بیجنگ (شِنہوا) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی حدت دنیا بھر کے دریاؤں میں آکسیجن کی سطح میں وسیع اور مسلسل کمی کا باعث بن رہی ہے، جس سے میٹھے پانی کے قدرتی نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ تحقیق ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، جسے چین کی سائنس اکیڈمی کے تحت نان جنگ انسٹی ٹیوٹ آف جغرافیہ و آبیات کے محققین کی سربراہی میں انجام دیا گیا۔
محققین نے دنیا بھر میں 21 ہزار سے زائد دریائی حصوں کے تقریباً 40 برس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ انہوں نے 1985 سے 2023 تک آکسیجن کی سطح میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لئے جدید مشینی تجزیاتی ٹیکنالوجی استعمال کی۔
تحقیق کے نتائج تشویشناک ہیں۔ اوسطاً دریاؤں میں ہر دہائی کے دوران آکسیجن کی سطح میں 0.045 ملی گرام فی لیٹر کمی واقع ہو رہی ہے، جبکہ زیر مطالعہ تقریباً 80 فیصد دریاؤں میں آکسیجن کی کمی کے آثار پائے گئے۔
استوائی خطوں کے دریا یعنی وہ دریا جو جنوبی اور شمالی عرض البلد کے 20 درجے کے درمیان واقع ہیں، جن میں بھارت کے کئی دریا بھی شامل ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ نتائج اس سابقہ توقع کے برعکس ہیں کہ زیادہ عرض البلد والے خطوں کے دریا موسمیاتی حدت سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ استوائی دریاؤں میں پہلے ہی آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے اور وہاں آکسیجن تیزی سے مزید کم ہو رہی ہے، جس سے مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لئے خطرناک حد تک کم آکسیجن والے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی میں آکسیجن حل ہونے کی صلاحیت میں کمی اس مسئلے کی بنیادی وجہ ہے، جو مجموعی کمی کا تقریباً 63 فیصد بنتی ہے۔ گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں کم آکسیجن برقرار رکھ سکتا ہے۔ ماحولیاتی نظام کے حیاتیاتی عمل میں تبدیلیاں، جن کا تعلق درجہ حرارت، روشنی اور پانی کے بہاؤ سے ہے، آکسیجن میں مزید 12 فیصد کمی کا باعث بنیں۔
تحقیق کے مطابق شدید گرمی کی لہریں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ شدید گرمی کے واقعات عالمی سطح پر دریاؤں میں آکسیجن کی کمی کے تقریباً 23 فیصد کے ذمہ دار ہیں، جو معمول کے حالات کے مقابلے میں ہر دہائی میں 0.01 ملی گرام فی لیٹر اضافی کمی کا باعث بنتے ہیں۔
محققین نے خبردار کیا کہ آکسیجن کی سطح میں کمی دریائی حیاتیاتی تنوع کے لئے خطرہ بن رہی ہے کیونکہ مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے لئے کم آکسیجن والے پانی میں زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ بالخصوص استوائی خطوں میں موثر حکمت عملی اپنائیں جہاں آکسیجن کی کمی کے بحران سے نمٹنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
موسمیاتی حدت کے باعث دریاؤں میں آکسیجن کی مسلسل کمی، میٹھے پانی کو خطرہ



