، تک پہنچتی تھی۔ یہ مقام شہری آبادی کے اختتام اور سرسبز دیہی علاقے کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس سے کچھ آگے دائیں جانب پرانا خالصہ ہائی سکول واقع تھا جو آج مسلم ہائیر سیکنڈری سکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ میرے والد صاحب کی مادر علمی بھی تھا۔ اس مقام سے آگے تاحدِ نگاہ کھیت اور فصلیں پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ علاقہ زیادہ تر ہندوؤں اور سکھوں کی زرعی اراضی پر مشتمل تھا، جبکہ درمیان میں مسلمانوں کی چند ڈھوکیں اور چھوٹے گاؤں بھی آباد تھے۔ موجودہ بی بلاک اور ایف بلاک سیدپور روڈ سکیم انہی متروکہ زمینوں پر قائم ہوئے۔

ان کھیتوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی سیدپور روڈ ایک سنگل سڑک تھی جس کے دونوں اطراف بوہڑ، کیکر اور دیگر قدیم درختوں کی قطاریں موجود تھیں۔ یہ درخت مسافروں کو سایہ فراہم کرتے تھے اور بہار کے موسم میں جب سرسوں کے زرد پھول کھلتے تو پورا علاقہ ایک دلکش منظر پیش کرتا تھا۔

اس کے بعد ہولی فیملی ہسپتال کا علاقہ آتا تھا۔ اگرچہ ہسپتال سڑک سے کچھ اندر واقع تھا، لیکن یہاں اترنے والے مسافر اسی مقام پر تانگہ چھوڑ کر پیدل ہسپتال کی طرف جاتے تھے۔

آگے بڑھنے پر موجودہ سٹلائٹ ٹاؤن کالج اور اس کے گردونواح کا علاقہ آتا ہے جہاں، بقول میرے والد صاحب، لالا برکت رام کا مشہور باغ واقع تھا۔ یہ گھنے سایہ دار درختوں اور مختلف پھلدار پودوں سے بھرا ہوا باغ تھا۔ موجودہ ڈی بلاک اور سکستھ روڈ کا کچھ حصہ اسی علاقے میں شامل تھا۔

برکت رام کا باغ پیچھے رہ جاتا تو پنڈورہ اور چشتیہ آباد کا علاقہ شروع ہو جاتا۔ سڑک کے بائیں جانب چشتیہ سلسلے کے بزرگ حضرت قاضی نظام الدینؒ کا مزار واقع تھا۔ والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ ان کے بچپن میں یہاں بڑے اہتمام سے عرس منعقد ہوتا تھا۔ دور دراز سے زائرین آتے، میلہ لگتا اور کئی دن تک یہ علاقہ ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہتا۔

مزار سے آگے پنڈورہ بازار آتا تھا، جو ایک روایتی دیہاتی مارکیٹ تھی۔ یہاں چکیاں، کپڑے کی دکانیں، کریانہ اسٹور اور روزمرہ ضروریات کی دیگر اشیا دستیاب ہوتی تھیں۔ اس زمانے میں دکانوں پر لوہے کے شٹروں کی بجائے لکڑی کے دروازے ہوا کرتے تھے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ 1987ء یا 1988ء میں، جب میری عمر نو یا دس سال تھی، پنڈورہ قبرستان اور عثمانی مسجد کے باہر ایسی دو قدیم دکانیں موجود تھیں۔ ان پر سفید ریش بزرگ بیٹھتے تھے۔ ہم انہی دکانوں سے ٹافیاں خریدتے اور کبھی شرارت کرنے پر ڈانٹ بھی کھاتے تھے۔ اگرچہ ہمارے زمانے تک ایسی صرف دو دکانیں باقی رہ گئی تھیں، لیکن بزرگوں کے مطابق ایک وقت تھا جب پورا بازار اسی طرز کی دکانوں سے آباد تھا۔

