ٹوکیو (شِنہوا) مارچ 1940 میں منعقدہ ایک جاپانی فوجی طبی کانفرنس کی رپورٹ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جاپانی شاہی فوج نے چین پر اپنے حملے کے دوران ممکنہ طور پر متعدد بار ایسے تجربات کئے جن میں انسانوں میں جانوروں کا خون منتقل کیا گیا۔
جاپانی کیوڈو نیوز نے بتایا کہ یہ تجربات 1938 کے موسم خزاں میں ایک نامعلوم مقام پر کئے گئے تھے اور ان کے لئے استعمال کئے جانے والے 23 افرادکی شناخت واضح نہیں کی گئی ہے۔
دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ تجربات کرنے والوں نے کچھ افراد کے جسموں میں جانوروں کا خون یا سیرم داخل کیا تھا۔ خاص طور پر خون کے ضیاع کی وجہ سے شدید بیمار افراد کے جسموں میں بڑی مقدار میں گھوڑے کا خون منتقل کیا گیا اور یہ دیکھنے کے لئے کہ مرغی کا خون انسانی جسم میں کتنی دیر تک باقی رہتا ہے، انسانوں کو مرغی کے خون کے انجکشن لگائے گئے۔ اس دستاویز میں ان افراد پر ہونے والے مضر اثرات کا ریکارڈ بھی موجود ہے، جس میں خون کی منتقلی کے بعد تیز بخار ہونا شامل ہے۔
کیوڈو نیوز نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات طبی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی تھے۔ یہ دستاویز جاپانی آرمی میڈیکل کور کی جانب سے شائع کئے جانے والے ایک جریدے سے ملی ہے۔ باوجود اس کے کہ جنگ عظیم دوم میں شکست کے بعد جاپانی فوجی حکام نے انسانوں پر کئے جانے والے تجربات سے متعلق تمام شواہد کو مٹانے کی بھرپور کوششیں کی تھیں۔
حالیہ برسوں میں جاپانی محققین اور میڈیا اداروں نے جنگ کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم کے مزید شواہد یکے بعد دیگرے بے نقاب کئے ہیں، جن میں جاپانی فوج کی جانب سے انسانوں پر کئے جانے والے یہ ہولناک تجربات بھی شامل ہیں۔
بعض مورخین کا موقف ہے کہ جاپان کو اپنی جارحانہ جنگ اور وحشیانہ اقدامات، خاص طور پر جنگی جرائم اور انسانوں پر کئے جانے والے تجربات جیسے لرزہ خیز مظالم کے حوالے سے تفصیلی غور و فکر کرنا چاہیے۔
چین پر حملے کے دوران جاپانی فوج نے انسانوں پر جانوروں کے خون کے تجربات کئے، جاپانی میڈیا کا انکشاف



