اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے شام میں ایک جامع سیاسی انتقال اقتدار کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
فو کانگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ عالمی برادری کی توقع ہے کہ شام مسلح تنازعات کا خاتمہ کرے، امن و امان بحال کرے، جامع نظم و نسق قائم کرے اور سیاسی تبدیلی کے ذریعے مساوی حقوق کو یقینی بنائے۔
فو کانگ نے کہا کہ چین تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عوام کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھیں، باہمی رواداری کا مظاہرہ کریں اور وسیع مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے کشیدگی اور اختلافات کو حل کریں۔
فو نے کہا کہ شام میں استحکام کی کلید دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ہے۔
اگرچہ ملک میں مجموعی طور پر تشدد کی سطح میں کمی آئی ہے تاہم سکیورٹی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ شام میں موجود دہشت گرد گروہ مسلسل بدامنی پیدا کر رہے ہیں جو نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔
فو کانگ نے کہا کہ ہم شام کی عبوری حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے، اپنے سیاسی وعدوں کو عملی پالیسیوں اور اقدامات میں بدلے اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل تمام بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت اور موثر اقدامات کرے۔
فو کانگ نے مزید کہا کہ شام میں امن اور ترقی کا حصول ایک مستحکم بیرونی ماحول کے بغیر ممکن نہیں۔ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور شام کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولان کی پہاڑیاں بین الاقوامی طور پر شام کا مقبوضہ علاقہ تسلیم کی جاتی ہیں اور اسرائیل کو چاہیے کہ وہ شام کی سرزمین پر تمام فوجی کارروائیاں بند کرے اور فوری طور پر انخلا کرے۔
چینی نمائندے کا شام میں سیاسی انتقال اقتدار کو آگے بڑھانے پر زور



