تحریر: عابد حسین قریشی
کسی صاحب علم و عرفان سے جب یہ خوبصورت جملہ سنا، تو اس نے دل و دماغ پر گہرا اثر کیا۔ معانی و مفاہیم کے کئی در وا ہوتے چلے گئے۔ ہم خدا کو، رب کو اور اللہ کو مانتے تو ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش کب کرتے ہیں۔
اگر اللہ کو ماننے کے ساتھ سمجھنے کی بھی کوشش کی جائے تو توحید کا عقیدہ کچھ عجب ادا سے منکشف ہوتا ہے۔ دلوں کے بند کواڑ کھولتا ہے، خدا کی وحدانیت اپنے پورے مطلب و مفاہیم کے ساتھ کھلتی چلی جاتی ہے۔ خدا اگر ایک راز ہے، تو اسے سمجھنے کے لئے جو بصیرت و دانش درکار ہے، وہی تو عام انسانوں میں مفقود ہے۔
ہم یا تو عقیدت میں خدا کو وحدہ لا شریک مانتے ہیں، یا انکار کی صورت میں ایک خدا کے فلسفہ سے ہی منکر ہو جاتے ہیں، ہم خدا کو سمجھ کر کب مانتے ہیں۔ ہم میں سے کون ہے، جس نے اپنے رب کو دیکھا ہے، مگر وہ تو فرما رہا ہے، کہ وہ رب العالمین ہے۔
وہ ارض و سما کا خالق ہے، وہ عرش اور فرش کا مالک ہے، وہ دنیا پیدا بھی کرنے والا ہے، اسکا نظام بھی چلا رہا ہے، اور اسے ختم بھی ایک روز وہ خود ہی کرے گا۔ اللہ تعالٰی کا کوئی مادی جسم نہیں۔ نہ اسکی کوئی اولاد ہے، بظاہر نظر نہ آنے والا خدا ہمارے چار سو بلکہ ہر سو ہے، وہ تو انسانوں کی شہہ رگ سے بھی قریب ہے۔وہی اللہ جو ہماری دعائیں اور التجائیں سنتا ہے، وہی اللہ جو ہمارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔
اللہ تعالٰی کو جاننا ہے، تو پھر اسکی آخری الہامی کتاب قرآن پاک میں غوطہ زن ہونا پڑے گا۔ جہاں اللہ تعالٰی براہ راست انسانیت سے مخاطب ہے۔ اس کتاب میں اللہ تعالٰی کے بیشمار روپ عیاں ہو رہے ہیں۔ وہ ارض و سما کا نور بھی ہے، سب سے زیادہ رحم کرنے والا، بلکہ رحمت کا ٹھاٹیں مارتا سمندر بھی ہے۔
وہ اس دنیا کا محافظ بھی ہے، جتنا رزق، جتنا پانی جتنی دیگر ضروریات زندگی تھیں اسی رب العالمین نے کائنات کی تشکیل کے وقت ایک اندازے سے زمین میں رکھ دیں۔ وہی اللہ ہوائیں چلاتا ہے، اور وہی جہاں چاہتا ہے، بارش برساتا ہے اور مردہ زمینوں کو زندہ کر دیتا ہے۔
اس کائنات میں پھیلی ہر سو ہریالی، سبزہ، درخت، پھل اور پھول، پہاڑ اور دریا، سمندر اور کہکشائیں سبھی اسی خالق کائنات کی تخلیق ہی تو ہیں۔ اللہ تعالٰی کے concept پر اختلاف لوگ بغیر اسے سمجھے کرتے ہیں۔ مگر منکرین خدا بھی تو دوسرا کوئی خدا پیش نہیں کرتے۔ وہ صرف اس خدا کے ساتھ کئی شریک کھڑے کرتے ہیں، مگر خدا کو سمجھے بغیر۔
اللہ تعالٰی کو سمجھنا کچھ مشکل بھی نہیں، اسکی کتاب مقدس کو پڑھنا شروع کر دیں، وہ سمجھ میں آنا شروع ہو جائے گا۔ اپنے ارد گرد دیکھیں اور اگر یہ بھی ممکن نہیں، تو اپنے وجود پر نظر دوڑا لیں، اللہ تعالٰی سمجھ آجائے گا۔
وہی اللہ جو دلوں کے پوشیدہ راز جانتا ہے، وہ تو اتنا علیم و خبیر ہے، کہ وہ ہمارے وہ اعمال بھی جانتا ہے، جو ہم کرچکے، اور وہ بھی جو ابھی کرنے ہیں، بلکہ وہ ان خیالات سے بھی واقف ہے, جو ہمارے دل و دماغ میں ابھی آئے بھی نہیں۔کیا اس اللہ کو سمجھنا ضروری نہیں، جو کائنات میں پھیلے کم و بیش سات ارب انسانوں کے سارے حال احوال سے واقف ہے۔ جو ان سب کے مقدر بنانے والا اور بدلنے والا ہے، جو ان سب کو پیدا کرنے اور مارنے والا ہے۔ کیا کبھی کسی نے یہ ذمہ داری لینے کی کوشش کی ہے، کہ موت اللہ کے علاوہ بھی کوئی دے سکتا ہے۔ اور کیا کوئی ذی ہوش اپنی مرضی سے وقت مقررہ کے بعد بھی اس دنیا میں زندہ رہ سکتا ہے۔
اتنا باخبر خدا، صرف وہی ہو سکتا ہے، جو زندہ ہے، قائم ہے، اس وقت بھی موجود تھا، جب کچھ نہ تھا، اور اس وقت بھی موجود ہوگا، جب دنیا کے خاتمہ کا بگل بج جائے گا۔ کہ وہی اول ہے اور وہی آخر، وہی ظاہر ہے، اور وہی باطن۔اللہ تعالٰی کو سمجھنے کے لئے یہ یقین کرنا ضروری ہے، کہ اس کے علاوہ نہ کوئی آپ کو نفع پہنچا سکتا ہے، اور اگر اسے منظور نہ ہو تو ساری دنیا بھی آپکا کوئی نقصان نہیں کر سکتی ۔ وہی جسکو چاہتا ہے، ہدایت بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
اتنے طاقتور اور ہمہ گیر اللہ کو کہاں ڈھونڈیں، اپنے دلوں میں، آپ کو ایک مہربان اللہ ملے گا۔ وہ اللہ جس نے یہ کائنات تخلیق کی۔ جس نے سورج اور چاند کو ایک نظم میں پرو دیا۔ نہ سورج ایک منٹ لیٹ نکلتا ہے، نہ چاند اپنی منزل پر پہنچنے میں چند لمحوں کی تاخیر کرتا ہے۔
کائنات کے ذرے ذرے سے قدرت کی رعنائیاں جھلک رہی ہیں۔ روز روشن کی طرح مترشح ہے، کہ کوئی ہستی ہے، جو اس سارے نظام کو سنبھالے ہوئے بھی ہے اور چلا بھی رہی ہے۔
اور آخر میں ذرا عشق و سرمستی کی زبان میں کہ اگر اللہ کو سمجھنا ہے، تو نبی محتشم حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں، کہ ہم نے تو اپنے اللہ کو پہچانا ہی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے ہے،اللہ کو سمجھنا ہے، تو پہلے اللہ کا ہم سے تعارف کرانے والے مصطفٰی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان سے بڑا اور بہتر رازدان خدا اور کون ہو سکتا ہے۔ از حب مصطفٰائی ، دریافتم خدا را۔ (میں نے مصطفٰی کی محبت کے ذریعے خدا کو پا لیا)



