اسلام آباد (شِنہوا) مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی خاطر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لئے امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد آمد کے پیش نظر سکیورٹی اور دیگر انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں،یہ مذاکرات حال ہی میں اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں۔ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایک ساتھ بیٹھیں گے اور اس کا مقصد ہفتوں سے جاری تنازع کے بعد ایک طویل المدتی حل تک پہنچنے کی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔مذاکرات میں سہولت کاری کی خاطر پاکستان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے اسلام آباد آنے والے تمام افراد کو آمد پر ویزا دیا جائے گا اور متعلقہ تمام ایئرلائنز سے کہا گیا ہے کہ وہ ان افراد کو سوار ہونے کی اجازت دیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو کہا کہ تمام غیر ملکی مندوبین کی مکمل سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔اسلام آباد میں حکام نے مذاکرات سے قبل سکیورٹی کے سخت اقدامات کئے ہیں۔جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔ پولیس، نیم فوجی دستے اور دیگر سکیورٹی ادارے بلیو بک وی وی آئی پی پروٹوکول کے تحت تعینات کئے گئے ہیں جبکہ غیر ملکی وفود کی آمدورفت کے لئے علیحدہ راستے مقرر کئے گئے ہیں۔اسلام آباد پولیس نے ایک ٹریفک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے مسافروں کو ایکسپریس ہائی وے کے متبادل راستوں سے آگاہ کیا ہے۔ ریسکیو سروسز اور ہسپتالوں کو انتہائی چوکس کردیا گیا ہے۔ ریڈ زون میں واقع فائیوسٹار ہوٹل سیرینا کو وفود کے لئے مختص کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے قیام کے دوران دارالحکومت کے کئی داخلی راستے بند رہیں گے۔دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے علاقائی رہنماؤں سے مشاورت کی اور تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی غیر جانبداری اور تمام فریقین کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اسے مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھانے میں ایک خاص فائدہ دیتے ہیں۔ریٹائرڈ بریگیڈیئر اور علاقائی سکیورٹی تجزیہ کار تغرل یامین نے ان مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کی کامیابی کو ایک قابل ذکر کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو انتہائی عدم اعتماد رکھنے والے فریقوں کو ایک ساتھ لانا پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا یہ امن کے حصول کے لئے پاکستان کے عزم اور خطرات مول لینے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے جمعرات کو دنیا بھر کے کئی ہم منصبوں اور اعلیٰ حکام سے ٹیلی فون پرگفتگو کی، جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مزید کشیدگی روکنے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے کے لئے مربوط عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے حوالے سے “انتہائی پرامید” ہیں اور یہ معاہدہ جلد ممکن ہو سکتا ہے، نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات کئے جا سکیں۔تاہم کئی تجزیہ کار مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی توقع کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار یامین نے کہا کہ اصل مسئلہ ایک ایسا حل نکالنا ہے جو دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو جس کے لئے حقیقت پسندی، لچک اور محتاط رعایتوں کی ضرورت ہوگی۔
سخت سکیورٹی، ویزا آسانی: اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے لئے بھرپور انتظامات



