تحریر: سعدیہ نارو
۵ جولائی ۲۰۲۴ میں ٹائیگر پیک ٹریک کے دوران میری ملاقات مدثرہ سے ہوئی، جنہوں نے کےٹو ٹریک کیا ہوا تھا۔ ابتدائی تعارف کے بعد ہم دونوں کی گفتگو کا بیشتر حصہ کےٹو ٹریک پر مشتمل تھا۔ تبھی میں نے پہلی دفعہ گونڈوگورو لا کے متعلق سنا۔ مدثرہ کو بڑا ملال تھا کہ وہ گونڈوگورو لا نہیں کر پائیں کیونکہ وہ کےٹو ٹریک کے لیے جون میں گئی تھیں اور اس وقت تک ٹاپ پر چڑھائی اور اُترائی کے رسیاں نہیں لگی تھیں۔ اسی خواہش کی تکمیل کے لیے وہ دوبارہ سے کےٹو ٹریک کا ارادہ رکھتی تھیں۔
اس گفتگو کے بعد میرے دل میں کےٹو ٹریک کی خواہش مزید بڑھ گئی لیکن مجھے گونڈوگورو لا کیے بغیر واپس نہیں آنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنوری ۲۰۲۵ میں میری عمیر احمد سے ٹریک کی معلومات سے متعلق بات ہوئی تو میں نے برملا اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔ عمیر نے بتایا کہ گونڈوگورو لا ان کے پیکیج کا حصہ ہے لیکن مکمل تیاری اور موسم پر گہری نگاہ کے باوجود وہ حتمی طور پر کہنے سے قاصر ہیں کہ گونڈوگورولا ہو پائے گا کہ نہیں۔ چار سالہ ٹریکنگ کے بعد اتنا فہم میں بھی رکھتی تھی کہ پہاڑوں میں ہم قدرت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور بعض اوقات ساری تیاری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔
کےٹو ٹریک پر روانہ ہونے سے پہلے اور اس کے دوران میں مکمل پُر امید تھی کہ میں گونڈوگورو لا کر لوں گی۔ اسکولی سے لے کر کنکورڈیا تک گاہے بگاہے میں ہنستے ہوئے اپنے ساتھی ممبروں سے کہتی رہی کہ مجھے بالتورو کے راستے واپس نہیں آنا۔ لیکن مجھے اس حقیقت کا بھی ادراک تھا کہ خدانخواستہ کسی بیماری، چوٹ یا موسم کی خرابی کی صورت میں یہ خواہش تکمیل کو نہیں پہنچ پائے گی۔
۲۷ جولائی ۲۰۲۵ کو ہماری ٹیم سات دن کی ٹریکنگ کے بعد 4690 میٹر بلندی پر واقع کنکورڈیا پہنچی۔ ۲۸ جولائی ہمارے آرام کا دن تھا۔ان دو دنوں میں ٹیم لیڈر عمیر حسن نے تم گروپ ممبرز کی گذشتہ سات روزہ ٹریکنگ کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا تھا کہ کونسے ممبران گونڈوگورو لا کے لیے علی کیمپ روانہ ہوں گے اور کونسے ممبران کنکورڈیا سے بالتورو کے راستے واپس اسکولی جائیں گے۔ ہم سب جانتے تھے کہ ممبران کے انتخاب میں ان کا فیصلہ حتمی تھا۔ مجھے ہلکی سی گھبراہٹ تھی کہ عمیر مجھے منع نہ کر دیں۔ لیکن انہوں نے میری ہمت افزائی کرتے ہوئے تیاری کا اشارہ دیا۔ تئیس افراد پر مشتمل ہمارے گروپ میں سے چار ممبران ۲۹ جولائی کو گائیڈ اقبال اور اس کی ٹیم کی رہنمائی میں اسکولی کے لیے واپس روانہ ہو گئے جبکہ ہم انیس ممبران ٹیم لیڈر عمیر حسن اور ان کی ٹیم کی رہنمائی میں گونڈوگورو لا کے لیے علی کیمپ کی جانب چل پڑے۔
