تہران (شِنہوا) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو کہا ہے کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی امن کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بڑی حد تک ایرانی عوام کے مفادات پر مبنی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں مالیاتی اور بینکاری پالیسیوں سے متعلق ایک قومی کانفرنس سے خطااب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور واشنگٹن اب یہ تسلیم کر چکا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکرات نے معاشی بحالی، منڈیوں کے دوبارہ کھلنے اور مختلف مسائل کے حل کے لئے سازگار بنیاد فراہم کر دی ہے۔
صدر پزشکیان نے معاشی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد بیرل تیل برآمد کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی قطر میں منجمد ایران کے 6 ارب امریکی ڈالر کے اثاثے بھی جاری کر دیئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی مقصد کے لئے مرکزی بینک کے گورنر بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں امن کے مخالف ہیں اور “جنگ کو طول دینا، ایرران کو اپنے وسائل اور طاقت تک رسائی سے محروم رکھنا” چاہتے ہیں۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں اور یہ موقف مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دیرینہ نظریے کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران یہ موقف تحریری طور پر بھی دینے کے لئے تیار ہے۔
تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے اپنے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ماضی میں مذاکرات کار ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرانا چاہتے تھے، لیکن اب ایرانی مسلح افواج کی طاقت اور عوام کے عزم کے باعث اس حق کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
صدر پزشکیان نے خبردار کیا کہ “دشمن عناصر” قومی اتحاد اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ایرانی عوام کے مفاد میں ہے، صدر پزشکیان



