ہوانا (شِنہوا) کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگویز پاریلا نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو واشنگٹن کی جانب سے کیوبا کی تیل کی ناکہ بندی کی تردید کر کے غلط بیانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کی نفی کر رہے ہیں۔
روڈریگویز نے ایکس پر لکھا کہ جب امریکی وزیر خارجہ کیوبا میں نااہلی کی بات کرتے ہیں تو ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کیوں مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور کیوں امریکی صدر اور ان کی ترجمان کی نفی کرتے ہیں حالانکہ خود وائٹ ہاؤس ایندھن کی مکمل ناکہ بندی تسلیم کر چکا ہے۔
روڈریگویز نے کہا کہ کیوبا کی صورتحال کے بارے میں روبیو کا ہر حوالہ ذمہ داری سے بچنے اور خود کو مسیحا کے طور پر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔
کیوبا کے وزیر نے معاشی طور پر کیوبا کا گلا گھونٹنے کے روبیو اور امریکی انتظامیہ کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ غیر ملکی کمپنیوں کو جزیرے کے تھرمل الیکٹرک پلانٹس کے لئے پرزے اور ٹیکنالوجی فروخت کرنے سے روکتا ہے۔
روڈریگویز نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دنیا کی کسی بھی کمپنی کو ہمارے ملک کو تیل فروخت کرنے سے روکتا ہے اور یہ کیوبا کی کمپنی کیوپٹ پر بھی پابندیاں عائد کرتا ہے جو کیوبا میں ایندھن کی نقل و حمل سنبھالنے کے لئے بنیادی ڈھانچہ اور صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روبیو کھلے عام کیوبا کے آئینی نظام کے خلاف بغاوت کی اپیل کرتے ہیں اور مسلسل کیوبا میں امریکی فوجی مداخلت کے خواہاں رہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے 29 جنوری کو دستخط کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر نے وائٹ ہاؤس کو اختیار دیا تھا کہ وہ کیوبا کو ایندھن برآمد کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کر سکتا ہے۔
کیوبا نے ایندھن کی ناکہ بندی کے متعلق امریکی وزیر خارجہ کی تردید جھوٹ پر مبنی قرار دے دی