گونڈوگورو لا (Gondogoro La) جسے آسان زبان میں جی جی لا (GG La) کہا جاتا ہے، دراصل ایک اونچا، برفانی اور خطرناک پہاڑی درہ (mountain pass) ہے۔ یعنی دو گلیشیئرز کے درمیان پہاڑوں میں ایک قدرتی راستہ۔ قراقرم کے پہاڑی علاقے میں ایک طرف برفانی میدان وگنے گلیشیئر (Vigne Glacier) تو دوسری طرف گونڈوگورو گلیشیئر (Gondogoro Glacier) ہے۔ ان کے درمیان میں ایک بہت اونچا دیوار جیسا پہاڑ ہے اور اس دیوار کو پار کرنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے گونڈوگورو لا۔ یہ کوئی عام راستہ نہیں ہے بلکہ برف سے ڈھکی ہوئی عمودی (steep) چڑھائی ہے۔ اس کی بلندی پر آکسیجن کم ہونے کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہوتا ہے۔ دو گلیشیئرز کو ملاتے اس راستے کو پار کرنے کے لیے جسمانی فٹنس ، تجربہ، ہمت اور تکنیکی مہارت ضروری ہے۔
آسان الفاظ میں کہا جائے تو جی جی لا پہاڑ کے اوپر ایک دروازہ ہے، جسے پار کر کے ہم ایک دنیا سے دوسری دنیا میں داخل ہوتے ہو۔ یہ راستہ کنکورڈیا اور بالتورو سائیڈ کو ہوشے ویلی سے جوڑتا ہے۔ 5585 میٹر بلند جی جی لا کو پار کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں:
• یہ کےٹو بیس کیمپ سے واپسی کا متبادل راستہ ہے۔ یہ کےٹو ٹریک کو مکمل کرنے والوں کے لیے ایک سرکلر روٹ بناتا ہے۔ ٹریکرز اسکولی سے کنکورڈیا پہنچتے ہیں اور پھر واپسی کے لیے علی کیمپ سے ہوتے ہوئے گونڈوگورو لا عبور کر کے ہوشے ویلی میں داخل ہو جاتے ہیں۔
• دوسرا جی جی لا سے صاف موسم میں دنیا کا بہترین نظارہ نصیب ہوتا ہے۔ اس ایک جگہ سے ہم کےٹو، براڈ پیک، گیشربرم اور لیلیٰ پیک دیکھ سکتے ہیں۔ یعنی یہ ایک طرح کا “ultimate viewpoint” ہے۔
جی جی لا کا ٹریکنگ روٹ پہلی بار 1986 میں دریافت ہوا۔ اسی روٹ پر ہم انیس ممبران علی کیمپ کی جانب رواں دواں تھے۔ ہم نے تقریباً دس سے بارہ کلومیٹر کا سفر چار سے چھ گھنٹوں میں طے کرنا تھا۔ ہم دو گھنٹے بالتورو کے کنارے پر چلتے ہوئے سوا گیارہ بجے وگنے گلیشئیر میں داخل ہوئے۔ تقریباً 10 کلومیٹر طویل یہ گلیشیئر گونڈوگورو لا تک پہنچنے کا مرکزی راستہ ہے۔
وگنے گلیشئیر ایک برفیلا ہموار میدان ہے لیکن اس پر پھیلی برف کی تہوں کے نیچے خطرناک دراڑیں (crevasses) چھپی ہوتی ہیں۔ گائیڈ نور عالم ہم تین ممبران کی رہنمائی کے لیے ہمارے ہمراہ تھا جبکہ باقی ممبران ہم سے آگے اور پیچھے اپنے اپنے گائیڈز کی نگرانی میں عازمِ سفر تھے۔ گلیشئیر سے پگھلتا ہوا شفاف پانی نالیوں کی صورت بہہ رہا تھا اور بوٹوں تلے برف مسلی جا رہی تھی۔ تقریباً تین گھنٹے چلنے کے بعد ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں دائیں ہاتھ ایک پہاڑ پر علی کیمپ واقع تھا اور یہاں سے گلیشئیر بل کھاتا بائیں جانب متوازی پہاڑی سلسلے کے درمیان آگے کو پھیلا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
وگنے گلیشئیر پر واقع علی کیمپ ایک عارضی لیکن اہم ہائی الٹیٹیوڈ کیمپ ہے۔ یہ کیمپ دنیا کے مشکل ترین اور خوبصورت ٹریکنگ روٹس میں سے ایک ہے۔ اس کیمپ کی اونچائی تقریباً 4800 میٹر ہے۔ اتنی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں آکسیجن کم اور موسم سخت ہوتا ہے۔ علی کیمپ کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ گونڈوگورو لا کراس کرنے سے پہلے آخری عارضی کیمپ ہے جہاں سے لوگ دنیا کے مشکل ترین پہاڑی راستوں میں سے ایک جی جی لا کو عبور کرنے کے لیے آخری تیاری کرتے ہیں۔ یہ ایک اسٹریٹیجک ریسٹ پوائنٹ بھی ہے جہاں جسم کو آخری بار ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