یوں ایک طرف پنڈورہ اور دوسری طرف ڈنہ کی آبادی رہ جاتی اور ان کے درمیان سے گزرتی ہوئی سیدپور روڈ پنڈورہ چونگی تک پہنچ جاتی۔ تقسیم ہند سے قبل یہاں سردار سوجان سنگھ کے لکڑی کے بڑے بڑے ٹال موجود تھے۔ آج اس مقام پر غوثیہ کالونی آباد ہے۔ البتہ قدیم قبرستان اب بھی موجود ہے جو عثمانی مسجد سے لے کر محمود آباد کی مسجد کے عقب تک پھیلا ہوا ہے۔ والد صاحب مرحوم کے مطابق ایک زمانے میں اس قبرستان کی حدود پنڈورہ چونگی تک جا پہنچتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ اس کی زمین پر مکانات تعمیر ہو گئے۔

خیر، ہماری سیدپور روڈ پرانے پل پر پہنچ جاتی ہے اور پل کراس کرکے نڑالہ گاؤں کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے۔ آئی ایٹ اور آئی نائن کے درمیان سے گزرتی، گھنے درختوں اور کھیت کھلیانوں کے درمیان سے نکلتی یہ سنگل سڑک آگے بڑھتی ہے اور موجودہ ایچ ایٹ کے علاقے اور پرانے چک جابو سے گزرتی ہے۔ اردگرد درخت، کھیت، اکا دکا گھر، چھوٹی دکانیں اور کنویں ہیں اور چار سو ایک دلکش دیہی منظر بکھرا ہوا ہے۔

تھوڑا آگے جا کر برلبِ سڑک راجہ غیرت کی حویلی آ جاتی ہے، جہاں آج شفا انٹرنیشنل ہسپتال واقع ہے۔ اس زمانے میں یہ حویلی دور سے نمایاں دکھائی دیتی تھی اور مسافروں کے لیے ایک معروف نشانی سمجھی جاتی تھی۔ یہاں سے آگے ہماری یہ قدیم شاہراہ اپنا سفر جاری رکھتی ہے اور موجودہ ایچ ایٹ قبرستان اور اس سے ملحقہ قدیم دربار کے پاس سے گزرتی ہے۔ قبرستان تو اسلام آباد کی تعمیر کے بعد وجود میں آیا، البتہ ٹیلے پر قائم مسجد اور دربار اس علاقے کی پرانی یادگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

یہاں سے نکل کر سڑک موجودہ سری نگر ہائی وے کے پل کے نیچے سے گزرتی ہوئی پڑیاں کے علاقے میں داخل ہوتی ہے۔ پڑیاں اس زمانے میں اپنے گھنے درختوں، ٹھنڈی فضا اور سرسبز ماحول کی وجہ سے مشہور تھا۔ اترائی میں چند گھر، کھوکھے اور مسافروں کے آرام کے لیے مناسب جگہیں موجود تھیں۔ گرمی کے دنوں میں یہاں پہنچ کر واقعی ٹھنڈک کا احساس ہوتا تھا۔

پڑیاں سے آگے یہ شاہراہ چوہان گاؤں اور اس سے ملحقہ ڈھوکوں کی حدود میں داخل ہوتی ہے، جہاں آج ٹی اینڈ ٹی کالونی آباد ہے۔ بزرگوں کے مطابق یہ مقام سیدپور روڈ کا ایک اہم پڑاؤ تھا۔ یہاں کنویں موجود تھے جہاں تانگوں کے گھوڑوں کو پانی پلایا جاتا، مسافر بھی سستا لیتے اور سفر کی تھکن اتارتے۔ چند چھوٹی دکانیں اور بازار نما جگہیں بھی تھیں جہاں سے روزمرہ ضرورت کی اشیاء دستیاب ہو جاتی تھیں۔ سیدپور جانے والے ہندو یاتری بھی اکثر یہاں کچھ دیر قیام کرتے اور پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوتے۔

آگے چل کر یہ روڈ موجودہ ایکسپریس وے کے علاقے سے گزرتی ہوئی قدرے شمال مغرب کی جانب مڑتی اور تھتھیال گاؤں کی حدود میں داخل ہو جاتی، جہاں آج فیصل ایونیو، بلیو ایریا اور سینٹورس کے علاقے آباد ہیں۔ بعض بزرگ اس علاقے کے ایک حصے کو گیدڑ کوٹھا کے نام سے بھی یاد کرتے تھے۔ اس وقت یہاں دور دور تک کھیت، باغات اور دیہی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں اور کہیں سے بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ایک دن یہی علاقہ پاکستان کے دارالحکومت کا مرکزی تجارتی مرکز بن جائے گا۔

