کونمنگ (شِنہوا) دوپہر کے کھانے کے وقت جاری 10 ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش میں”فرینڈز ریسٹورنٹ” کے سٹال کے سامنے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ سیاح سموسہ، بریانی اور بیف قورمہ پراٹھا جیسے روایتی پاکستانی کھانوں کا آرڈر دینے کے لئے جمع ہوتے ہیں، جنہیں نمائشی ہال میں پھیلی ہوئی ان کھانوں کی خوشبو اپنی جانب کھینچ لاتی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اس ریسٹورنٹ نے نمائش میں اپنا سٹال لگایا ہے اور اس کے مالک احمد عدنان کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ چینی عوام کو پاکستانی کھانوں کے اصل ذائقوں سے متعارف کرایا جائے۔احمد عدنان کا صوبہ یون نان اور اس نمائش کے ساتھ تعلق ان کے زمانہ طالب علمی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے یون نان نارمل یونیورسٹی میں چینی زبان کی بین الاقوامی تعلیم حاصل کی اور روانی سے چینی زبان سیکھ لی۔ اس دوران وہ نمائش میں شریک پاکستانی نمائش کنندگان کے لئے مترجم کے طور پر رضاکارانہ خدمات انجام دیتے تھے۔ چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں نے ان پر گہرا اثر چھوڑا اور ان کے سرحد پار کاروبار کے خواب کو جنم دیا۔2020 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان واپس جانے کے بجائے یون نان میں ہی اپنا مستقبل بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے پاکستانی قیمتی پتھروں اور ہاتھ سے بنے فرنیچر کی تجارت شروع کی اور مختلف حیثیت میں کئی بار نمائش میں شرکت کی۔احمد عدنان نے کہا کہ “چند سال پہلے میں یہاں پاکستانی تاجروں کی دستکاری اور فرنیچر فروخت کرنے میں مدد کرتا تھا اور آج اپنے وطن کا کھانا لے کر آیا ہوں۔ یہ تبدیلی میرے کاروباری اور دوستانہ تعلقات کے سفر کا ایک فطری تسلسل محسوس ہوتی ہے۔خوراک ہمیشہ سے ان کا پسندیدہ شعبہ رہا ہے۔ ان کے خاندان کا پاکستان میں ایک ریسٹورنٹ تھا، جہاں انہوں نے بچپن ہی سے روایتی کھانے پکانے اور ریسٹورنٹ چلانے کی مہارتیں سیکھیں۔گزشتہ سال کے آخر میں انہوں نے کونمنگ کے یونیورسٹی ٹاؤن میں “فرینڈز ریسٹورنٹ” کا افتتاح کیا، جس کا نعرہ ہے “اچھا کھانا، اچھے دوست، بہترین لمحات”۔ صرف چھ ماہ کے اندر یہ ریسٹورنٹ مقامی لوگوں میں بے حد مقبول ہو گیا۔ اس کی کامیابی کی ایک وجہ اصل پاکستانی اجزاء اور پکانے کے روایتی طریقوں پر سختی سے عمل کرنا ہے، جس سے پاکستانی ذائقوں کی اصل روح برقرار رہتی ہے۔احمد عدنان نے کہا کہ “ہمارا نعرہ میری دلی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ مزیدار کھانا لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ پاکستانی کھانے کا ہر لقمہ چینی اور پاکستانی دوستوں کے درمیان ایک چھوٹے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا چھوٹا سا ریسٹورنٹ کونمنگ میں اتنا پسند کیا جائے گا۔ اسے چین-جنوبی ایشیانمائش میں لانا میرے لئے ایک قیمتی موقع ہے تاکہ مزید لوگ ہمارے گھریلو انداز کے پکوان چکھ سکیں اور پاکستانی غذائی ثقافت سے واقف ہوں۔احمد عدنان کے لئے یون نان اب دوسرا گھر بن چکا ہے۔ وہ ریسٹورنٹ کے ساتھ ساتھ اپنی دستکاری اور فرنیچر کی تجارت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرحد پار تجارت سے لے کر ریسٹورنٹ کے کاروبار اور نمائش میں خوراک کے نمائش کنندہ بننے تک، وہ مسلسل اپنے کاروباری دائرے کو وسعت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “میں تعلیم کے لئے یون نان آیا، کاروبار کے لئے یہیں رکا اور دوستیوں کی وجہ سے یہیں جڑیں مضبوط کر لیں۔ خوراک کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ میں اپنے ریسٹورنٹ کو مزید بہتر بناتا رہوں گا اور مزیدار پاکستانی کھانوں کے ذریعے چینی اور پاکستانی عوام کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط کروں گا۔دوستی کے جذبے اور یون نان سے گہرے تعلق کے ساتھ یہ نوجوان پاکستانی کاروباری اس سرزمین پر اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے کوشاں ہے۔ اس کا سفر چین اور پاکستان کے عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی اور عوامی روابط کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔
کھانے دوستی کی بنیاد: پاکستانی نوجوان چین-جنوبی ایشیا ایکسپو میں مقامی پکوان لے آئے



