تحریر: عابد حسین قریشی
زندگی میں بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ یاد رہ جاتے ہیں، اور بہت سے بھول جاتے ہیں۔چند سے بندہ کچھ سیکھتا یے، اور بہت سے آپکو سبق سکھا جاتے ہیں۔ دوست بھی ملتے ہیں اور دوست نما بھی، دوستوں میں بدخواہ بھی اور دشمنوں میں دوست بھی۔جو آپکو چھوڑنا چاہے، اسے مت روکیں کہ جانے والے کب رکتے ہیں، جو چلا گیا، وہ تمہارا تھا ہی نہیں، اور اگر کوئی واپس آنا چاہے تو دروازے کھلے رکھیں۔ بعض اوقات آپ کو نیکی اور بھلائی ان سے مل جاتی ہے، جن پر نہ اعتماد ہوتا ہے، نہ بھروسہ، اور بعض اوقات تکلیف اور وار وہاں سے آتا ہے، جہاں سے امید ہی نہیں ہوتی۔ البتہ دونوں کے درد اور تکلیف کی لذت جداگانہ ہے۔ کسی دشمن کے ہاتھ سے پہنچی تکلیف کی شدت شاید اسلئے بھی کم ہوتی ہے، کہ وہاں سے اسی کی توقع ہوتی ہے، مگر کسی سجن کے ہاتھوں لگے زخم کا چرکا خواہ گہرا نہ بھی ہو، مگر اذیت زیادہ دیتا ہے، اور زخم کو ہرا بھی تادیر رکھتا ہے۔ شاید ہم جو نظر آتے ہیں، وہ ہوتے نہیں، اور جو ہوتے ہیں، وہ نظر نہیں آتے، مگر جو نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا بننے کی کوشش نہیں کرتے۔ کسی کی تکلیف میں اسکے ساتھ کھڑا ہونا ، اسکا مداوا کرنا، اور کسی کی تکلیف کی لذت لینا ، فرق تو بہت ہے۔ ہم میں ہزار خوبیاں ہوں، مگر آپ کے نقادوں اور حاسدین کی نظر آپکی کمزوریوں پر رہے گی۔ وہ اس وقت وار کریں گے، جب آپ کہیں غلطی کریں گے۔ حاسد آپکا دشمن نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس نعمت خداوندی کا ہوتا ہے، جو آپکو اللہ تعالٰی نے عطا فرمائی ہوتی ہے۔ وہ درحقیقت خدائی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا۔ ویسے یہاں خدائی تقسیم پر راضی کون ہے۔ اکثر لوگ تو مقدر سے گلے شکوے کرتے دیکھے۔ شکر گزاری اور ناشکری میں کافی فاصلہ ہے۔ ناشکری عدم اطمینان، بے صبری، جھنجھلاہٹ اور بے چینی کو جنم دیتی ہے، جبکہ شکر گزاری قناعت، صبر، اطمینان، توکل اور راحت و مسرت کو پیدا کرتی ہے۔ ہم شکرگزاری والا آسودہ اور اجلا راستہ چھوڑ کر ناشکری والی تہمت اپنے ذمہ لیکر زندگی میں قرار اور سکون ڈھونڈتے ہیں، جو ناممکن ہے۔



