تحریر: منظر نقوی
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا متوقع دورہ چین ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا غیر یقینی صورت حال، جغرافیائی کشیدگیوں اور عالمی طاقت کے بدلتے مراکز سے گزر رہی ہے۔ اس دورے کو نہ صرف چین روس تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر استحکام، تسلسل اور مثبت سفارتی پیش رفت کا پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ رواں سال چین روس اسٹرٹیجک پارٹنرشپ آف کوآرڈینیشن کے قیام کی 30 ویں سالگرہ اور چین روس معاہدۂ اچھی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کی 25 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یہ سنگ میل محض رسمی نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، سیاسی اعتماد اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات و اہم خدشات کی پاسداری پر مبنی ہیں۔
چین اور روس نے اپنے تعلقات کی بنیاد اس اصول پر رکھی ہے کہ ہر ملک کو اپنے قومی حالات کے مطابق ترقی کا راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ یہی سوچ اس شراکت داری کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔ دباؤ، بلاک سیاست یا محاذ آرائی کے بجائے چین روس جامع اسٹرٹیجک پارٹنرشپ مسلسل مکالمے، عملی تعاون اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مسلسل رابطوں نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2013 سے اب تک دونوں رہنما دوطرفہ اور کثیرالجہتی مواقع پر 40 سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے تعلقات کو واضح سمت دی ہے اور سیاسی اعتماد کو مختلف شعبوں میں ٹھوس تعاون میں تبدیل کیا ہے۔
توانائی کا شعبہ چین روس تعلقات کا ایک مضبوط ستون ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، طویل المدتی سپلائی انتظامات اور توانائی کے شعبے میں بڑھتا تعاون دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ اسی طرح تجارتی تعلقات بھی مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ چین کی وزارت تجارت کے مطابق 2025 میں دوطرفہ تجارت تقریباً 228 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو مسلسل تیسرے سال 200 ارب ڈالر سے زائد رہی۔ چین گزشتہ 16 برسوں سے روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے، جو دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کی گہرائی اور تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
تجارت اور توانائی کے علاوہ عوامی سطح کے روابط بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ثقافتی سرگرمیاں، تعلیمی تعاون اور سیاحت دونوں معاشروں کے درمیان باہمی فہم و دوستی کو فروغ دے رہے ہیں۔ رواں سال شروع ہونے والے چین روس سالِ تعلیم کے تحت سینکڑوں تبادلہ پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جو ثقافت، کھیل اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سابقہ کامیاب سرگرمیوں کا تسلسل ہوں گے۔
باہمی ویزا فری پالیسیوں نے بھی عوامی روابط میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ روسی ٹور آپریٹرز کی ایسوسی ایشن کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد چینی سیاحوں نے روس کا دورہ کیا، جو سالانہ بنیادوں پر 44.4 فیصد اضافہ ہے۔ دوسری جانب 2025 میں روسی شہریوں کے چین کے دوروں میں بھی 33.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین روس تعلقات صرف سرکاری بیانات اور سفارتی ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ عوام، طلبہ، سیاحوں اور پیشہ ور افراد تک بھی پھیل رہے ہیں۔
تاہم چین روس تعاون کی اہمیت دوطرفہ تعلقات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ دونوں ممالک عالمی امور میں اہم کردار رکھتے ہیں اور ان کی اسٹرٹیجک ہم آہنگی عالمی نظام کی تشکیل میں اثرانداز ہوتی ہے۔ آج دنیا گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصول دباؤ کا شکار ہیں، جغرافیائی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، یکطرفہ رجحانات بڑھ رہے ہیں اور جنگ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔
ایسے ماحول میں چین اور روس خود کو کثیرالجہتی، عالمی اسٹرٹیجک استحکام اور زیادہ متوازن بین الاقوامی نظام کے حامی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قانون کے احترام اور دوسری جنگ عظیم کے نتائج کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی معاملات کسی ایک طاقت کے زیر اثر یا محاذ آرائی کی سوچ کے تحت نہیں چلنے چاہئیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسے فورمز میں بیجنگ اور ماسکو کی ہم آہنگی بھی بڑھتی اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ یہ پلیٹ فارمز ابھرتی ہوئی معیشتوں اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اپنی آواز بلند کرنے، مفادات کے تحفظ اور زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان فورمز میں تعاون کو مضبوط بنا کر چین اور روس کثیر قطبیت اور بین الاقوامی تعلقات کی جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
پیوٹن کا دورہ چین اس لیے ایک معمول کا سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایسی شراکت داری کی علامت ہے جو بدلتے عالمی حالات میں بھی اپنی سمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ دورہ اس پیغام کو بھی تقویت دے گا کہ بڑی طاقتوں کے تعلقات لازمی طور پر دشمنی، مقابلہ آرائی یا بلاک سیاست پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔
ایک ہنگامہ خیز دنیا کے لیے چین روس تعلقات کا مسلسل استحکام باہمی احترام، ہم آہنگی اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک متبادل ماڈل پیش کرتا ہے۔ عالمی غیر یقینی بڑھنے کے باوجود اس شراکت داری کی مضبوطی علاقائی استحکام، عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی نظام کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔



