تحریر: سجاد اظہر
ایران، امریکہ اور اسرائیل کی 39 روزہ جنگ محض تین ملکوں کے درمیان مسلح تصادم نہیں تھا بلکہ اس نے تمام خلیجی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ اگر ٹرمپ کے الٹی میٹم تک یہ جنگ نہ رکتی تو یہ کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ نجانے اور کتنی ممالک براہِ راست اس جنگ کی لپیٹ میں آتے۔ دنیا میں کتنے ہزاروں لاکھوں لوگ مارے جاتے۔ توانائی کی سپلائی کا ڈھانچہ تباہ ہونے سے اگلے کتنے سالوں تک دنیا مہنگائی اور بے روزگاری میں دھنسی رہتی۔
یہ جنگ جب شروع ہوئی تھی تو ایران کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی، جو بعد میں حملے میں مارے گئے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ایران اپنی چھ ہزار سالہ تاریخ کا دفاع کرے گا۔ ایران کا مقابلہ امریکہ اور اسرائیل سے تھا۔ امریکہ کم و بیش پچھلے 125 سال سے دنیا میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ اسرائیل کی یہودی تہذیب بھی کم و بیش ساڑھے چار ہزار سال قدیم ہے۔ جنگ کا الٹی میٹم دیتے وقت امریکی صدر ٹرمپ نے بھی صرف ایران کو نہیں بلکہ اس کی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب کو نشانے پر رکھتے ہوئے ٹرتھ سوشل پر پیغام دیا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب دنیا سے ختم ہو جائے گی اور اسے دنیا سے واپس نہیں لایا جا سکے گا۔‘
بتایا جاتا ہے کہ تباہ کن ہتھیاروں سے لیس امریکہ کے بی 52 بمبار طیارے ایران پر قہر برسانے کے لیے اڑان بھر چکے تھے کہ ایسے میں پاکستان کی جانب سے امن کی کوششیں رنگ لائیں۔ وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آئی جس میں انہوں نے لکھا کہ فریقین دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر آمادہ ہو جائیں اور امن کو ایک موقع دیں۔ جس پر امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہوں نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے گفتگو کی ہے جس میں ایران پر ہونے والے حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کیا جا رہا ہے۔
امن کے اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی گنا جا رہا ہے جس کا چرچا پوری دنیا کے میڈیا پر ہو رہا ہے۔ اگر ہم اس کا تہذیبی سطح پر جائزہ لیں تو پاکستان صرف وہ نہیں جو 1947 میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا بلکہ پاکستان وہ ہے جو دنیا کی قدیم ترین سندھ تہذیب کا امین ہے جو کم و بیش آٹھ سے دس ہزار سال پرانی ہے۔ حالیہ بحران میں پاکستان نے جس طرح اپنا کردار نبھایا ہے، اس کے پیچھے اس کی صدیوں کی نہیں بلکہ ہزاریوں کی دانش کا بھی ہاتھ ہے۔ اس کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت دراصل اسی تہذیب کی امین ہے۔
سندھ تہذیب جو آٹھ ہزار سالہ قدیم ہو سکتی ہے۔
وادیٔ سندھ کی تہذیبوں کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ جب 1949 میں انڈیا کے آئین میں ریاست کا نام انڈیا رکھا گیا تو اس وقت سر جان مارشل، جو تقسیم سے پہلے ہندوستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے سربراہ رہ چکے تھے، انہوں نے حکومتِ پاکستان کو خط لکھا تھا کہ ’وادیٔ سندھ کے تمام آثار پاکستان میں آتے ہیں اس لیے لفظ انڈیا پر اصولی طور پر پاکستان کا حق زیادہ بنتا ہے، ہندوستان کو اسے استعمال کرنے کا حق تہذیبی طور پر حاصل نہیں ہے۔‘
لیکن پاکستان میں چونکہ سرکاری سطح پر جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہ 712 میں محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے سے شروع ہوتی ہے، اس لیے پاکستان کے باسی یہ نہیں جانتے کہ ان کی تاریخ کتنی قدیم ہے اور وہ کتنی عظیم تاریخ کے امین ہیں۔ وادیٔ سندھ کے قدیم شہروں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے بارے میں پہلے یہ نظریہ تھا کہ یہ ساڑھے تین سے ساڑھے چار ہزار سال قدیم ہو سکتے ہیں، مگر حالیہ دور میں انڈیا کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ہڑپہ سے جڑے بھڑانہ کے آثار کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سندھ تہذیب کی قدامت کی جڑیں 8000 سال پیچھے تک جا سکتی ہیں۔
