پاکستانی تاجروں نے چین میں نئے کاروباری مواقع کی راہیں کھول دیں

گوئی یانگ (شِنہوا) چین میں تقریباً 2 دہائیوں سے رہائش پذیر اور کاروبار کرنے والے پاکستانی تاجر کا کہنا ہے کہ یہاں ہم مستقبل دیکھتے ہیں۔اس سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 2025 میں دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت 180.59 ارب یوآن (تقریباً 26.55 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کی نسبت 10.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔شہزاد پہلی بار 2006 میں 18 سال کی عمر میں چین آئے اور 2 سال بعد پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ انہوں نے طبی آلات کی تجارت شروع کی اور چین سے پاکستان میں ماسک اور یورینری کیتھیٹرز جیسے ڈسپوزایبل مصنوعات برآمد کرنے لگے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت 2 ماہ کے اندر خریداری کی مالیت تقریباً 60 لاکھ یوآن (تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار 800 امریکی ڈالر) تک پہنچ جاتی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ چینی کھانے، سماجی ماحول اور روزمرہ زندگی کے عادی ہو گئے۔ انہوں نے دیگر ممالک کا سفر کیا لیکن کبھی بھی وہاں خود کو گھر جیسا محسوس نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں رہنا پاکستان میں رہنے جیسا ہی ہے۔2015 کے آس پاس طبی آلات کے کاروبار کو کم کرنے کے بعد انہوں نے اپنے چینی دوستوں کے مشورے پر عود کی تجارت شروع کی اور اسے چینی مارکیٹ میں متعارف کرایا۔انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ 2 دہائیوں کے دوران انہوں نے چین کی بدلتی ہوئی صورتحال کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ سڑکیں بن رہی ہیں اور مکانات بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ میں اپنے فون سے آن لائن شاپنگ کر سکتا ہوں اور سامان سیدھا گھر کی دہلیز پر پہنچا دیا جاتا ہے۔مشرقی تجارتی مراکز کے علاوہ اب چین کے مغربی پیداواری علاقے بھی پاکستانی تاجروں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔90 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے ایک نوجوان پاکستانی تاجر محمد وقار گزشتہ 5سال سے زائد عرصے سے دبئی میں پھلوں اور سبزیوں کی تجارت سے وابستہ ہیں اور وہ وہاں چینی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے سامان خریدا کرتے تھے۔لیکن جیسے ہی چین کے مغربی علاقوں میں نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ اور تجارتی سہولیات میں بہتری آئی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ براہ راست پیداواری علاقوں تک پہنچیں تاکہ سپلائی چین کے آغاز سے تجارت کر سکیں۔وقار اب تک چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ گوئی یانگ کے جامع مربوط زون کے لاجسٹکس سنٹر میں گوئی ژو کے پہاڑی علاقوں میں اگائے جانے والے مالٹے، ادرک اور لہسن سے بھرے کنٹینرز مشرق وسطیٰ بھیجے جانے کے لئے لوڈ کئے جا رہے ہیں۔وقار نے کہا کہ یہاں کی زرعی مصنوعات اعلیٰ معیار کی ہیں اور اچھی طرح محفوظ رہ سکتی ہیں، جو خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ کے لئے موزوں ہیں۔ لائیو ویڈیوز اور تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے گاہکوں کو براہ راست مال کے اصل ذرائع دکھا سکتے ہیں۔مارکیٹ سے ملنے والے مثبت ردعمل سے حوصلہ پا کر وقار نے مصنوعات کے دائرہ کار کو ادرک اور لہسن سے بڑھا کر 10سے زائد اشیاء تک پھیلا دیا ہے اور اب ان کی نظریں گوئی ژو کے کیوی فروٹ اور لیموں پر بھی ہیں۔اس ہفتے انہوں نے گوئی ژو وان ہوئی انٹرنیشنل ٹریڈ کمپنی لمیٹڈ کا دوبارہ دورہ کیا اور وہ اس اندرونی صوبے سے دبئی کے لئے مزید تازہ مصنوعات درآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں سے انہیں مزید عرب ممالک میں دوبارہ برآمد کیا جا سکے۔ آزمائشی طور پر بھیجی جانے والی پہلی کھیپ جو وی ننگ کی گوبھی کے ایک کنٹینر پر مشتمل ہے اور جس کی مالیت ایک لاکھ یوآن سے زائد ہے، گزشتہ ہفتہ کے روز روانہ کی گئی۔انہوں نے گوئی ژو یونیورسٹی میں چینی زبان سیکھنے کے لئے بھی درخواست دی ہے تاکہ وہ مزید مقامی مصنوعات تلاش کرنے کے لئے گوئی ژو میں طویل عرصہ قیام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قدم بہ قدم کوشش کر رہے ہیں۔ ہم پہلے ذرائع تلاش کرتے ہیں اور پھر مصنوعات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میری مستقبل کی مارکیٹ چین میں ہی ہے۔



  تازہ ترین   
آزاد کشمیر: 2 حلقوں کے 23 سٹیشنوں پر ری پولنگ، ایل اے 17 سے فیصل راٹھور کامیاب
سابق فوجیوں کا تجربہ اور رہنمائی پاک فوج کا ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل
وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت
بیوروکریٹس ہی اصل اور مستقل حکمران، کسی نے احتساب نہیں کیا: خواجہ آصف
صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس
دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، آسام، ناگالینڈ، منی پور میں بھی بھارت کا بائیکاٹ
تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے ڈویلپمنٹ بورڈ اور الگ بینک بنانے کی تجویز
ملک بھر میں آج 79 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر