تہران (شِنہوا) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگرچہ ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی اجازت دی۔
انہوں نے یہ بات ایرانی عوام کے نام ایک پیغام میں کہی جسے ایرانی میڈیا نے نشر کیا۔ یہ پیغام اس وقت سامنے آیا جب صدر پزشکیان اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔
خامنہ ای نے کہا کہ متعلقہ ایرانی حکام نے اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے “ہمدردی اور نیک نیتی” کے ساتھ قابل ذکر کوششیں کیں، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ امریکی صدر ہی تھے جنہوں نے اس مقصد کے لئے مختلف ذرائع اور دباؤ استعمال کئے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اصولی طور پر میری رائے مختلف تھی، لیکن میں نے اجازت اس لئے دی کیونکہ محترم (ایرانی) صدر نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل (ایس این ایس سی) کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی اور دیگر ارکان کی جانب سے مجھے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کریں گے اور انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔
خامنہ ای نے مزید کہا کہ پزشکیان اور ایس این ایس سی کے دیگر ارکان نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر امریکہ بہت زیادہ مطالبات پیش کرے گا تو وہ انہیں قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس وقت سے وہ اور قابل فخر ایرانی قوم اس معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے طے کی گئی شرائط پر عملدرآمد کے منتظر رہیں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کامطلب یہ نہیں کہ دشمن کے موقف کو قبول کریں گے۔
اختلاف رائے کے باوجود امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی اجازت دی، ایرانی سپریم لیڈر



