لاہور(نیشنل ٹائمز)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے وقف اراضی سے متعلق 30 سال پرانا تنازع نمٹا دیا،عدالت نے وقف زمین پر سرکاری سکول تعمیر نہ ہونے پرزمین واپس اصل مالک کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ، اراضی اصل مالک کو نہ دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، انہوں نے فیصلے میں کہا کہ 1996ء میں اپیل کنندہ نے گوجرانوالہ کے گاؤں میں سرکاری سکول کی تعمیر کے لیے 4 کنال زمین وقف کی، 30 سال گزرنے کے باوجود سکول تعمیر نہ ہونے پر مالک نے زمین کی واپسی کا دعویٰ دائر کیا، انہوں نے قرار دیا ہے کہ اگر حکومت مقررہ مدت میں پروجیکٹ مکمل نہ کرے تو اراضی اصل مالک کو واپس کرنا ہوگی۔
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی فلاح اور نیک نیتی کے تحت زمین عطیہ کئے جانے کا مقصد اگر پورا نہ ہو سکے تو متعلقہ سرکاری ادارہ اراضی پر قبضہ برقرار رکھنے کا حق نہیں رکھتا، عدالت نے واضح کیا کہ محکمہ تعلیم یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی نااہلی کی سزا شہری کو اس کی ملکیت سے محروم رکھ کر نہیں دی جا سکتی،عدالت نے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی کر کے انتقال اراضی منسوخ کرنے کا حکم دیا،عدالت کے روبرو مقدمے کے مطابق گاؤں گاگیوالی میں ایک شہری نے سکول کی تعمیر کے لیے چار کنال اراضی وقف کی تھی، محکمہ تعلیم جگہ پر کوئی تعلیمی ادارہ تعمیر نہ کر سکا اور نہ ہی منصوبے پر عملی پیش رفت کی گئی،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں وقف اراضی کے استعمال میں تبدیلی سے متعلق اصول واضح کر دئیے ہیں اس فیصلے کو اہم عدالتی نظیر قرار د یا جارہاہے ۔