ہم سوا دو بجے علی کیمپ پہنچ گئے۔ ہم سے پہلے پہنچے ساتھی کیمپ کے خیموں میں آرام کر رہے تھے۔ ٹیم لیڈر عمیر حسن نے میرے لیے الگ خیمے کا انتظام کر دیا۔ ہم نے رات کو جی جی لا پار کرنا تھا اس لیے دن میں آرام ضروری تھا۔ شام کو گائیڈ نور عالم میرے خیمے میں دال چاول اور ماؤنٹین ٹی دے گیا۔ اندھیرا ہونے سے پہلے سب نے اپنا سامان باندھ لیا۔ یہاں سے ٹریکرز رات کو روانہ ہوتے ہیں تاکہ صبح تک پاس عبور کر سکیں۔ رات دس بجے نور عالم نے روانگی کے لیے تیار ہونے کا کہا۔ تقریباً ساڑھے دس بجے ہم سب ساتھی ہیڈ لائٹس اور بیگ پہنے چلنے کو تیار کھڑے تھے۔ سفر سے پہلے تمام پورٹرز ایک گروپ کی صورت میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کے بعد نادِ علی کا ورد کرنے لگے۔
تقریباً گیارہ بجے ہم نے جی جی لا کی جانب ٹریکنگ کا آغاز کیا۔ علی کیمپ سے آگے کا حصہ پورے ٹریک کا سب سے مشکل اور خطرناک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اردگرد گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا اور ہر پتھر جیسے آزمائش بن کر سامنے آ رہا تھا۔ ہم متوازن رفتار سے نہایت دیکھ بھال کر پتھروں پر قدم جما کر چلنے لگے۔ شدیدسردی میں پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ ہیڈ لائٹس کی ٹمٹماتی روشنیوں میں ہمارا سفر جاری تھا۔ ہمارے ساتھ ہمارے پورٹرز بھی عازمِ سفر تھے۔ ہر پورٹر نے بیس کلو وزن اُٹھا کر جی جی لا پار کرنا تھا۔ ان کے لباس اور جوتے اگرچہ اس سخت سفر کے متحمل نہیں تھے لیکن ان کی ہمت ان پہاڑوں سے کہیں زیادہ بلند تھی۔
گائیڈ نور عالم کی رہنمائی میں ہم اس پتھریلے اور برفیلے راستے پر تقریباً ڈھائی گھنٹے چلتے رہے۔ برفیلی دراڑوں اور شگافوں سے بھرے اس راستے سے نور عالم بخوبی واقف تھا۔ رات تقریباً ڈیڑھ بجے ہم جی جی لا کی بیس پر پہنچ گئے۔ میرے سامنے ایک برفانی دیوار تھی جس پر روشن نقطے ایک قطار میں حرکت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ دراصل یہ ٹریکرز تھے جو اس برفانی درے پر لگی رسی کی مدد سے اس سرد اندھیری رات میں بلندی کا سفر طے کر رہے تھے۔ جلد ہی میں بھی اس رسی کو تھامے جی جی لا پار کرنے والی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر میرے جسم میں ایک سنسی سی دوڑ گئی۔ وہ وقت اور مقام جس کے متعلق میں نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا اب لمحہ موجود بن چکا تھا۔
جی جی لا پر رسی لگانے کی ذمہ داری ہوشے کے نوجوان نبھاتے ہیں۔ جون کے مہینے میں یہ جوان جی جی لا کی خطرناک ڈھلوانوں پر اینکر جما کر، گرہیں کس کر ٹاپ تک پہنچتے ہیں اور پھر دوسری سمت برف پر رسی لگاتے ہوئے نیچے اُترتے ہیں۔ اس کےبعد علی کیمپ ان کا عارضی گھر بن جاتا ہے۔ یہیں سے ڈیوٹی کا اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ دو افراد جی جی لا ٹاپ کے ریسکیو خیمے میں رات گزارتے ہیں۔ جبکہ باقی نیچے علی کیمپ میں آنے والے قافلوں کے منتظر رہتے ہیں۔ اپنا طے شدہ وقت پورا کر کے وہ دو افراد نیچے علی کیمپ میں واپس آ جاتے ہیں اور نئے دو جوان اوپر ڈیوٹی دینے پہنچ جاتے ہیں۔ جب کوئی گروپ لا عبور کرنے نکلتا ہے تو ریسکیو ٹیم کا ایک ممبر ان کے ہمراہ رہتا ہے۔ یوں جی جی لا کی کراسنگ ان جوانوں کی ہمت اور محنت سے ہی ممکن ہو پاتی ہے۔
