اسلام آباد (شِنہوا) ٹیکنالوجی کے ایک پاکستانی ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور نوجوان ڈیجیٹل افرادی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں چینی منڈی تک زیادہ رسائی نئے کاروبارکے آغاز، فری لانسرز اور چھوٹے کاروبار کے لئے نئی راہیں کھول سکتی ہے جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔
سی ایکس او گلوبل فورم کے بانی کنول مسرور نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ چین دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے جہاں ہمیں اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کی منڈیوں کے درمیان ایک پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستانی ہنر مند افراد، نئے کاروباری ادارے اور چھوٹے کاروبار چین میں مواقع تلاش کر سکیں جبکہ چینی سرمایہ کاری کو بھی پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے کی جانب راغب کیا جا سکے۔
مسرور کے مطابق پاکستان کا ٹیکنالوجی شعبہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں صرف دوسرے ملکوں کو سافٹ ویئر کی خدمات فراہم کرنے پر انحصار کرنے کے بجائے جدت، کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل مصنوعات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ڈیجیٹل معیشت اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے چین اس سفر میں ایک فطری شراکت دار بن کر سامنے آ رہا ہے۔
سی ایکس او گلوبل فورم کاروباری روابط قائم کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے، یہ رواں سال کے آخر میں چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو چینی کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور جدت کے شعبوں سے جوڑا جا سکے۔
مسرور کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی نمایاں فری لانس معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک سرحد پار ڈیجیٹل تعاون میں ایک اہم شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اپنی ترقی یافتہ ڈیجیٹل معیشت، جدید پیداواری نظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کی وجہ سے منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں ابھرتی ہوئی منڈیوں کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، فن ٹیک حل اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشنز تیار کرنے کا ان کا تجربہ پاکستان کی صلاحیتوں اور جدت کے ساتھ مل کر بہترین نتائج دے سکتا ہے۔
مسرور نے دوطرفہ تعاون کے لئے تین اہم شعبوں ٹیکنالوجی فری لانسرز، سرمایہ کاری کے خواہاں نئے کاروبار اور اپنی مصنوعات و خدمات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی نشاندہی کی۔
مسرور کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ قریبی تعاون منڈی تک رسائی کے علاوہ پاکستان کے کاروبارکے آغازکے نظام کو درپیش بنیادی مسائل پر قابو پانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی میں نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن محدود سرمایہ کاری کے مواقع، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث نئے کاروبار کے لئے سرمایہ کاری حاصل کرنا اب بھی مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صلاحیت ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ ہمیں ایک طویل المدتی حکمت عملی، مضبوط تحقیق و ترقی اور ایسے پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے جو نئی چیزیں ایجاد کرنے والے افراد کو عالمی مواقع سے جوڑ سکیں۔
مسرور نے پاکستان میں توسیع کے خواہش مند چینی کاروبار کے لئے مقامی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جو چینی کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گی، صارفین کے رویوں کو سمجھیں گی اور مقامی ہنر مند افراد میں سرمایہ کاری کریں گی، انہیں نمایاں فوائد حاصل ہوں گے۔
چینی منڈی تک بہتر رسائی پاکستان کے ڈیجیٹل شعبے میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، ماہر



