بیجنگ (شِنہوا) جمعہ کی صبح سے ہی چین کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں پھیلی ہوئی آبی گزرگاہیں ڈھول کی تھاپ اور چپوؤں کی تال سے گونج رہی ہیں کیونکہ لوگ ڈریگن بوٹ فیسٹیول منا رہے ہیں۔
یہ منظر شہریوں کے لئے ایک بہترین تفریحی موقع فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ جمعہ سے اپنی تین روزہ چھٹی کا آغاز کر رہے ہیں جبکہ قریبی علاقوں کے دیہاتی بھی اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی اور جشن میں شرکت کے لئے بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔
چین میں روایتی ثقافت کی بحالی کے ساتھ ڈریگن کشتی میلے کی تقریبات پہلے سے زیادہ پرجوش ہو گئی ہیں، جس سے سیاحت اور ثقافتی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے معاشی اور سماجی اثرات صرف تین روزہ تعطیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ مقامی سیاحت اور متعلقہ صنعتوں کو طویل عرصے تک فروغ دیتے ہیں۔
مئی سے چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے تونگ رین شہر سے گزرنے والا دریائے جن جیانگ ڈریگن کشتی کے کھلاڑیوں کے لئے تربیتی میدان بن گیا ہے۔
اگرچہ یہ صدیوں پرانا کھیل متحارب ریاستوں کے دور (475-221 قبل مسیح) میں ریاست چھو کے مشہور شاعر اور وزیر “چھو یوآن” کی یاد میں منایا جاتا ہے، جنہوں نے جھوٹے الزامات اور جلاوطنی کے بعد دریائے میلو میں خودکشی کر لی تھی لیکن اس کی جدید شکل آج بھی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور خاص طور پر برادری کے تعلقات کو مضبوط کرتی ہے۔
تونگ رین ڈریگن کشتی کی دوڑ کی مضبوط روایت رکھتا ہے، وہاں مزدور طبقے کے لوگ بھی دور دراز شہروں سے واپس آتے ہیں تاکہ اپنے گاؤں اور محلوں کی نمائندگی کر سکیں۔ اس گہری وابستگی نے ان مقابلوں کو ایک بڑی سیاحتی کشش میں تبدیل کر دیا ہے۔
گزشتہ سال تونگ رین کی سالانہ تقریب سے 38 کروڑ 40 لاکھ یوآن (تقریباً 5 کروڑ 64 لاکھ امریکی ڈالر) کی سیاحتی آمدنی ہوئی جبکہ تقریباً 3 لاکھ افراد نے دریائے جن جیانگ کے کناروں پر یہ مقابلے دیکھے۔
خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ آنے والے سیاح اب صرف شہر کے مرکزی علاقوں تک محدود نہیں رہے۔ اب زیادہ تر سیاح اپنے سفر کو دیہی علاقوں تک بڑھا رہے ہیں، جہاں وہ دن کے وقت دریائے جن جیانگ کے کنارے ڈریگن کشتی کی دوڑ دیکھتے ہیں اور شام کو پہاڑی علاقوں میں واقع دیہی رہائش گاہوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔
قریبی گاؤں بان لی یوآن میں اس سال کی تقریب سے پہلے ہی مقامی رہائش گاہوں کی بکنگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک قیام گاہ کمپلیکس کے جنرل منیجر تانگ چھینگ یونگ نے بتایا کہ ان کے ہاں 25 کمرے اور 47 بستر ہیں جو گزشتہ سال ڈریگن بوٹ فیسٹیول کی تعطیلات کے دوران مکمل طور پر بک ہو گئے تھے۔ 16 جون تک اس سال کی تعطیلات کے لئے بکنگ پہلے ہی 80 فیصد گنجائش تک پہنچ چکی تھی، جبکہ تقریباً 90 فیصد مہمان صوبے سے باہر سے تعلق رکھتے تھے۔
میلے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سیاحوں کو کم معروف کاؤنٹیوں اور دیہی علاقوں کی طرف کھینچ رہی ہے۔ جو مسافر عام راستوں سے ہٹ کر سفر کرتے ہیں وہ اکثر زیادہ حقیقی اور پرجوش تجربے سے لطف اندوز ہوتے ہیں جہاں وہ مقامی روایات میں بھرپورطریقے سے شامل ہو جاتے ہیں۔
چین کے مشرقی صوبے جیانگشی کے شہر شن یو کی کاؤنٹی فین یی میں قریبی دیہات کی 16 ٹیموں پر مشتمل ایک ڈریگن بوٹ ریس کا انعقاد 30 اور 31 مئی کو کیا گیا جو اس سال کے ڈریگن کشتی میلے سے کافی پہلے تھا۔ اس کاؤنٹی میں شمالی سونگ دور (960-1126) سے ڈریگن کشتی دوڑ کا تحریری ریکارڈ موجود ہے۔
یہاں جیتنے والوں کو تمغوں یا انعامی رقم کے بجائے مویشی دیئے گئے، چیمپئن ٹیم کو ایک بھینس، دوسرے نمبر پر آنے والوں کو ایک بیل اور تیسرے نمبر کی ٹیم کو تین بکریاں دی گئیں۔
یہ مقابلہ “لووسی قصبے” نامی صنعتی ورثے کے پارک میں منعقد ہوا، جس میں 22 افراد پر مشتمل مردوں کی ٹیموں نے 200 میٹر اور 500 میٹر کے فاصلے کی ڈریگن کشتی دوڑ میں حصہ لیا۔
تقریب کے مقام پر ایک بازار بھی لگایا گیا تھا جہاں مقامی اشیاء، سٹریٹ فوڈ اور ہاتھ سے بنی ثقافتی مصنوعات فروخت کی جا رہی تھیں جبکہ قریبی سیاحتی مقامات کے لئے رعایتی ٹکٹ بھی دیئے گئے۔ اس دوران صرف اس پارک نے ہی 57 ہزار سیاحوں کا خیرمقدم کیا اور 3 لاکھ 96 ہزار یوآن کی آمدنی ہوئی۔
چین میں ڈریگن بوٹ فیسٹیول کے ورثے سے سیاحت اور ثقافتی اخراجات میں اضافہ