جی جی لا پر آدھی رات کے قریب چڑھائی شروع کی جاتی ہے کیونکہ اس وقت برف سخت ہونے کی وجہ سے ایولانچ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جبکہ دن میں برف پگھلنے سے پتھر اور برف گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بیس پر کچھ دیر سستانے کے بعد میں نے ہیلمٹ، کریمپونز اور ہارنیس پہنے۔ میرے سامنے برفانی ڈھلوان تھی جس پر رسی لگی ہوئی تھی۔ میں نے رسی کے ساتھ اپنا ہارنیس اور جمار لگایا اور یوں ایک نا قابلِ واپسی سفر شروع ہو گیا۔ میں رسی پر جمار کی مدد سے قدم قدم آگے بڑھنے لگی۔ میرے گروپ کے چند ساتھی مجھ سے آگے اور باقی پیچھے تھے۔
شروع میں چڑھائی ہلکی لیکن پھر 40–50 ڈگری کی تیز برفانی ڈھلوانیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوئی عام ٹریک نہیں بلکہ نیم تکنیکی چڑھائی تھی۔ کچھ جگہوں پر برف ایسی نرم تھی کہ آدھی ٹانگ اندر دھنس رہی تھی۔ پہلے گزرنے والے لوگوں کے قدموں کے گہرے نشان دیکھ کر میں اندازہ لگاتی کہ مجھے ان پر قدم رکھنا ہے یا زرا فاصلے پر اور یہ فیصلہ فوری اور بنا رکے کرنا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد رسی کی گرہ آتی جو برف پر کھونٹی کے ساتھ بندھی ہوتی۔ وہاں رک کر میں پہلے ہارنیس کھول کر گرہ سے آگے رسی پر اسے لگاتی اور پھر جمار لگا کر آگے بڑھنے لگتی۔
اس وقت جی جی لا کی رسی پر کئی ملکی اور غیر ملکی ٹریکرز کے گروپ قطار میں چڑھائی کا سفر طے کر رہے تھے۔ ایسے میں رسی پر رکنے کا مطلب تھا آپ سے پیچھے آنے والے سب لوگوں کو رکنا پڑے گا اور اتنی سردی میں وہاں زیادہ دیر رکنا باقی ٹریکرز کو تکلیف میں ڈالنا تھا۔ اس لحاظ سے جی جی لا پار کرنا ایک ذاتی ایڈوینچر کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی ذمہ داری بھی تھی۔ رسی پر صرف لمحہ بھر کھڑا ہو کر ہی سستانا ممکن تھا۔ اس سے الگ ہو کر بیٹھنا خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
صبح کے چار بج کر آٹھائیس منٹ پر میں آخری برفیلی چڑھائی طے کر کے اپنے ساتھی عاطف اور گائیڈ نور عالم کے ساتھ جی جی لا ٹاپ پر پہنچ گئی۔ صبح صادق کا وقت تھا اور وہاں ہمارے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ اس دھندلے ماحول میں عجیب سی پراسرار خاموشی تھی۔ آسمان جیسے جھکا ہوا تھا اور ہم بلند و بالا چوٹیوں سے کچھ نیچے ایک برفانی چھت پر کھڑے تھے۔ ٹاپ پر پہنچ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ نہ فتح کا شور تھا، نہ شکست کا اندیشہ۔ بس ایک خاموش سا اعتراف کہ انسان اگر ارادہ کر لے تو اپنے اندر کے اندھیروں، کمزوریوں اور خوف سے بھی اونچا اٹھ سکتا ہے۔ میرے لیے جی جی لا محض ایک درہ نہیں بلکہ ہمت، اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کا ایک امتحان ثابت ہوا تھا۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ لیکن آنکھوں میں نمی تھی۔ نور عالم نے مجھے اس کامیابی پر مبارک باد دی اور میں نے اس کی مدد اور رہنمائی کا صدقِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
