کوئٹہ،کراچی(نیشنل ٹائمز)تیزاب حملے میں جھلسنے والی لیڈی ڈاکٹر کراچی آغا خان ہسپتال کے برن سینٹر میں زیر علاج ہیں،ڈاکٹروں کے مطابق ان کی بینائی محفوظ ہے ،تاہم ان کو دھندلا نظر آنے کی شکایت ہے ،انہوں نے بتایا کہ ہوسکتا ہے یہ دھندلا پن چہرے پر سوجن کی وجہ سے ہو،سوجن اترنے پرہی صورتحال واضح ہو گی ، متاثرہ ڈاکٹر کے چچا کے مطابق چہرے کے علاوہ اُن کی بھتیجی کے دائیں ہاتھ اور پاؤں پر بھی زخم ہیں،ا نہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز نے ابتدائی طور پر بتایا ہے کہ ہمیں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ ہسپتال میں گزارنا ہوں گے جس کے دوران متعدد سر جریز ہوں گی ، صحتیابی کا عمل وقت لے سکتا ہے ،دوسری طرف ڈاکٹر کو بچاتے ہوئے زخمی ہونے والے پیرامیڈیک عبدالرزاق خلجی نے کہا ہے کہ خاتون ڈاکٹر اتنی شدید تکلیف میں تھیں کہ انہوں نے مجھے اپنی طرف کھینچا تو تیزاب کے اثرات سے میں بھی زخمی ہوا،میں نے اپنا ایپرن اُتار کر اُن کے اوپر ڈال دیا، ابتدا میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اُن پر تیزاب پھینکا گیا ہے ، عبدالرزاق خلجی کوئٹہ سول ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی مدد کیلئے سب سے پہلے پہنچے تھے ،وزیر اعلٰی بلوچستان نے ان کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے ۔
یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ ملزم کی شناخت ہسپتال کے لفٹ آپریٹر ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی تھی جو بعدازاں پولیس کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔تاحال پولیس یا حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے ۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل، ڈاکٹر صابر مندوخیل سمیت دیگر نے ہسپتال میں تیزاب گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کی سکیورٹی پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لوگوں کو سونپی جائے ،واقعہ کی غیر جانبدار ، صاف اور شفاف تحقیقات کے لئے ججز کمیٹی تشکیل دیکر حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، ڈاکٹر ماہ نور کو حکومتی اخراجات پر علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں،انہوں نے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی کو غیر معینہ مدت تک بند رکھتے ہوئے ہسپتال میں احتجاجی کیمپ لگانے کااعلان کیا۔



