تحریر: سلمان قمر
اپر چناب کینال جو مرالہ کے مقام پر دریائے چناب سے نکلتی ہائیڈرولک انجینئرنگ کا وہ عظیم نمونہ ہے جس نے انڈس بیسن کی جغرافیائی سیاست بدل کر رکھ دی ہے اس پورے نہری نظام کا مرکزی نقطہ بمباں والا ہیڈ ریگولیٹر ہے جو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں واقع ہے یہ ہیڈ ایک اہم سہہ رخی جنکشن کے طور پر کام کرتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں بالائ چناب کے طاقتور پانی کو تین مختلف سمتوں میں انتہائی مہارت سے تقسیم کیا جاتا ہے جو نہ صرف وسطی پنجاب کی زراعت بلکہ پاکستان کی دفاعی سالمیت کے بھی ضامن بنتے ہیں
اس اسٹریٹجک مقام کی تاریخ 1947 کی تقسیم ہند سے وابستہ ہے جب مارچ 1948 میں پانی کی تقسیم کا عارضی معاہدہ ختم ہوا تو بھارتی کنٹرول والے ہیڈ ورکس سے پانی کی اچانک بندش نے لاہور برانچ اور دیپالپور کینال کو مکمل خشک کر دیا تھا اس سنگین صورتحال نے 30 لاکھ ایکڑ اراضی کے بنجر ہونے کا خطرہ پیدا کیا جس کے جواب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب افتخار ممدوٹ نے ہنگامی بنیادوں پر رعیہ برانچ کی توسیع کا تاریخی حکم دیا اور محض دو سال کے مختصر عرصے میں بمباں والا کے 6 گیٹ والے پرانے ریگولیٹر کو 16 گیٹ کے ایک عظیم الشان پاور ہاؤس میں تبدیل کر دیا گیا جس سے بمبانوالہ-راوی-بیدیاں-دیپالپور( بی آر بی ڈی) لنک کینال وجود میں آئی یہ 70 کلومیٹر طویل نہر نہ صرف پانی کی فراہمی کا آزاد ذریعہ بنی بلکہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں لاہور کے سامنے ایک ناقابل تسخیر دفاعی خندق ثابت ہوئی
انجینئرنگ کے اعتبار سے بمباں والا کا موجودہ نظام پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کا ایک بے مثال نمونہ ہے جہاں مین لائن لوئر 11325 کیوسک ڈسچارج اور 18 گیٹس کے ساتھ اپپر چناب کینال کے اس بڑے حصے کو سنبھالتی ہے جو پنجاب کے میدانی علاقوں کی پیاس بجھاتا ہے اسی طرح بی آر بی ڈی لنک کینال 7260 کیوسک ڈسچارج اور 16 گیٹس کے ساتھ لاہور اور دیپالپور کو پانی فراہم کرنے والا وہ اہم اسٹریٹجک بائی پاس ہے جو علاقائی دفاع کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے جبکہ نوکھر برانچ 723 کیوسک ڈسچارج اور 5 گیٹس کے ساتھ خاص طور پر وزیر آباد اور گوجرانوالہ کے ان علاقوں کے لیے وقف ہے جو دنیا بھر میں چاول کی بہترین پیداوار کے لیے مشہور ہیں
مین لائن لوئر اپر چناب کینال کے پورے نظام کا ایک عظیم الشان انجن ہے جو بمباں والا ہیڈ ریگولیٹر سے ایک طاقتور بہاؤ کی صورت میں آگے بڑھتا ہے اپر چناب کینال کی بنیود انگریز وائس راۓ لارڈ ہارڈنگ نے 1912 میں رکھی اس نظام کے سب سے بڑے حصے یعنی پاور ہاؤس کے طور پر اسے 11325 کیوسک ڈسچارج کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی انجینئرنگ میں ساڑھے آٹھ فٹ چوڑائی کے 18 گیٹس شامل کیے گئے ہیں اس اسٹریٹجک جنکشن سے یہ نہر پورے نیٹ ورک کا سب سے زیادہ پانی لے کر جنوب کی طرف روانہ ہوتی ہے اور نندی پور کے مقام پر ضلع گوجرانوالہ میں داخل ہوتی ہے پنجاب کے میدانی علاقوں کے عین درمیان سے گزرتے ہوئے یہ نہر ضلع گوجرانوالہ اور ضلع شیخوپورہ کی وسیع اور زرخیز زمینوں کے لیے زندگی کی علامت بن جاتی ہے یہ نہر اس پورے خطے میں چاول اور گندم کی بھرپور کاشت کو یقینی بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرتی ہے اور بالاآخر شرقپور کے قریب دریائے راوی میں جا گرتی ہے جس سے اس طویل سفر کا اختتام ہوتا ہے جو صوبے کی غذائی حفاظت اور معاشی خوشحالی کی بنیاد ہے
اگرچہ بی آر بی ڈی اپنی دفاعی اہمیت کی وجہ سے زیادہ شہرت رکھتی ہے جبکہ اپر چناب کینال ایک پاور ہاؤس کی مانند ہے تو وہیں نوکھر برانچ اس خطے کی معیشت کے خاموش انجن کے طور پر کام کر رہی ہے جو وزیر آباد کے مشرقی کناروں سے ہوتی ہوئی ضلع گوجرانوالہ کے اندرونی زرعی علاقوں تک پہنچتی ہے یہ نہر دراصل باسمتی بیلٹ کی لائف لائن ہے جو عالمی سطح پر مشہور چاول کی کاشت کے لیے موزوں پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح کو بھی برقرار رکھتی ہے آج بمباں والا کے سرخ اینٹوں کے قدیم محراب اور فولادی گیٹ نوآبادیاتی دور کی پائیدار انجینئرنگ اور قیام پاکستان کے بعد کی قومی محنت کا زندہ ثبوت ہیں جو مرالہ ڈویژن کی نگرانی میں آج بھی پنجاب کے سبز انقلاب اور جغرافیائی دفاع کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔



