منظر نقوی
چینی سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کی جانب سے حالیہ بیان، جس میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور طاقت کے غیرقانونی استعمال کی مذمت کی گئی ہے، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ عالمی نظام، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، آج شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس کے بنیادی اصولوں کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے اس بحران کی واضح مثال ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم حالیہ عسکری کارروائیاں اس اصول سے انحراف کی عکاسی کرتی ہیں، جس نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھایا بلکہ عالمی قانون کی حیثیت کو بھی کمزور کیا ہے۔
فروری 2026 میں ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر کیے گئے حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ شہری علاقوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک چیلنج ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ عالمی نظام کے لیے ایک امتحان بن چکا ہے۔
ایسے نازک حالات میں پاکستان کا کردار نمایاں اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ پاکستان نے ایک متوازن اور ذمہ دارانہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خود کو ایک غیرجانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد، فریقین کے درمیان رابطے کی بحالی، اور جنگ بندی کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے امن کے قیام میں سنجیدہ کردار ادا کیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پاکستان کی میزبانی اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ یہ اعتماد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی اہمیت کا عکاس ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ سرحدی تعلق، خلیجی ممالک کے ساتھ روابط، اور مغربی دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات اسے ایک منفرد مقام فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت تمام فریقین سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم اصل مسئلہ صرف ثالثی کا نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی بحالی کا ہے۔
اگر طاقتور ممالک اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار سے باہر نکل کر یکطرفہ اقدامات کرتے رہے تو عالمی نظام میں عدم توازن پیدا ہو جائے گا، جہاں قانون کی جگہ طاقت لے لے گی۔ چینی قانونی ادارے کا بیان اسی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے اور عالمی برادری کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اس روش کو روکے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔
ایک طرف اسے داخلی دباؤ اور علاقائی حساسیت کا سامنا ہے، دوسری طرف اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر اپنی ساکھ بنانے کا موقع حاصل ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو مستقل مزاجی اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت بھی بڑھا سکتا ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ صرف مکالمے اور برداشت میں ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عسکری طاقت قانونی جواز کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ایران کو بھی سفارتی عمل کو جاری رکھنے میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ اور عالمی برادری کو مشترکہ طور پر ان اصولوں کی پاسداری کرنی ہوگی جو عالمی امن کی بنیاد ہیں۔
آخرکار، دنیا کے سامنے ایک واضح انتخاب ہے: قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی۔
پاکستان کی ثالثی اس بات کی امید دلاتی ہے کہ اب بھی امن کا راستہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس راستے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا عالمی نظام اس کی قیمت چکائے گا۔