قراقرم کے دل میں 5585 میٹر بلند گونڈوگورو لا کی چوٹی پر ہم اپنے باقی ساتھیوں کی آمد کے منتظر کھڑے تھے۔ ہم سے پہلے احتشام، فرحان، بابر اور طہ، کک زمان بھائی کے ساتھ اُترائی کی سمت بڑھ چکے تھے۔ یوں ہم اپنی ٹیم کا دوسرا گروپ تھے جو جی جی لا پر پہنچے تھے۔ ہمیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا اور کچھ ہی وقت میں باقی سب ساتھی بھی ٹاپ پر پہنچ گئے۔ ٹیم لیڈر عمیر حسن نے میری حوصلہ افزائی کی اور کامیابی پر شاباش دی۔ پھر انہوں نے پوری ٹیم کی سلامتی اور کامرانی پر شکرانے کے نفل ادا کیے۔ کامیابی کے یہ قابلِ فخر اور یادگار لمحات تصویروں میں محفوظ ہورہے تھے۔
اسی اثنا میں آہستہ آہستہ پو پھٹنے لگی اور دھند کی دبیز تہیں آہستہ آہستہ چھٹ گئیں۔ روشنی پھیلی تو گرد و پیش کا منظر واضح ہونے لگا۔ ہمارے سروں پر سرمئی بادلوں کی چادر تنی تھی، مگر افق کے کناروں سے جھانکتی روشنی برفانی دنیا کو بیدار کر رہی تھی۔ صاف موسم میں اس بلند درے سے چار آٹھ ہزار میٹر سے بلند دیو قامت پہاڑ کےٹو (۸۶۱۱ میٹر)، براڈ پیک (۸۰۵۱ میٹر)، گیشربرم ون (۸۰۶۸ میٹر) اور گیشربرم ٹو (۸۰۳۵ میٹر) کی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جب فضا شفاف ہو تو یہ چاروں عظیم الشان پہاڑ ایک ہی منظر میں یوں سمٹ آتے ہیں کہ دنیا میں کم ہی مقامات ایسے ہوں گے جہاں یہ جلال ایک ساتھ دکھائی دے۔
ان کے علاوہ میشر برم (۷۸۲۱ میٹر) ہوشے ویلی کی سمت اپنی پوری شان سے نمایاں ہوتا ہے جبکہ لیلیٰ پیک (۶۰۹۶ میٹر) اپنی مخروطی، نیزہ نما ساخت کے باعث فوراً پہچان لیا جاتا ہے۔ گیشربرم تھری اور گیشربرم فور بھی اپنی ہیبت کا احساس دلاتے نظر آتے ہیں۔ بالتورو اور ہوشے کے اطراف پھیلی ہوئی سات ہزار میٹر سے بلند برف پوش اور گرینائٹ کی نوکیلی چوٹیاں اس منظر کو مزید شاندار بنا دیتی ہیں۔
ان چوٹیوں کے واضح نظارے کے لیے موسم کا مہربان ہونا ضروری ہے اور اس کے لئے عموماً صبحِ صادق کے لمحات سب سے زیادہ شفاف ہوتے ہیں۔ اس صبح قسمت ہم پر واقعی مہربان تھی۔ جی جی لا سے ان چوٹیوں کا نظارہ جادوئی محسوس ہو رہا تھا۔ خون جما دینے والی سردی میں ہم نے جی جی لا پر پونا گھنٹہ گزارا اور سوا پانچ بجے برفانی سطح چھوڑ کر اُترائی کی طرف قدم بڑھانے کا ارادہ کیا۔ اُترائی کو دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اصل مہم تو اب شروع ہونے والی تھی۔ پہاڑ کی ڈھلان کے ساتھ ایک سخت پتھریلی اُترائی تھی جس پر رسی جھول رہی تھی۔ اسی رسی کو تھام کر نہایت نپے تلے قدموں سے ہمیں نیچے اترنا تھا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات یہاں نمایاں تھے۔ ہر سال برف کم پڑ رہی ہے اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اسے جلد پگھلا دیتا ہے۔ اسی باعث اس مرتبہ جی جی لا کی اُترائی پر برف کا نام و نشان تک نہ تھا۔ قدم رکھتے ہوئے ذرا سی بے احتیاطی سے ڈھلوان پر ٹکے پتھر لڑھک کر نیچے جانے والوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ اس لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس لیے ہم نہایت محتاط انداز میں رسی کے سہارے نشیب کی جانب بڑھنے لگے۔ گائیڈز بتا رہے تھے کہ ماضی میں یہی ڈھلان برف سے ڈھکی ہوتی تھی اور اس پر اُترنا نسبتاً آسان ہوتا تھا۔