اگر یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو پھر سندھ تہذیب کا آغاز مصر کے پہلے فرعونوں کے دور سے بھی پہلا مانا جائے گا۔ اس سے پہلے بلوچستان میں مہر گڑھ کے آثار کو سندھ تہذیب سے بھی قدیم مانا جاتا ہے جو سات سے آٹھ ہزار سال پہلے کے ہیں۔ یہاں کی تہذیب کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں سے ایک ایسا انسانی دانت ملا ہے جس کی روٹ کینال ہوئی تھی۔
مہر گڑھ کو دنیا کی اس اوّلین بستی کا بھی اعزاز حاصل ہے جہاں خانہ بدوش زندگی منظم ہو کر ایک زرعی سماج میں ڈھلی تھی۔ گویا آج کا پاکستان تہذیبی طور پر عراق اور مصر کی تہذیبوں سے زیادہ قدیم تہذیبوں کا امین ہے۔
پاکستان جہاں پہلے حجری دور کا انسان رہتا تھا
سبطِ حسن اپنی معروف کتاب ’پاکستان میں تہذیب کا ارتقا‘ میں لکھتے ہیں کہ پہلے حجری دور کے آثار پاکستان میں پوٹھوہار کے علاقے میں دریائے سواں کے کنارے ملے ہیں۔ یہ دریا راولپنڈی اسلام آباد کے بیچ بہتا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور کالا باغ کے قریب دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔
اس دریا کے کناروں سے پتھروں سے بنی کلہاڑیاں اور چاقو وغیرہ ملے ہیں جن سے اس دور کا انسان شکار کرتا تھا اور گوشت کاٹنے کا کام لیتا تھا۔ اس دور کا انسان غاروں اور درختوں پر رہتا تھا۔ ایسے غار ہزارہ اور مردان کے علاقوں میں بھی دریافت ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلا حجری دور، جس کی عکاسی سواں سے ملنے والے اوزار کرتے ہیں، یہ 20 لاکھ سال تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کے علاوہ پہلے حجری دور کے اوزار کینیا اور ایتھوپیا سے بھی دریافت ہو چکے ہیں۔
جبکہ برطانیہ میں ملنے والے پتھر کے اوزار بھی نو لاکھ سال تک قدیم بیان کیے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کو صرف تہذیبوں کی قدامت میں ہی دنیا پر سبقت حاصل نہیں بلکہ تہذیبوں سے پہلے کا دور جسے ’سٹون ایج‘ (Stone Age) کہا جاتا ہے، اس کے انسانی شواہد بھی یہاں مل چکے ہیں۔
سبطِ حسن کے بقول: ’محققین نے سوانی تہذیب، ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی شہری تہذیب کے درمیان اب تک چار دیہی یا زرعی تہذیبیں دریافت کی ہیں، جن میں کوئٹہ تہذیب (وسطی بلوچستان)، امری نل تہذیب (وسطی اور بالائی سندھ)، کلی تہذیب (جنوبی بلوچستان) اور ژوب تہذیب (شمالی بلوچستان) شامل ہیں۔ ان چاروں تہذیبوں میں بعض باتیں مشترک ہیں اور کچھ فرق بھی ہیں، مثلاً زراعت ان کی مشترکہ خصوصیت تھی جن کے اوزار پتھروں کے بنے ہوئے تھے۔ وہ اناج بھی پتھر کی چکیوں میں پیستے تھے۔ پتھر کے چاک پر مٹی کے نقشی برتن بناتے تھے‘۔ سندھ تہذیب کے ان قدیم شہروں میں نہ تو کسی طبقاتی تقسیم کے آثار ملتے ہیں نہ ہی کسی مذہبی عبادت گاہ کے، جس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ قدیم سماج آزاد خیال پر استوار ہوا تھا۔
پاکستان اپنی تہذیبی شناخت کو کب اپنائے گا؟
سماج جتنا قدیم ہو گا وہ اپنے نفع و نقصان کے بارے میں اتنا ہی زیادہ حساس ہو گا۔ کیونکہ اس کی نظر مسلسل اپنی تاریخ پر ہوتی ہے؛ وہ اپنی تاریخ سے سیکھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ وہ ایک ایسی اجتماعی دانش اختیار کر لیتا ہے جہاں وہ زیادہ ذمہ داری سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔
پاکستان کو گذشتہ سال مئی میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن پر جو جنگی سبقت حاصل ہوئی ہے، اس نے اسے اقوامِ عالم میں ممتاز مقام دلا دیا ہے۔ حالیہ ایران، امریکہ، اسرائیل تنازعہ میں امن کی کنجی جس طریقے سے پاکستان نے استعمال کی ہے، پوری دنیا اس کی معترف ہو چکی ہے۔
اب یہ ضروری ہے کہ پاکستان اس بات کا بھی پرچار کرے کہ وہ دنیا کی سب سے قدیم تہذیب کا امین ہے جہاں پتھر کے دور کے انسان سے لے کر آٹھ ہزار سال پہلے کے اُس انسان کے شواہد بھی ہیں جس نے غاروں سے نکل کر زرعی اور شہری سماج کی بنیاد رکھی تھی۔
پاکستان اپنی اس خاصیت کو، جو دنیا میں چند ایک ملکوں کے پاس ہی ہے، اسے خود بھی تسلیم کرے اور دنیا کو بھی تسلیم کروائے، تاکہ دنیا پاکستان کو ایک انتہا پسند، داخلی و خارجی تنازعات میں گھرے ملک کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کرے جو ہزاروں سال کی اجتماعی دانش لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا میں امن، سلامتی اور خوشحالی کا ضامن بن کر سامنے آ رہا ہے۔



