سمٹ ہوٹل سکردو میں ایک خوبصورت اتفاق

تحریر: سعدیہ نارو

سمٹ ہوٹل سکردو میں ٹریکرز اور کوہ پیماؤں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، اس لیے وہاں کسی جانی پہچانی شخصیت سے اچانک ملاقات ہو جانا بعید نہیں۔ کے ٹو ٹریک سے واپسی پر سمٹ ہوٹل میں میری ملاقات ایک جانی پہچانی اور معتبر ٹریکر پارس علی سے ہوئی۔ یہ ملاقات محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک خوبصورت اتفاق تھا۔ سکردو میں ہماری آخری رات تھی اور صبح ہم سب ساتھیوں نے اس شہر کو الوداع کہہ کر اپنے اپنے شہروں کی سمت روانہ ہو جانا تھا۔
سب ساتھی ٹیم لیڈر عمیر حسن کی جانب سے دیے گئے الوداعی عشائیے میں شریک تھے۔ بارہ دن کی مسلسل ٹریکنگ نے ہم سب کے چہروں کو دھوپ سے جھلسا دیا تھا، آنکھوں میں بے خوابی اتر آئی تھی اور اعصاب تھکن کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ مگر اس سب کے باوجود ہر چہرے پر ایک عجیب سی طمانیت اور مسکراہٹ تھی۔ عقبی لان میں سجی میزوں پر بیٹھے ہم سب کھانے سے زیادہ شاید ان لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو اب یاد بننے والے تھے۔
میں بھی چند ساتھیوں کے ساتھ محوِ گفتگو تھی اور موضوع پاکستان کے ٹور آپریٹرز تھے۔ باتوں کے دوران میری نظر کچھ فاصلے پر کھڑی ایک خاتون پر جا ٹھہری۔ رات کا وقت تھا اور میرا چشمہ بھی میرے پاس نہیں تھا۔ میں نے غور سے دیکھتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے کہا،
“یہ مجھے پارس جیسی لگ رہی ہیں۔”
اور وہ واقعی پارس ہی تھیں۔
میرا جملہ اُن کے کانوں تک پہنچ چکا تھا۔ وہ مسکرائیں اور ہنستے ہوئے بولیں،
“میں پارس ہی ہوں۔”
اگرچہ فیس بک کے توسط سے ہم ایک دوسرے سے واقف تھیں، مگر یہ ہماری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔
پارس کراچی سے اپنے میاں اور بیٹے کے ساتھ سکردو کی سیر کے لیے آئی تھیں اور شاید قسمت نے ہماری ملاقات اسی رات کے لیے محفوظ کر رکھی تھی۔ ابتدا میں چند منٹ کھڑے کھڑے گفتگو ہوئی، مگر مزاج اور شوق جب ایک جیسے ہوں تو بات مختصر کہاں رہتی ہے۔ ان کے میاں صاحب اور فرزند نے شاید صورتحال بھانپ لی تھی، اس لیے وہ ہمیں گفتگو کے لیے چھوڑ کر اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔
چائے کی دعوت پر پارس میرے ساتھ لان میں آ بیٹھیں۔ پھر باتوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ موضوعات بدلتے گئے اور وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔ سفر، پہاڑ، لوگ، مشاہدے اور تجربات۔ ہر بات سے ایک نئی بات جنم لیتی رہی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ پہلی ملاقات نہیں بلکہ کسی ادھوری گفتگو کا تسلسل ہو۔
جب رات ایک بجنے کے قریب پہنچی تو ہمیں مجبوراً گفتگو کو سمیٹنا پڑا۔ مگر بعض ملاقاتیں ختم نہیں ہوتیں، صرف مؤخر ہوتی ہیں۔ زندگی نے مہلت دی اور قسمت نے ساتھ دیا تو کسی نئے سفر، کسی نئے راستے پر پھر ملاقات ہو گی اور ہم وہیں سے بات شروع کریں گی جہاں اُس رات چھوڑ دی تھی۔



  تازہ ترین   
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام
پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن
روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن
خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت
سعودی وزیر دفاع کے امریکی و فرانسیسی وزرائے دفاع سے رابطے، امن کیلئے اقدامات پر زور
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا
افغان طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی، ڈرون حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر