کراچی (نیشنل ٹائمز) پاکستان بھر میں اربوں روپے مالیت کی کوکین کی مبینہ سپلائر اور ڈیلر انمول عرف پنکی کو پولیس نے سخت سیکیورٹی اور ہتھکڑی کے بغیر سٹی کورٹ میں پیش کر دیا، جس پر پولیس کے رویے اور سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا۔ دورانِ حراست ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ وہ جلد رہا ہو جائے گی۔ بعد ازاں شعبہ تفتیش پولیس نے اسے عدالت میں پیش کیا، جہاں وہ پُراعتماد انداز میں آگے چلتی رہی جبکہ تفتیشی افسر اس کے پیچھے موجود رہا اور راستہ بھی دکھاتا رہا۔
عدالت میں پیشی کے دوران نہ تو معمول کے ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی انتظامات دکھائی دیے اور نہ ہی ملزمہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ ذرائع کے مطابق انمول پنکی نے اپنے وکیل سے موبائل فون لے کر گفتگو بھی کی اور کمرہ عدالت میں موجود افراد سے خوش گپیوں میں مصروف رہی۔
پولیس نے عدالت سے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ریمانڈ منظور کرنے کے بجائے ابتدائی کسٹڈی دے دی۔ پولیس کی جانب سے انمول پنکی کے خلاف دو مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انمول پنکی نہ صرف پاکستان کی بڑی کوکین ڈیلر ہے بلکہ منشیات کی تیاری کے نیٹ ورک سے بھی وابستہ رہی ہے۔ دوسری جانب اتنے سنگین الزامات میں گرفتار ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی اور غیرمعمولی پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کیے جانے پر مختلف حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
اربوں روپے کی کوکین فروخت کرنے کی ملزمہ انمول پنکی بغیر ہتھکڑی سٹی کورٹ میں پیش، پولیس پروٹوکول پر سوالات اٹھ گئے



