اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا یہ جو ایران کا مسئلہ تھا وہ بہت خوش اسلوبی سے حل ہوا ہے ۔ اس کے بعد ہم پوری یکسوئی کے ساتھ افغانستان کے ذریعے ہمارے خلاف جاری پراکسی جنگ اور بھارت کی جانب سے ہونے والی مداخلت کے معاملے پر بھی توجہ دیں گے ، آبی جارحیت کا بھی مکمل بندوبست کیا جائے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر اس مسئلے کا حل امن کے ذریعے نکل آئے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی لیکن اگر امن کا راستہ مو ثر ثابت نہ ہوا تو پھر دوسرے آپشنز بھی موجود ہیں۔جہاں تک مودی، بھارتی قیادت یا کسی اور طبقے کی تکلیف کا تعلق ہے تو یہ ایک فطری بات ہے ، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں۔ گزشتہ سال معرکہ حق میں جو شکست بھارت کو ہوئی، اس کی تکلیف اور ذلت آج بھی انہیں محسوس ہو رہی ہے ۔ اس شکست کی داستان تاریخ میں مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ اگر انہوں نے دوبارہ کسی قسم کی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو انشاء اللہ ہم ہر وقت اور ہر لمحہ تیار ہیں اور پچھلی بار سے بھی زیادہ ذلت آمیز شکست بھارت کا مقدر بنے گی۔ خواجہ آصف نے مزید کہا آزاد کشمیر میں جو زبان بولی جا رہی ہے ، وہ نہ آزاد کشمیر کی نمائندہ زبان ہے اور نہ ہی پاکستان کی، یہ دراصل بھارت کے بیانیے کی عکاس ہے ۔ جو بھی اس انداز میں بات کر رہا ہے ، وہ بھارت کے موقف کو تقویت دے رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ برطانیہ میں بیٹھ کر ان سرگرمیوں کو ہوا دے رہے ہیں اور انہیں فنڈ کر رہے ہیں، وہ بھی بھارت کے پراکسی نیٹ ورک کا حصہ بن کر کام کر رہے ہیں۔
آبی جارحیت کا بھی مکمل بندوبست کیا جائیگا:خواجہ آصف



