چھونگ چھنگ (شِنہوا) تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے چینی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو تاجکستان میں ترقی کرنے، ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور مستقبل میں اقتصادی و تجارتی تبادلوں اور باہمی مفید تعاون کو مزید فروغ دینے کا خیرمقدم کیا ہے۔
صدر رحمان نے یہ بات چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ کے دورے کے موقع پر کہی۔
انہوں نے کہا کہ وہ آٹوموبائل اور موٹر سائیکل جیسے مینوفیکچرنگ شعبوں میں چین کی ترقی سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔ چھونگ چھنگ پہنچنے کے بعد انہوں نے کار ساز کمپنی ‘سیریس’ کی ایک سپر فیکٹری اور موٹر سائیکل بنانے والے ‘زونگ سین گروپ’ کے ایک انڈسٹریل پارک کا دورہ کیا۔
صدر رحمان کا کہنا تھا کہ چینی مینوفیکچرنگ ادارے آٹومیشن اور سمارٹ مینوفیکچرنگ کے اعلیٰ معیار کے حامل ہیں اور ان دونوں کمپنیوں کی مصنوعات نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاجکستان میں معدنی وسائل کی بہتات اور افرادی قوت کی وافر مقدار موجود ہے اس لئے دونوں فریقین ایک دوسرے کی طاقت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو تاجکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور اپنے آپریشنز قائم کرنے کے لئے خوش آمدید کہا۔
صدر رحمان نے مزید کہا کہ تاجکستان دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تبادلوں کو مسلسل گہرا کرنے اور مستقبل میں مزید عملی تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے تیار ہے۔
حالیہ برسوں میں چین اور تاجکستان کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ 2025 میں دوطرفہ تجارت 30.8 ارب یوآن (تقریباً 4.5 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کی نسبت 12.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
تاجک صدر کا تعاون کے فروغ کے لئے چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم



