گوئی یانگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کی تونگ رین یونیورسٹی میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ اقرا شہزاد کے لئے جن جیانگ دریا پر ہونے والی ڈریگن بوٹ ریس محض ایک دلکش منظر نہیں بلکہ چینی ثقافت کو قریب سے سمجھنے کا ایک منفرد ذریعہ بن گئی۔اقرا 2025 میں پاکستان سے انگریزی میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد چین آئیں۔ تونگ رین یونیورسٹی میں لسانیات کے ایک سالہ پروگرام کے دوران انہوں نے چینی زبان میں نمایاں مہارت حاصل کی تاہم ڈریگن بوٹ ریس کا پہلی بار براہ راست مشاہدہ ان کے لئے ایک بالکل نیا تجربہ ثابت ہوا۔یہ مقابلہ ہر سال بی جیانگ ضلع میں منعقد ہوتا ہے جہاں یونیورسٹی واقع ہے اور اس کی تاریخ کئی سو سال پرانی ہے۔ 2011 میں اسے چین کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس سال کا ایونٹ نے 3 سے زائد کھلاڑیوں کی توجہ حاصل کی، جن میں پڑوسی صوبے ہونان سے آنے والے شوقین افراد بھی شامل ہیں۔ڈریگن بوٹ فیسٹیول دو ہزار سال قبل کے محب وطن شاعر اور سیاست دان چھو یوآن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اسے دوان وو بھی کہا جاتا ہے۔ آج یہ تہوار ڈریگن بوٹ ریسوں اور زونگزی کے ذریعے منایا جاتا ہے۔اقرا نے کہا کہ ’’میں بہت پرجوش تھی۔ لوگوں کا ہجوم، جوش و خروش سے بھرپور ماحول اور ہر عمر کے افراد کی شرکت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ یہاں تک کہ بعض لوگ صرف ریس میں شرکت کے لئے اپنے گھروں کو واپس آئے تھے۔ اپنی ثقافت سے ان کی محبت واقعی قابل ستائش تھی۔اقرا نے بتایا کہ یہ جذبہ انہیں پاکستان کے پتنگ بازی کے میلوں کی یاد دلاتا ہے، جہاں لوگ اسی طرح مل جل کر مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ’’اگرچہ پاکستان کے زیادہ تر تہوار چین کے تہواروں سے مختلف ہیں لیکن پتنگ بازی کے مقابلوں میں بھی وہی اجتماعی خوشی اور ایک دوسرے سے جڑنے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔اقرا کے مطابق ان کے خاندان کا چین سے تعلق کافی پرانا ہے۔ ان کے بھائی نے 2020 میں ایک سال تک چین میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کی بہن نے تونگ رین یونیورسٹی میں اقرا کے ساتھ زبان کا کورس کیا تھا جنہوں نے اب چین کے شمال مشرقی شہر مودان جیانگ میں ویزا ایجنسی چلانے کا انتخاب کیا۔ثقافتی گرمجوشی کے علاوہ اقرا نے چین میں تحفظ اور ٹیکنالوجی کی سہولت کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں کھانا منگوا سکتی ہوں، ٹیکسی بک کر سکتی ہوں، تقریباً ہر چیز اپنے فون کے ذریعے کر سکتی ہوں۔ یہ بہت زیادہ آسان ہے۔ مجھے پہلے بتایا گیا تھا کہ چین خوبصورت اور محفوظ ملک ہے اور اگر آپ خوشگوار اور بھرپور زندگی چاہتے ہیں تو یہاں آنا چاہیے۔ اب میں خود یہ بات حقیقت میں دیکھ رہی ہوں۔ان کا مشاہدہ ایک بڑھتے ہوئے بین الثقافتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پاکستان نے دریائے کابل کے کنارے اپنی پہلی ڈریگن بوٹ ریس منعقد کی۔یہ ایک ایسا ایونٹ تھا جس نے کھیلوں، چینی ثقافت اور چین پاکستان دوستی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔اقرا کے لئے ایسے تبادلے محض علامتی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈریگن بوٹ ریس جیسی ثقافتی سرگرمیاں دونوں ممالک کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کو بہتر سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہ ہماری گہری دوستی کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔جیسے جیسے جن جیانگ دریا پر ڈھول کی آواز گونجتی ہے اور ڈریگن بوٹس پانی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں، اس سال کا تہوار نہ صرف چینی روایت کا جشن ہے بلکہ ایک ایسا پل بھی ہے جو پاکستانی دوستوں کو چینی زندگی کے قریب تر لے آتا ہے۔اقرا نے آخر میں کہا کہ ’’جوش، محبت اور جس طرح چینی لوگ اپنے تہواروں میں پوری طرح شامل ہوتے ہیں، یہ سب بہت جاندار اور متاثر کن ہے۔ میرے لئے یہی سب سے یادگار چیز ہے۔‘‘
پاکستانی طالبہ نے چین کے ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تقریبات میں ثقافتی رابطہ تلاش کر لیا



