تحریر: عابد حسین قریشی
ایران امریکہ جنگ کے بعد جو بات سمجھ آئی ہے، کہ ہم ایک غیر مہذب دور میں زندہ ہیں۔ یہاں جمہوریت ایک نعرہ محض بلکہ ڈھکوسلہ ہے۔ جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا اصول پوری طرح حاوی ہے۔ طاقت ور کا مطلب کمزور کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ وینزویلا کے صدر اور اسکی اہلیہ کو جس ڈھٹائی سے اغوا کرکے امریکہ پہنچایا جاتا ہے، وہ اس بات کو تقویت دیتا ہے، کہ یہاں صرف وسائل کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ ساتھ طاقت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ طاقتور ہیں، تو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کیا وینزویلا کے صدر کے اغوا اور اس ملک کے تیل پر امریکی قبضہ پر دنیا کے کسی مہزب ملک یا ادارہ نے احتجاج کیا ہے؟۔ یہ تو ہمیں ایرانی قوم کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ طاقتور کے سامنے ڈٹ گئے، اور مسلمانوں کا بھرم رکھا، ورنہ باقی مسلم امہ تو شاید دنیا کا صرف چکر لگانے ہی آئی تھی۔ ایران اور خلیج کا تیل ہی تو امریکہ کا ہدف تھا، باقی تو سب نعرے تھے۔ ہمارا اپنا بھی یہی حال ہے۔ آج اگر اقوام عالم میں پاکستان کا وقار قائم ہوا ہے، عزت بڑھی ہے، تو وہ ہماری عسکری طاقت کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے، جسکا مظاہرہ ہم نے گزشتہ سال پاک بھارت جنگ میں دنیا کو دکھایا اور ہر کسی کو حیران و ششدر کر دیا، ورنہ قرضوں میں جکڑا ، IMF کے شکنجے میں پھنسا ہوا اور بیشمار اندورنی تضادات میں گرفتار ملک کس طرح اتنی عزت پا سکتا تھا۔ یہ سب اللہ تعالٰی کے کرم اور ہماری عسکری طاقت کی وجہ سے ہوا اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ آپ کے پاس بیشمار گیس اور تیل کے ذخائر ہوں، آپکے زر مبادلہ کے ذخائر بھی بلینز اور ٹریلنز میں ہوں، مگر لڑنے والی فوج اور فضائیہ نہ ہو، تو پھر وہی حال ہوتا ہے، جو ایران نے امیر خلیجی ریاستوں کا کیا ہے۔ بلا شبہ ہم کسی مہذب دور میں نہیں رہ رہے۔ یہاں عزت سے زندہ رہنا ہے، تو تگڑی فوج، جدید ترین فضائیہ اور ہنر مند اور مستعد نیوی درکار ہیں۔ اسرائیل کا صرف ایران ہدف نہیں، اسکا ہر مسلمان ملک دشمن ہے۔



