افکار پریشان
(حصہ سوئم)

تحریر: عابد حسین قریشی

“عدل بیتی” لکھنے کے بعد جب ہلکے پھلکے سوشل ایشوز پر کالم نگاری شروع کی، تو ساتھ کبھی کبھار خود کلامی بھی کرنا پڑی۔ قبل ازیں دو کالم “افکار پریشان” کے عنوان سے لکھنے پڑے۔ بہت پسند کیے گئے۔ ان میں کچھ ہلکے پھلکے انداز میں اپنا بھی کچھ محاسبہ کرنا پڑا۔ پھر لکھنے کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ تجاہل عادلانہ اور عجز عاجزانہ کی صورت میں دو مزید کتب ایک ہی سال میں منظر عام پر آئیں۔

تو حلقہ احباب میں کچھ تلاطم فطری تھا۔ کہ خاکسار کے ساتھ تو ہنسی مذاق اور گپ شپ اس طرح نتھی ہو چکی تھی، کہ اب اس طرح کی سنجیدہ تحریروں پر دوست احباب کا حیران بلکہ پریشان ہونا تو بنتا تھا، کہ یہ بندہ تو ہماری طرح کا ہی تھا، کس ڈگر پر چل پڑا۔

سچی بات تو یہ ہے، کہ خود ہمیں بھی ٹھیک طرح سے اندازہ یا ادراک نہیں، کہ یہ سب کیسے شروع ہوا، البتہ یہ اللہ تعالٰی کا خاص کرم اور انکے حبیب مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیض و برکت ہے، کہ اچانک کوئی موضوع ذہن میں آتا ہے، اور اس پر قلم رواں ہو جاتا ہے۔

میرا شاید اتنا مطالعہ نہیں جتنا کسی صاحب کتاب کو درکار ہوتا ہے، مگر قدرت نے مجھے مشاہدہ (observation) کی بڑی وافر مقدار ودیعت کر رکھی ہے۔ وہ بات یا واقعہ جو عمومی طور پر ہمارے سامنے عدالتوں میں پیش آتا ہے، اور ہم اکثر اسے بھول بھی جاتے ہیں، وہ اپنے دل و دماغ کے کینوس پر برسوں محفوظ رہتا ہے۔ورنہ اپنے اندر کوئی ایسی خاص خوبی نہیں، جس پر فخر و انبساط کیا جائے۔

لہٰذا جن لوگوں نے میری تینوں کتابیں پڑھی ہیں، انہیں اندازہ ہو گیا ہوگا، کہ ان میں صرف عجز عاجزانہ میرے مطالعہ قرآن کریم اور عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ کے کیف و سر مستی کی مرہون منت ہے، بقیہ دونوں کتابیں عدل بیتی اور تجاہل عادلانہ زیادہ تر ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں مگر ان میں ادبی چاشنی میری طرف سے اور انکی قبولیت اور مقبولیت میرے اللہ کی طرف سے تھیں۔

میرا خیال ہے، خود ستائشی کافی ہوگئی ہے۔ اب ذرا زندگی کے دوسرے پہلو کی طرف بھی چلتے ہیں۔ ویسے اپنی تعریف میں جو مزا ہے، اسکا ایک اپنا نشہ اور سرور ہے، اور وہ اپنی جگہ ایک حقیقت سہی،

مگر جو لطف دوسروں کی کچھائی کرنے میں ہے، اور جو طبیعت میں آسودگی دوسروں پر تنقید کرنے اور انکے عیب ڈھونڈنے میں ہے، وہ اپنی کوتاہیوں اور خامیوں پر نظر دوڑانے میں کہاں۔ اور پھر کسی کی وہ خفیہ خامی جسے باقاعدہ ٹوہ لگا کر ڈھونڈنا پڑے اسے آشکار یا بےنقاب کرنے کا تو لطف ہی اپنا ہے۔

“افکار پریشاں” کی پہلی دو اقساط پڑھ کر جو دوست احباب زندگی میں قریب سے جانتے تھے وہ کھل کر ہنسے بھی اور لطف اندوز بھی ہوئے، جو کم جانتے تھے، انہوں نے بھی تحسین و ستائش کی، کچھ مضطرب و فکر مند بھی ہوئے۔