یہ سڑک آگے بڑھتے ہوئے موضع کٹاریاں کی حدود میں داخل ہوتی تھی۔ پرانے لوگوں کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اسی مقام پر ایک مجذوب سڑک کنارے بیٹھا تھا۔ اس نے اردگرد پھیلے کھیتوں اور خاموش فضا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دن یہاں اونچی اونچی عمارتیں کھڑی ہوں گی اور سڑکوں پر گاڑیوں کا ہجوم ہو گا۔ اس وقت وہاں موجود لوگوں نے اس بات کو محض ایک عجیب سی پیش گوئی سمجھا، لیکن آج جب کٹاریاں اور اس کے گردونواح میں جدید اسلام آباد آباد ہو چکا ہے تو بعض بزرگ اس واقعے کو یاد کرکے حیران ہوتے ہیں۔

کٹاریاں سے آگے بڑھتے ہوئے یہ شاہراہ مارگلہ کے دامن کی طرف چڑھنا شروع کر دیتی تھی۔ راستے میں کیندل، ڈھوک دھریال اور دیگر چھوٹی آبادیاں آتی تھیں۔ فضا میں پہاڑوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگتی تھی اور دور سے مارگلہ کی سبز پہاڑیاں نظر آنا شروع ہو جاتی تھیں۔

بالآخر سیدپور روڈ اپنے آخری پڑاؤ، یعنی قدیم گاؤں سیدپور، میں داخل ہو جاتی تھی۔ روایت کے مطابق اس بستی کو راجہ مان سنگھ نے تقریباً پانچ سو برس قبل آباد کیا تھا۔ یہاں واقع رام مندر اور رام کنڈ پورے خطے میں شہرت رکھتے تھے۔ سیدپور ہندوؤں کا ایک اہم مذہبی مقام سمجھا جاتا تھا اور یہاں چار مقدس چشمے موجود تھے جنہیں رام کنڈ، لکشمن کنڈ، سیتا کنڈ اور ہنومان کنڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ برصغیر کے مختلف علاقوں سے یاتری ان مقدس مقامات کی زیارت کے لیے یہاں آتے تھے۔

یوں بنی چوک سے شروع ہونے والی یہ تاریخی شاہراہ، جو راستے میں کھیتوں، باغات، ڈھوکوں، گاؤں، مزارات، کنوؤں اور مسافروں کی بے شمار یادوں کو اپنے ساتھ سمیٹے ہوئے تھی، آخرکار مارگلہ کے دامن میں واقع سیدپور پہنچ کر اختتام پذیر ہو جاتی تھی۔

آج ان میں سے بیشتر مقامات جدید اسلام آباد کے سیکٹروں، شاہراہوں اور عمارتوں میں گم ہو چکے ہیں، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس گم شدہ شاہراہ کے نقوش اب بھی کہیں نہ کہیں باقی ہیں۔ کبھی کسی پرانے پل کی صورت میں، کبھی کسی دربار، کسی قبرستان، کسی گاؤں کے نام یا کسی بزرگ کی یادداشت میں۔ سیدپور روڈ اگرچہ نقشوں سے تقریباً مٹ چکی ہے، مگر راولپنڈی اور اسلام آباد کی اجتماعی تاریخ میں اس کا وجود آج بھی زندہ ہے۔

رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔



  تازہ ترین   
وینزویلا میں زلزلے سے جانی نقصان پر صدر زرداری کا اظہارِ افسوس
وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، درجنوں عمارتیں منہدم، 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی
ایران جنگ میں یورپ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، ٹرمپ کا نیٹو چیف سے ملاقات میں شکوہ
ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان
ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس آج برآمد ہوں گے، سکیورٹی ہائی الرٹ
ایران اور چین نے جنوبی افریقہ کے سفارتی تعلقات پر امریکی تنقید مسترد کر دی
مفاہمت سے متعلق متضاد امریکی بیانات تہران کے واشنگٹن پر عدم اعتماد میں اضافہ کریں گے، ایران
24 گھنٹوں میں 2 کروڑ بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے عالمی منڈیوں کو روانہ ہوا، کرس رائٹ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر