تہران (شِنہوا) ایران نے امریکہ کو 14 نکاتی جوابی تجویز پیش کی ہے جس میں مخاصمت کے مستقل خاتمے اور خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا جو امریکہ کی 9 نکاتی تجویز کے جواب میں تیار کیا گیا تھا۔
جہاں واشنگٹن کی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کی بات کی گئی ہے، وہیں تہران اہم مسائل کے حل کے لئے 30 دن کی مدت کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مذاکرات عارضی جنگ بندی کے بجائے “جنگ کے خاتمے” پر مرکوز ہوں۔
ایران کے مطالبات میں اس کی سرحدوں کے قریبی علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانتیں شامل ہیں جبکہ معاشی اقدامات میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، پابندیوں میں نرمی اور ہرجانہ ادا کرنا شامل ہے۔
اس تجویز میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی کے خاتمے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کے لئے ایک نئے انتظامی نظام کے قیام کی بھی بات کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران امریکی حکام کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے منگل کے روز پاکستان کے ذریعے مذاکرات کے لئے ایک نئی تجویز بھی پیش کی تھی۔ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ حملے کرتے ہوئے تہران اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا جس میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، سینئر کمانڈرز اور عام شہری شہید ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کی لہر شروع کی۔
8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی جس کے بعد اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تاہم کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
ایرانی میڈیا نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیجی گئی تجاویز کی بعض تفصیلات جاری کر دیں



