چھونگ چھِنگ (شِنہوا) حال ہی میں چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ کی ایک یونیورسٹی کی لیبارٹری میں کمپیوٹر سائنس کے پاکستانی گریجویٹ طالب علم وسیم حمید اپنے کمپیوٹر سکرین کے سامنے ڈیٹا کے تجزیے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔
اگرچہ سکرین کوڈ کی سطروں سے بھری ہوئی تھی، لیکن حمید کے لئے یہ ان کی مستقبل کی تحقیق کی بنیاد ہے، جس کا تعلق سمارٹ طبی آلات سے ہے اور یہ ان کے اس وژن کا نقطۂ آغاز بھی ہے جس میں وہ مصنوعی ذہانت کو صحت کے شعبے کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں۔
حمید نے صحافیوں کو بتایا کہ چین کی حالیہ برسوں میں تکنیکی اختراع اور صنعتی ترقی میں کامیابیاں ہی وہ بنیادی وجہ ہیں جس کی بنا پر میں نے یہاں تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کیا۔ وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔
کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت طویل عرصے سے ان کی تحقیق کا مرکزی موضوع رہے ہیں۔ تاہم چین میں ایک طبی تجربے نے انہیں اے آئی پلس سمارٹ ہیلتھ کیئر کے شعبے کو زیادہ عملی طور پر سمجھنے میں مدد دی۔
حمید نے بتایا کہ ایک ہسپتال کے چیک اپ کے دوران ایک بڑی سکرین والے سمارٹ طبی آلے نے میرے جسم کو سکین کیا اور فوری طور پر مسئلے کی نشاندہی کر دی۔ ان کے مطابق اے آئی کی مدد سے ڈاکٹروں نے ان کی حالت بہتر طور پر تشخیص کی اور بغیر سرجری کے وہ دواؤں اور انجیکشن کے ذریعے مختصر وقت میں صحت یاب ہو گئے۔
تاریخ کے ہر دور میں معیاری صحت کی سہولیات انسانوں کی بنیادی ضرورت رہی ہیں لیکن آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں طبی وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور طبی ماہرین کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ دیگر کئی ممالک کو بھی درپیش ہیں۔
حمید کی خواہش ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور صحت کے شعبے کے امتزاج پر تحقیق کریں تاکہ زیادہ موثر سمارٹ طبی نظام تیار کئے جا سکیں، تشخیص اور علاج کی رفتار بہتر ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
اساتذہ اور ہم جماعتوں کے مطابق حمید ایک محنتی اور منکسر المزاج طالب علم ہیں۔ ان کی مضبوط انگریزی اور ابلاغی صلاحیتوں نے چینی طلبہ کو بھی ان سے بات چیت اور زبان سیکھنے کی ترغیب دی ہے۔
چھونگ چھنگ یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ادارہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے ساتھ مضبوط تعاون رکھتا ہے۔ اس وقت وہاں 118 پاکستانی طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں زیادہ تر انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور بزنس جیسے شعبوں میں ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ اپنی علمی صلاحیتوں کی بدولت تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چھونگ چھنگ میں تعلیم اور قیام کے دوران حمید نے روایتی چینی طب کا بھی تجربہ کیا جن میں آکوپنکچر شامل ہے جس سے ان کی جسمانی تکلیف میں کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ آکوپنکچر میں درست نکات کی شناخت کے لئے انتہائی مہارت درکار ہوتی ہے۔ اگر مستقبل میں اے آئی ان نکات کی درست نشاندہی کے عمل میں مدد دے سکے تو یہ سیکھنے کی مشکل کو کافی حد تک کم کر دے گا۔ ان کے خیال میں روایتی طب اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج نہ صرف علاج کو بہتر بنائے گا بلکہ روایتی چینی طب کو عالمی سطح پر بھی فروغ دے گا۔
حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کے درمیان خاص طور پر اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعلیمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ حمید اور دیگر کئی پاکستانی طلبہ کے چین میں تجربات اس بڑھتے ہوئے دو طرفہ تعلیمی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔
2025 کی دوسری ششماہی میں چین کی نان کائی یونیورسٹی نے پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے ساتھ تعاون کے معاہدے کئے تاکہ ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جا سکے اور دونوں ممالک کی ترقی کے لئے زیادہ معیاری افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
جنوری 2026 میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے ایک وفد نے ووہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ بزنس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ماحولیاتی جانچ، گندے پانی کی صفائی، نئی توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کی لیبارٹریوں کا معائنہ کیا اور تحقیق، اساتذہ کے تبادلے اور تربیت کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔
چھونگ چھنگ کے دفتر خارجہ کے ایک عہدیدار شیاؤ چھانگ نے کہا کہ پاکستان سمیت گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ چین کا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے جس میں منصوبہ جاتی تعاون اور عوامی سطح پر تبادلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا ایک اہم مغربی شہر ہونے کے ناطے چھونگ چھنگ نے طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھے ہیں اور توقع ہے کہ یہ تعاون مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
حمید کے خیال میں چین کی تیز رفتار ترقی اور سماجی استحکام، اس کے ساتھ ہی چین اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے قائم دوستانہ تعلقات نے پاکستانی طلبہ کے لئے تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے کے لئے ایک سازگار ماحول اور مواقع فراہم کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں میری خواہش ہے کہ میں اپنی تحقیق کے ذریعے چین کی ترقی میں کردار ادا کروں اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو بھی حقیقی فوائد پہنچاؤں۔ اگرچہ میرا حصہ چھوٹا ہوگا لیکن یہ چین اور پاکستان کے باہمی تعاون کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے حمید چاہتے ہیں کہ وہ ایک ممتاز سائنسدان بنیں اور مصنوعی ذہانت کو صحت کے شعبے کے ساتھ جوڑ کر ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو۔
پاکستانی محقق صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا خواہاں