میرے خیال میں دراصل ان کا قصور بھی نہیں، ہم دوران سروس ذرا ریا کاری اور منافقت سے بچ بچا کر ہی چلے۔ گناہ گار ہوتے ہوئے گناہ گاری تسلیم کرنا مشکل ہے یا گناہ گار ہوتے ہوئے ریا کاری کی چادر اوڑھ کر پارسائی کا دعویٰ کرنا۔ ہم نے پہلا راستہ اختیار کیا۔ مگر ایک احتیاط کی کہ دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھا جائے۔

اپنی پارسائی اور بہادری کے قصے سنانا بڑا آسان ہے۔ اور ہماری اوائل جوڈیشل سروس میں اس طرح کے قصے کہانیاں سنانے کا بڑا مہلک رواج تھا، جو شاید وقت کے ساتھ کم تو نہیں ہوا مگر اسکی شکلیں بدل گئیں۔

آج سے چالیس سال قبل جوڈیشل افسران کی تنخواہیں اتنی کم تھیں کہ بتاتے ہوئے حجاب آتا، مگر عمومی طور پر ججز کا رہن سہن بڑا سادہ ہوتا، مگر سچ پوچھیں تو بڑا محنتی stuff تھا۔ اگر آج ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی کے سول ججز کی ججمنٹس نئے ججز کو دکھائی اور پڑھائی جائیں تو انہیں یقین ہی نہ آئے کہ کس قدر potential تھا اس زمانے کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں۔

اسی ڈسٹرکٹ جوڈیشری نے جسٹس چوہدری فضل کریم اور جسٹس ملک اختر حسن جیسے نامور جج بھی پیدا کئے، جو آج بھی ہمارا فخر ہیں۔ اچھی اور مشکل انگریزی صرف سید ناصر علی شاہ ہی نہیں لکھتے تھے، اور بھی بہت سے اس میدان کے شہسوار تھے، مگر یہ الگ بات کہ شاہ صاحب کی انگریزی ہمیشہ قابل رشک ہی رہی، اور انکی پہچان اور شناخت بھی بنی۔

وسائل کی کمیابی بلکہ عدم دستیابی کے باوجود ہم نے اس دور میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں بہترین ججز پیدا کئے۔ اگر نام لکھنے پہ آجاؤں تو پورا ایک کالم اس کی نذر ہو جائے گا۔ وہ کیا زمانہ تھا کہ زیادہ تر ججمنٹس ہاتھ سے لکھی جاتیں، نہ کمپیوٹر، نہ انٹر نیٹ نہ AI، سب انسانی ذہانت و فطانت اور محنت پر چلتا رہا، مگر خوب چلتا رہا۔

پھر وقت نے کروٹ لی۔ ہماری تنخواہیں بہت بڑھ گئیں، گاڑیاں بھی آگئیں، صرف ایک پنکھے پر منحصر شدہ عدالتیں “ٹھنڈی ٹھار” ہو گئیں، مگر کوالٹی اور کارکردگی میں پہلے والا ٹمپو برقرار نہ رہ سکا۔

ابھی گزشتہ سال پنجاب کے 33 نئے سول ججز کی ٹریننگ ٹیم کا حصہ ہونے کی وجہ سے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ان ججز کو صرف جج کی بجائے ایک آفیسر بنانے کے لئے لگے پھندے طریقہ سے ہٹ کر ٹریننگ کرائی گئی۔ اگرچہ اس بیچ کا سٹف بھی شاندار تھا مگر پھر بھی انہیں Spoken English کے ساتھ ساتھ کھانا کھانے اور کپڑے پہننے کے آداب، گفتگو اور آداب محفل پر بھی تیار کیا گیا۔

ہم پہلے شاید زیادہ تر ضابطہ دیوانی اور فوجداری پر ہی فوکس کرتے رہے، مگر ہمارا اصل grey area ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججز کا confidence level رہا ہے۔ ہماری جوڈیشل سروس اور سول سروس میں بنیادی فرق ہی confidence لیول کا ہے۔ جس دن یہ فرق ختم ہوگیا اس روز جوڈیشل سروس جیسی کوئی دوسری سروس نہ ہوگی۔

(جاری ہے)



  تازہ ترین   
ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز بھیج دیں: ایرانی میڈیا
امریکی صدر نے ایران سے جنگ بندی ختم، دوبارہ حملوں کا اشارہ دے دیا
آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دینے پر ایرانی وزیر خارجہ کا ردعمل آ گیا
8 کروڑ لیٹر ڈیزل کے ساتھ پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز پار کر گیا
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
دہشتگردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے: وزیراعظم
اسرائیل کے لبنان میں حملے تیز، مزید 28 افراد شہید، متعدد زخمی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر