بشکیک (شِنہوا) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے نائب سیکرٹری جنرل اولیگ کوپیلوف نے کہا ہے کہ تنظیم کے اندر نظام کی تشکیل میں چین اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے بانی رکن کی حیثیت سے چین نے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد اقدامات کو مسلسل آگے بڑھایا ہے۔ وہ کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں شاہراہ ریشم کے موضوع پر منعقدہ میراتھن میں شرکت کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ستمبر میں منعقدہ تیانجن سربراہ اجلاس تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس تھا اور چین کی جانب سے پیش کی گئی مختلف تجاویز پہلے ہی تنظیم کے کام کا حصہ بن چکی ہیں۔
کوپیلوف نے کہا کہ رواں سال ایس سی او کے قیام کی 25 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ گزشتہ 25 برسوں کے دوران یہ تنظیم جغرافیائی دائرہ کار اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی جامع علاقائی تنظیم بن چکی ہے، جس کے وزارتی سطح کے اجلاس تعلیم، نقل و حمل، ڈیجیٹل ترقی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں تنظیم مزید وسعت اور مضبوطی حاصل کرے گی۔
ایس سی او کی ریاستی سربراہان کونسل کا 26 واں اجلاس رواں سال کے آخر میں کرغزستان میں منعقد ہوگا۔
کوپیلوف نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لئے ٹھوس معاہدوں کا باعثث بنے گا، جن میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی، انتہا پسندی، سرحد پار جرائم اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششیں شامل ہوں گی، نیز جدید چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لئے فوری ردعمل کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم مسلسل تنظیم کی کارکردگی کو بہتر بنا رہے ہیں جو ہماری اہم ترجیحات میں سے ایک ہے۔”
چین کا شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر نظام کی تشکیل میں کلیدی کردار ہے، نائب سیکرٹری جنرل



