مکہ مکرمہ (نیشنل ٹائمز)مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سائے تلے 12لاکھ سے زائد مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں جمع ہو رہے ہیں، جبکہ نازک جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی بدستور موجود ہے ۔ سعودی حکام اس بات کے خواہاں ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی سالانہ مذہبی عبادات میں سے ایک کے لیے طویل سفر طے کر کے آنے والے زائرین کے ذہنوں سے تنازع کو دور رکھا جائے ۔ اپنے خاندان کے ساتھ سفر کرنے والی 36 سالہ جرمن خاتون فاطمہ نے اے ایف پی کو بتایا، “ہم جانتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے محفوظ جگہ پر ہیں۔” حکام کے مطابق، اس ہفتے تک 12 لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ چکے تھے ، جہاں پیر سے شروع ہونے والی کئی روزہ حج عبادات ادا کی جائیں گی۔ اندازہ ہے کہ دسیوں ہزار ایرانی اس سال حج میں شرکت کریں گے ۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے علاوہ، کھلے ماحول میں ہونے والا حج ایک بار پھر شدید گرمی میں ادا کیا جائے گا، جہاں ہفتے کے بیشتر دنوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 فارن ہائیٹ) سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی ہے ۔
سعودی حکام نے گرمی سے بچاؤ کے متعدد اقدامات متعارف کروائے ، جن میں مزید سایہ دار مقامات اور ہزاروں اضافی طبی عملہ شامل ہے ۔ سعودی وزارتِ صحت کے مطابق، 50 ہزار سے زائد طبی اہلکار اور 3000 ایمبولینسز ضرورت مند حجاج کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ شدید گرمی اور جنگ کے باوجود، اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ میں حج کی تقریبات کے آغاز پر حجاج جذبات سے مغلوب دکھائی دیے ۔ 47 سالہ احمد ابو سیتہ نے اے ایف پی کو بتایا، “حج میری زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا، اور اب یہ آخرکار پورا ہو رہا ہے ۔”



