واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق جیل قیدی اپنے مذہبی عقائد کی خلاف ورزی پر جیل حکام کے خلاف مالی ہرجانے کا مقدمہ نہیں کر سکتا۔
کیس کے مطابق لوزیانا کے سابق قیدی ڈیمون لینڈور کے مذہبی اعتقادات کے برخلاف اس کے ڈریڈ لاکس(بالوں کی مخصوص لٹیں) زبردستی کاٹ دئیے گئے تھے ۔ عدالت نے اس اقدام کو قابل افسوس قرار دیا، تاہم کہا کہ وفاقی قانون قیدیوں کو ایسے معاملات میں مالی معاوضہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ قانون کے تحت مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مالی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔



