لاہور(نیشنل ٹائمز)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران امریکا معاہدے سے متعلق اس وقت بہت سی خبریں چل رہی ہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بات ہو گئی ،اگرایسی بات ہے تو محسن نقوی کو واپس آجانا چاہئے تھا مگریہاں کچھ اور ہوا ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام”آج کی بات سیٹھی کے ساتھ”میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اب فیلڈ مارشل کو ایران جانا پڑ گیا ،اس کا مطلب ہے کہ جو خبریں آئی ہیں صحیح نہیں ہیں ،اسی لئے فیلڈ مارشل بھی وہاں موجود ہیں، خبریں یہ ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کہہ رہا ہے ہم ابھی نیوکلیئر ایشو پر بات نہیں کریں گے ،پہلے ہمارے ساتھ سیزفائر کریں ،میں نے پہلے بھی کہا کہ ایران افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے نہیں کرے گا، ہوسکتا ہے یورینیم روس اپنے پاس رکھ لے ، یہ ایشو ابھی رہ گیا ہے ۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ایک ایسا ایشو چاہئے جس کی بنیاد پر وہ پیچھے ہٹے اور اپنی عوام کو کہے میں جیت کر آگیا ہوں ، اب دیکھنا ہے کیا فیلڈ مارشل ایران کو نیوکلیئر ایشو پر قائل کرلیں گے ،ایک اور پیش رفت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہر ملک دن بدن ایران سے الگ ڈیل کررہا ہے ، پاکستان ،چین اور انڈیا نے ڈیل کرلی ، یہاں تک کہ ڈیل کیلئے یورپ بھی تیاری کررہا ہے ، ایران نے بڑا ڈرامہ یہ کیا کہ اس نے ہر مز کی حدود کو وسیع کردیا ، میں سمجھتا ہوں آبنائے ہرمز کا مسئلہ ایران نے حقیقتا گردن سے پکڑلیا ،سوائے دو تین ممالک کے سب ایران کے ساتھ مک مکا کررہے اور ان کے جہاز گزرر ہے ہیں، دنیا نے حقیقت کو جان لیا کہ ایران ہارا نہیں بلکہ جیت چکا،ناکہ بندی ان ممالک کیلئے ہے جو پیسے نہیں دے رہے ، یا ایران کے دشمن ہیں،ایران نے 8، 10 ممالک کو اپنا دشمن قرار دیا ہے ، باقی سب ممالک کو کہہ رہے ہیں کہ کچھ دو اوریہاں سے گزر جائو،ممالک دے کر نکل رہے ہیں۔