میں نے رسی کے ساتھ اپنا کیرابینر فِکس کیا اور اُترائی کا آغاز کر دیا۔ میرے پیچھے گروپ کے دیگر اراکین تھے۔ اصول یہی تھا کہ ہر فرد مناسب فاصلہ رکھے، مسلسل چلتا رہے اور اگر اس کے قدم سے کوئی پتھر لڑھکے تو بلند آواز میں “Rock” کہہ کر نیچے جانے والوں کو خبردار کرے۔ ابھی ہم نے رفتار پکڑی ہی تھی کہ اوپر سے “راک۔۔۔ راک۔۔۔” کا شور سنائی دیا۔ میں نے گھبرا کر سر اٹھایا تو بائیں جانب سے پتھر خوفناک آوازوں کے ساتھ تیزی سے لڑھکتے گزر رہے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھی سمیع ایک پتھر لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، جبکہ ایک جرمن ٹریکر بھی ان کی زد میں آیا مگر خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔
ہم پوری احتیاط اور حوصلے کے ساتھ رسی تھامے اترتے رہے۔ ہر گرہ پر قدم جما کر ایک ہاتھ سے رسی پکڑتے اور دوسرے سے کیرابینر کھول کر اگلی گرہ میں لگا دیتے۔ ایک مقام پر ڈھلوان اس قدر دشوار تھی کہ مجھے ریسکیو گروپ کے ایک لڑکے کی مدد لینی پڑی۔ وہ مجھ سے آگے اپنا جوتا جما کر کھڑا ہوتا اور میں اس کے قدم کے ساتھ قدم رکھتے ہوئے نیچے اترنے لگی۔ وہ مشکل حصہ پار کروانے کے بعد واپس اوپر کیمپ کی طرف لوٹ گیا۔ واپسی کا یہ راستہ بنیادی ماؤنٹینیرنگ اسکلز اور اچھی فٹنس مانگتا ہے۔ حقیقت میں یہ عام ٹریک نہیں بلکہ خطرناک اور تکنیکی راستہ تھا۔ اسی وجہ سے اترائی پر نسبتاً زیادہ حادثات پیش آتے ہیں۔
تقریباً دو گھنٹے کی جان لیوا اُترائی کے بعد رسی ختم ہو گئی۔ سوا سات بجے کے قریب ہم اس سے الگ ہوئے، مگر ڈھلوان اب بھی باقی تھی۔ ہم تیزی سے گونڈوگورو گلیشئیر پر خسپانگ کیمپ سائٹ کی جانب بڑھتے رہے۔ تقریباً ساڑھے نو بجے ہم اُترائی مکمل کر کے ایک خوشنما جھیل کے کنارے نسبتاً ہموار جگہ پر پہنچے تو بارش شروع ہو گئی۔ جوں جوں ہم خسپانگ کی سمت بڑھ رہے تھے، برفانی سطح کی جگہ سبزہ نمودار ہونے لگا تھا۔ خود رو پودے، خوشنما پھول اور دور سے آتی پرندوں کی آوازیں، یہ سب ہمیں ایک نئی دنیا میں لے آئے تھے۔ مسلسل برستی بارش میں ہم تقریباً چھ گھنٹے چلنے کے بعد ساڑھے گیارہ بجے رنگ برنگے خیموں سے سجی 4600 میٹر بلندی پر واقع خسپانگ کیمپ سائٹ پہنچ گئے۔
علی کیمپ سے خسپانگ تک بارہ گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہم سب تھکن سے چور تھے۔ بھوک اور پچھلی رات کی بیداری کے باوجود ہر چہرہ مسکراہٹ سے روشن تھا اور آنکھوں سے کامیابی کا اطمینان جھلک رہا تھا۔ اس رات لمبے انتظار کے بعد تازہ اور گرم کھانا کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ کھانے کے بعد سب ممبران نے اپنے خیموں کا رُخ کیا کہ اگلی صبح ہمیں سائیچو کی طرف واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔



