کوئٹہ (نیشنل ٹائمز) چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے زور دار دھماکے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ اس کے فوری بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سیکیورٹی فورسز، ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک مسافر ٹرین وہاں سے گزر رہی تھی۔ ٹرین میں عید کی چھٹیاں منانے اپنے آبائی علاقوں کو جانے والے مسافر سوار تھے، جن میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ جونیئر اسسٹنٹ کالونی اور شہباز ٹاؤن میں کئی گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں جھٹکوں سے اکھڑ گئیں۔ ریلوے ٹریک کے قریب آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل کارروائی میں مصروف ہیں۔
ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق دھماکہ خودکش نوعیت کا تھا جس میں 30 کلوگرام سے زائد بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جبکہ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں جاں بحق افراد کی 18 لاشیں سول ہسپتال منتقل کی گئی تھیں، تاہم بعد ازاں شہداء کی تعداد 25 سے تجاوز کر گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد 52 بتائی جا رہی ہے۔ ڈی ایس پی سٹی قادر قمبرانی کے مطابق زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ کے قریب جمع نہ ہوں تاکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حکام کے مطابق جلد مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
چمن پھاٹک کے قریب خوفناک دھماکہ، شہداء کی تعداد 25 سے تجاوز، 52 افراد زخمی



